08:02 am
بات ہے سمجھ کی

بات ہے سمجھ کی

08:02 am

قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے قیام پاکستان کے موقع پرکشمیرکوپاکستان کی شہ رگ قراردیاتھاجوپچھلی سات دہائیوں بھارتی متعصب ہندوبنئے کے ظلم وستم سینہ صرف لہولہوہے بلکہ ایک مرتبہ پھر کشمیری نوجوانوں کے گرم لہوسے پھڑک رہی ہے بھارتی بنیا تلملا رہاہے اوربرانگیختہ ہے کہ ان نوجوانوں کوجوسربکف شوقِ شہادت کے ساتھ اسلام کے نام پرسرہتھیلی پررکھے برسرپیکار ہیں ،ان سے کیسے نمٹا جائے۔ کشمیرکی آزادی کامطلب بھارت،ایک اور اسلامی ریاست کاقیام اورپاکستان کے استحکام کو سمجھتا ہے۔ پاکستان جوکلمہ طیبہ کے نام پرمعرضِ وجودمیں آیا،اس نظریاتی مملکت کوبھارت نے قبول صرف اس لئے نہیں کیاکہ یہ دوقومی نظریہ کے مطابق ایک اسلامی ریاست کے طورپربت پرستوں کے ملک بھارت کے سینے میں خنجراوربھارت کے مسلمانوں کواپنے حلقۂ اثرمیں لیے ہوئے ہے۔ پاکستان سیکولرریاست بن جائے توبھارت کیاامریکہ اوراس کے حواری اس کوقبول کرلیں۔
 

