08:03 am
14 ہزارافراد کی بیرون ملک جائیدادیں

14 ہزارافراد کی بیرون ملک جائیدادیں

08:03 am

٭نیوزی لینڈ: دہشتگرد کو ذہنی مریض قرار دینے کی مہم شروعO 14 ہزار سے زیادہ سرکاری ملازمین (1325 بڑے افسر)کی بیرون ملک جائیدادیںO پنجاب اسمبلی: ارکان کا تنخواہوں میں اضافہ واپس لینے سے انکارO آصف زرداری، فریال تالپور ضمانتیں منسوخ، منی لانڈرنگ کیس اسلام آباد منتقلOمودی سے بات ہو سکتی ہے، چوروں ڈاکوئوں سے نہیںO سی پیک کے 24 ارب روپے ارکان اسمبلی کودے دیئے گئے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست O بھارت میںانتخابات شروع سے پہلے کسی بھی وقت بھارت کے حملے کا خطرہ ہے:عمران خان O بھارت میں چین کے خلاف مہم۔
 
٭کالم کچھ بے ترتیب رہے گا۔ ساری باتیں اہم ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے واضح الفاظ میں پوری قوم اور اس کے اداروں کو خبردار کیا ہے کہ بھارت میں 11 اپریل سے شروع ہونے والے عام انتخابات سے پہلے نریندر مودی اپنی کامیابی کے لئے پاکستان کے خلاف کوئی بھی سنگین حرکت کر سکتا ہے۔ مجھے کچھ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت سے ملنے والی پاکستان کی سرحد اور آزاد کشمیر کی کنٹرول لائن کے دوسری طرف جدید اسرائیلی جنگی طیارے مسلسل پرواز کر رہے ہیں۔ یہ خبر توعام ہو چکی کہ ایک عرصے سے پاکستان کی سرحدوں پر اسرائیل کا جدید ترین راڈار سسٹم نصب کیا جا چکا ہے۔ ظاہر ہے یہ ساری باتیں ہمارے عسکری اداروں اور متعلقہ حلقوں کے علم میں بھی ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی فضا ابھی تک مکمل طور پر کمرشل پروازوں کے لئے بحال نہیں ہو سکی! نریندر مودی ہر نئے جلسے میں پاکستان کے خلاف زیادہ تیز ہو رہا ہے۔ ایک خبر یہ ہے کہ پاکستان سے رہا ہونے والے جس بھارتی پائلٹ ’ابھی نندن‘ کو بھارت میں ہیرو کا درجہ دیا جا رہا تھا اسے ایئرفورس میں واپس لینے سے انکار کر دیا گیا اور چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ چھٹی سے واپسی پر اس کا پھر مکمل میڈیکل اور فرانزک دماغی معائنہ کیا جائے گا۔ بھارتی حکام مسلسل شک کا اظہار کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اس کے جسم میں جاسوسی والی کوئی چپ لگا دی گئی ہے اس نے پاکستان کے بارے میں جو تعریفی باتیں کہی تھیں انہیں بھارت کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ دریں اثنا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کی قرارداد کو چین کی طرف سے ویٹو کئے جانے پر بھارت میں کہرام کی سی حالت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بھارتی میڈیا مسلسل پراپیگنڈا کر رہا ہے کہ ملک میں چین کی مصنوعات کی درآمد بند کی جائے۔ اس وقت بھارت کی مارکیٹیں چینی مصنوعات سے بھری پڑی ہیں۔ میں نے ایک بار دہلی میں دیکھا، جاپان کا ایک کیمرا آٹھ ہزار میں مل رہا تھا۔ ہر لحاظ سے بالکل وہی اسی نام سے چین کا کیمرا آٹھ سو روپے میں بک رہا تھا۔ اس صورت حال سے بھارت کی کئی چھوٹی صنعتیں بند ہو چکی ہیں۔
٭نیوزی لینڈ میں 50 نمازیوں کی الم ناک شہادت پر دنیا بھر سے مذمت کے پیغامات آ رہے ہیں۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ اس گھنائونی واردات کے مرکزی مجرم کو دماغی مریض قرار دینے کی مہم بھی چل پڑی ہے۔ اس نے اکیلے یہ واردات نہیں کی، دو مسجدوںمیں فائرنگ ہوئی۔ ایک عورت سمیت چار حملہ آور پکڑے گئے ہیں۔ یہ روح فرسا اور اذیت ناک تفصیلات اخبارات میں موجود ہیں۔ ’’مجھ میں انہیں بیان کرنے کی تاب نہیں۔ میرے ذہن کے کسی دور دراز گوشے میں بار بار ایک خیال آ رہا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کے قاتل وزیراعظم مودی نے ایک عرصہ سے مسلمانوں کے خلاف جو مہم چلا رکھی ہے اس کے اثرات دنیا بھرمیں ادھر ادھر بھی پھیل رہے ہیں۔
