08:01 am
حیا ایمان کا حصہ اورمؤمن کی پہچان

حیا ایمان کا حصہ اورمؤمن کی پہچان

08:01 am

ایک مومن کا دوسرے مومن سے باہمی برتاؤ ، اخوت و خیرخواہی والا ہونا چاہیے‘ نبی کریمﷺ فرمایا:
’’دین خیرخواہی کا نام ہے‘‘ پھر یہ بھی واضح کردیا کہ کس کس کے لیے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لئے‘ اللہ تعالیٰ کے رسول کے لئے‘ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے لئے‘ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والوںکے لیے‘‘(الحدیث) ایک مومن کو انہی اَخلاق کا پیکر ہونا چاہیے جواللہ تعالیٰ کو اس سے مطلوب ہیں، اور پھر وہ اخلاق اپنے اندر پیدا بھی اس لیے کرنے چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو، ورنہ محض دنیا کے مفادات کے لیے اور آخرت سے غافل ہو کر بظاہر کیسے ہی اچھے اخلاق کیوں نہ دِکھائے جائیں وہ انسان کے کسی کام نہیں آئیں گے
اور کل قیامت کے دن ایسے شخص کی کامیابی والا نامۂ اعمال ان سے بالکل خالی ہوگا۔ بتلا دیا گیا ہے:
’’جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گااور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا‘‘(القرآن)
اخلاقیات میں پہلا مرتبہ سچ کا اور بداخلاقی میں پہلا نمبر جھوٹ کا ہے۔ اسی لیے بتلا دیا گیا: ’’تم لوگ سچ کو لازم پکڑو، کیوں کہ سچائی نیکی کی راہ پر چلاتی ہے اور نیکی جنت تک پہنچاتی ہے، اور جو شخص ہمیشہ سچا رہتا ہے اور سچائی کی ہی تلاش میں رہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی سچا لکھ دیا جاتا ہے اور تم لوگ جھوٹ سے بہت زیادہ اجتناب کرو، کیوں کہ جھوٹ بدکاری کی راہ دِکھاتا ہے اور بدکاری جہنم تک پہنچادیتی ہے، اور جو شخص جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کی ہی جستجو میں لگا رہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا  ہے‘‘ (بخاری و مسلم)
پھردوسرے درجے میں ’’نرمی‘‘ ہے، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے نرم اور رحم دل ہوتا ہے۔ قرآن نے کہا ’’رحماء بینہم‘‘ آپس میں رحم دل ہیں اور رسول اللہﷺ نے بتلایا: جو شخص نرمی سے محروم کردیاگیا، وہ بھلائی سے ہی محروم کر دیا گیا(مسلم)
اصحاب کہف کو دیکھئے کہ جب وہ تکوینی طویل نیند سے بیدار ہوئے اور انہیں بھوک محسوس ہوئی اور اب سوچا کہ کسی کو باہر بھیجا جائے جو سب کے لیے کھانا لائے اور ان کے ذہنوں میں یہ بھی تھا کہ باہر شہر کی آبادی  تو کفار کی ہے اور وہ ہمارے دشمن ہیں، تو جسے کھانا لانے کے لیے بھیجا اسے یہ ہدایت بھی دی: و لیتلطف(الکہف) ’’نرمی والا برتاؤ کرنا‘‘
کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ دشمن ہماری تاک میںہے، اس لیے ہوسکتا ہے کہ بے جاکسی سے لڑائی جھگڑا کر لیا تو ہمارا راز فاش ہوسکتا ہے۔ جی ہاں ! یہ اسلام کی تعلیمات ہیں کہ عین دشمنوں کے بیچ خود کو کس طرح رکھنا ہے اور اپنے رازوں کو کس طرح بچانا ہے، ایک لفظ میں اس پوری بات کو سمیٹ دیا۔ 
تیسرا درجہ اس بات کا ہے کہ مسلم معاشرے میں اس طرح رہو کہ تمہارے سبب کسی کو تکلیف نہ ہو اور خوف نہ ہو بلکہ ان کی آمد و رفت آسان رہے اور انہیںتم سے امن و عافیت کا سامان حاصل ہو۔ اسی لیے  تو یہ ہدایت کی: ’’تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے پرہیز کرو‘‘
دیکھ لیجیے کہ آج کل گلی محلے میں کتنے ہی نوجوان بس صبح و شام گلیوں کی نکڑوں پر ڈیرے جمائے رکھتے ہیں اور اس کے سبب معاشرے میں مختلف قسم کی انارکی اور بے حیائی بھی جنم لیتی ہے۔
پھر اپنی ذات کی حد تک جو چیز سب سے اچھی ہے وہ ’’حیاء‘‘ ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’حیاء ایمان کا حصہ ہے‘‘ (بخاری و مسلم)
حیاء کا تعلق صرف دیکھنے اور نظروں سے نہیں ہوتا، بلکہ انسان کے پورے وجود سے ہوتا ہے۔ چال چلن حیاء والا، نظریں حیاء والی، سننا حیاء والا، بولنا حیاء والا، سوچنا حیاء والا، دل میں جذبات حیاء والے، اس لیے کہ حیاء ایمان کا حصہ ہے، اور ایمان کی جڑ دِل میں ہوتی ہے جب کہ شاخیں اَعضاء و جوارح سے پھوٹتی ہیں۔ 
چوتھی چیز ’’ہمت‘‘ ہے۔ مسلمان کو باہمت ہونا چاہئے۔ اپنی دنیا اور آخرت کے نفع کی چیزوں پر حریص ہونا چاہئے اور اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ سے مددکا طلبگار رہنا چاہئے۔ کسی کام کے نہ ہونے سے یا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہونے سے ہمت ہار بیٹھنا یا اگر مگر سے کام لینا مومن کا شیوہ نہیں ہوتا۔ اس کے بس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ کرتا ہے اور جو نتائج اس کے بس میں نہیں ہوتے اس پر وہ اپنے عمل سے ہمت نہیں ہارتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات  پر بھروسہ رکھتا ہے‘ ارشاد فرمایا: طاقت ور مومن، اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ بہتر اور زیادہ محبوب ہوتا ہے کمزور مومن سے، اور البتہ بھلائی سب میں ہی ہوتی ہے‘ تم اپنے لیے نفع مند باتوں کے حریص بن کررہو، اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے رہو، خود کو عاجز مت بناؤ۔ اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو کہ کاش اگر میں ایسا کر لیتا تو ایسا ہوجاتا، نہیں! بلکہ یوں کہے: اللہ تعالیٰ نے تقدیر بنائی اور جو اس نے چاہا وہ اس نے کیا۔ کیوں کہ ’’اگر‘‘ کا لفظ شیطان کے کام کا راستہ کھول دیتا ہے۔ (مسلم)
پانچویں چیز صدقہ ہے۔ صدقہ دینا نیکی کا کام ہے اور اسی کے ساتھ تواضع برتنا بھی ضروری ہے۔ بخل کی وجہ سے صدقہ نہ دینا بھی غلط اور صدقہ دے کر تکبر کرنا اور بھی زیادہ غلط... اسی لیے کہہ دیا گیا: صدقہ مال میں کبھی کمی نہیں کرتا، اور معافی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت میں ضرور اضافہ کرتے ہیں، اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا مرتبہ بلند فرمادیتے ہیں۔ (مسلم)

تازہ ترین خبریں