امریکہ کی پلاننگ تویہ تھی اورجس کااظہاراس کے تھنک ٹینک نے کئی مرتبہ خاکم بدہن پاکستان کے ٹوٹنے کی پیش گوئیاں کیں کہ2015ء میں پاکستان دنیاکے نقشے پرنظرنہیں آئے گالیکن دنیادیکھ رہی ہے کہ پاکستان گوناگوں مشکلات اورمصائب کے باوجود مزید طاقتوربن کرہی ابھررہاہے الحمداللہ،اوراسی طرح اوربھی وقت گزرجائے گامگریہ حسرت ناتمام ان کے سینوں پرسانپ بن کرلوٹتی رہے گی کیونکہ ہرکوئی سمجھتاہے چاہے عمران خان ہی کیوں نہ ہوں کہ پاکستان کااستحکام صرف اسلام ہے۔ 2006ء میںامریکہ کے ایک ممتازدانشوراسٹیفن کوہن نے خیال ظاہرکیاکہ پاکستان کو اپنا وجود برقراررکھنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ امریکی منشاء کے مطابق ایک سیکولرریاست بنناقبول کرلے ورنہ اس کا ایک اسلامی نظریاتی ریاست کے طور پر برقراررہناممکن نہیں۔
 ایک مشہورپاکستانی صحافی نے بہت پہلے جب نرسمہاراؤ بھارت کاوزیراعظم تھا،اس کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کاحال بیان کرتے ہوئے لکھاتودوباتوں کاخصوصی ذکرکیا ۔پہلی بات تویہ کہ پاکستان کووجودایک اسلامی ریاست کے طورپرانہیں اس لئے قبول نہیںکہ پاکستان نے بھارت کے پندرہ کروڑ مسلمانوں کواپنے حلقہ اثرمیں لے رکھاہے۔پاکستان ایک سیکولرریاست بن جائے توہمیں اس کے وجودپرکوئی اعتراض نہیں اوردوسری بات یہ کہ کشمیرکوبھارتی آئین کے مطابق بھارت کاحصہ رہتے ہوئے جتنی خودمختاری چاہئے ،وہ دینے کیلئے تیارہے،یعنی پاکستان اسلامی ریاست نہ رہے اورکشمیربھارت کی بستی کیوں رہے۔
بھارت کے معروف صحافی کلدیپ نائرسے ایک بار2005ء میں پاکستان میں نیشنل لائبریری کے آڈیٹوریم میں ایک شام منانے کافیصلہ کیا جس کاموضوع تھا(possible Option On Kashmir) یعنی ’’ ممکنہ کشمیرآپشن ‘‘میں کلدیپ نائرنے کہاکہ میں 1999ء میں اٹل بہاری واجپائی کے بس مسافروں میں شامل تھا،ایک محفل میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف ،مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل سے کہنے لگے ’’سردارجی! کشمیرکامسلم اکثریتی علاقہ ہمیں دے دیں، باقی آپ کاہوا‘‘جس کے جواب میں پرکاش بادل نے کہاکہ یہ میرے بس میں نہیں ،جس پرمیں نے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ بھلے آپ پوراکشمیرلے لیں لیکن یہ مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوگا،ہم دوبارہ تقسیم ہندکے ماحول میں نہیں جاناچاہتے جب بیس ملین لوگ بری طرح متاثر ہوئے تھے۔بھارت اب دوبارہ مذہب کی بنیاد پرتقسیم کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ بھارت اورپاکستان وکشمیرکی کشمکش خطہ ارضی کیلئے سرے سے نہیں بلکہ نظریہ اسلام وکفرکی کشمکش ہے اوربھارت کومقبوضہ کشمیرمیں مجاہدین اسلام کے ہاتھوں جس صورتحال کاسامناہے وہ فدائی حملوں کی صورت جس عذاب سے دوچارہے اورجن کے ہاتھوں دوچارہیں وہ اسلام کے شیدائی وفدائی ہیں جواسلامی ریاست کیلئے سردھڑکی بازی لگائے ہوئے ہیں اور بھارت کویہ قبول نہیں ہے کہ ایک اوراسلامی ریاست کشمیرکی صورت میں معرضِ وجودمیں آئے ۔نفرت اسلام سے ہے ،کشمیری سیکولربن جائیں اوراگرپاکستان سیکولر ریاست بنادی جائے جس کیلئے امریکہ کھربوں روپے لگاچکاہے اور بھارت بھی اپنے بچاؤ کی خاطراربوں روپے اس منصوبے پر کھپا چکا ہے۔ میڈیایلغار،این جی اوز،موم بتی مافیاسب ہی سرپٹخ کررہ گئے ہیں۔
سیاستدان مندروں کی یاترابھی کرچکے، ادھراسلام کے نام پربات ہوتی ہے توسینمامیں بیٹھا تماش بین ،جوش ملیح آبادی جیسامعروف مے نوش شاعر تڑپ اٹھتاہے اورایک ٹھوکرمیں اغیارکی کمائی دھول کردیتاہے۔کشمیرکی آزادی کومودی کی سرکاربھارت اسلام کی کامیابی سمجھے ہوئے ہے اوروہ سمجھتاہے کہ پاکستان کے اسلام کے نام پرقیام نے اورجہاد افغانستان میں مسلم کامیابیوں نے کشمیرکے مسلمانوں کو بیدار کیا اور قربانی کے جذبۂ سے سرشارکیے ہوئے ہیں۔یہ بھی کامیاب اپنے مقاصدمیں مسلم امہ کی صورت کامیاب ہوگئے تو بھارت کے کروڑہامسلمان کبھی بھی اٹھ کھڑے ہوں گے اوریوں بھارت کاتیاپانچہ دنیاکے نقشہ سے روس کی طرح ہوجائے گا اور دنیاکی واحدبت پرست ریاست بھارت اسلام کاگہوارہ بن جائے گی جواس سے قبل صدیوں رہی بھی ہے۔ 
کشمیریوں اورپاکستان سے بھارت کی چپقلش نظریاتی ہے ،یہ بھارت کے معروف صحافی اورامریکاکے تھنک ٹینک بھی کہہ چکے ہیں یہ لڑائی خطہ ارضی کی نہیں۔بات ہے سمجھنے کی کہ روس کے ٹکڑے افغانستان کے جہادنے کردیئے اورسپرپاورریت کاڈھیرثابت ہوئی۔کفرکے ایوانوں میں زلزلہ آگیاتوکسی سوالوں کے جواب میں کفر قوتوں کے سرپرست امریکہ و برطانیہ کے حکمراں وقت نے کہاتھاکہ روس کامعرکہ توسر ہوگیامگراب ایک معرکہ اورباقی ہے جواسلام سے ہوناہے۔اس معرکہ کوسرکرنے کیلئے کفرکی قوت نے جاناکہ میدان جنگ میں جیتنامحال ہے،وہ مسلکی جھگڑے کراکراسلام قوتوں کوکمزورکرناچاہتی ہیں اورہتھیاروں کے بل بوتے پردھمکاکرخوفزدہ کرکے کمزورمسلم حکمرانوں کودباناچاہتی ہیںمگریہ جتنا اسلام کودباتے ہیں یہ اتناہی ابھرتاہے۔شیخ فاروق عبداللہ جوکشمیرکے بھارت نوازلیڈرہیںانہوں نے بھی ایک انٹرویومیں بھارت حکومت کوخبردارکیاہے کہ پلوامہ کے فدائی حملے کو ’’جیش محمد‘‘ کاحملہ سمجھے اوراسے ہندومسلم نفرت میں تبدیل نہ کرے ورنہ ایسی آگ بھارت میں بھڑکے گی کہ بجھائے نہ بجھے گی۔ 

تازہ ترین خبریں