٭ایک خبر: ایک سرکاری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تقریباً 14 ہزار سرکاری ملازمین کی مختلف ممالک میں جائیدادوں کا سراغ لگایا جا چکا ہے۔ ان میں 1325 بڑے بڑے سرکاری افسر ہیں جو ویسے تو اپنی تنخواہوں سے باہر جانے کا ٹکٹ بھی نہیں خرید سکتے مگر ان کی اولادیں بھی باہر پڑھ رہی ہیں۔ اس رپورٹ کی تفصیل خاصی وحشت ناک ہے۔ سر چکرانے لگا ہے۔ میرے خدا! اقبال، قائداعظم اور لیاقت علی خان کے اس ملک کو کیسے کیسے خونخوار مگر مچھوں اور خون آشام بھیڑیوں نے اپنی ’’چراگاہ‘‘ بنا لیا۔ اس کو کس بے رحمانہ طریقے سے لوٹا کھسوٹا گیا۔ پرانی کہانی کہ بادشاہ کی نیت خراب ہوئی تو گائے بھینسوں نے دودھ دینا بند کر دیا۔ بالکل یہی حال ہمارا بھی ہے۔ مگر ان افسروں کی ملک دشمنی کو کیا الزام دوں جب اوپر بیٹھے سلطانوں اور شہنشاہوں نے ملک کو لوٹ کر دبئی، لندن، امریکہ، فرانس میں کھربوں کے فلیٹس، محلات، فارم ہائوس اور پلازے بنا لئے! حکمران لوگ ہی ڈاکو، چور اور لٹیرے بن جائیں تو نیچے والے چوبدار اندھیر کیوں نہیں مچائیں گے۔ مگر قدرت کا اپنانظام بھی ہے۔ کہاں گئے دارا سکندر؟ کہاں گئے ہٹلر اور مسولینی! کیا حشر ہوا صدام اور قذافی کا؟ اور اب! گرفتاریاں، عدالتیں، ضمانتیں، جیلیں! یہ تو ہو گا! اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔
٭ اوپر والی بات کا ہی تسلسل: کراچی کی بینکنگ عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانتیں منسوخ کر دیںاور ان کے خلاف جعلی اکائونٹس اور 35 ارب کی منی لانڈرنگ میں شراکت کے کیس اسلام آباد کی عدالت میں منتقل کر دیئے ہیں۔ یہ منتقلی نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی درخواست پر ہوئی ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ کراچی میں پیپلزپارٹی دس سال سے حکمران ہے۔ کراچی میں زرداری خاندان کے خلاف کسی کارروائی سے ہنگامے شروع ہو سکتے تھے، خاص طور پر عدالتی ججوں اور عملے کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ یہ لوگ غیر محفوظ ہو جاتے۔ اس لئے یہ کیس ا سلام آباد منتقل کیا گیا ہے۔ اب یہ لوگ بار بار (بلاول بھی!) عدالت میں پیش ہونے پر مجبور ہونگے!اور اطلاعات بتا رہی ہیں کہ اب قبل از گرفتاری ضمانتوں کی بجائے بعد از گرفتاری ضمانتوں کا دور بہت قریب آ رہا ہے۔ کیا یہ بات تاریخ کے اوراق میں درج نہ ہو چکی کہ ایک وزیراعظم معزول ہوا۔ اس نے اپنا جانشین وزیراعظم مقرر کر دیا۔ اس جانشین وزیراعظم کے اقتدار کے دور میں ہی اس کا محسن معزول وزیراعظم گرفتار ہوا مگر جانشین وزیراعظم معزول وزیراعظم کو اپنی ہی حکومت کی جیل میں جاتے دیکھتا رہ گیا، کچھ بھی نہ کر سکا! تاریخ بہت کچھ سکھاتی ہے مگرآنکھوں پر اقتدار کی پٹی، کانوں پر سونے چاندی کی مہریں لگی ہوں تو نہ کچھ دکھائی دیتا ہے نہ سنائی دیتا ہے! کس کام آ سکے شریف خاندان کے اندرون و بیرون ملک اربوں کھربوں کے اثاثے! جیل کا ایک کمرہ، ایک چارپائی، ایک میز کرسی اور بس! اور کس کام آئیں گے زرداری خاندان کے اندرون و بیرون ملک کھربوں کے محلات، کاروبار، پلازے، ہتھکڑیاں دوسرے اثاثے! گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بلاول زرداری کی آواز کی لرزش کیا بتا رہی تھی؟ تاریخ بہت کھری اور صاف گو ہے، حساب مانگنے پر آتی ہے تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے! چند روز میں بڑی خبریں آنے والی ہیں۔
٭پنجاب اسمبلی کے ارکان اڑ گئے کہ تنخواہوں میں 133 فیصد اضافہ واپس نہیں لیں گے۔ کہہ رہے ہیں کہ بہت غریب اور بے سہارا لوگ ہیں، موجودہ تنخواہوں میں گزارا نہیں ہوتا۔ ان میں سے شائد ہی کوئی رکن کروڑ پتی سے کم ہو! سپیکر اسمبلی ارب پتی بلکہ کھرب پتی ہیں (سپین میں 52 ارب کی سرمایہ کاری! کبھی وضاحت نہیں کی) مگر ان کی تنخواہ میں بھی اضافہ بہت ضروری تھا!! ان لوگوں کے سامنے خزانہ سامنے کھلا پڑا ہے، جیبیں بھرنے سے کون روک سکتا ہے؟

تازہ ترین خبریں