08:15 am
بہت جلد ایک بڑی فتح حاصل ہونے والی ہے

بہت جلد ایک بڑی فتح حاصل ہونے والی ہے

08:15 am

وزیر اعظم عمران خان اکیلے ہی اپنی کابینہ پر بھاری ہیں۔ تمام اہم اور بڑے فیصلے وہ بڑی بہادری و دلیری سے کر رہے ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ خبر جو کابل سے براستہ پشاور کراچی پہنچی ہے، سچی ہو کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو طالبان کے مطالبے پر رہائی نصیب ہوگئی ہے۔ انہیں پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کردیا گیا ہے اور امریکی مطالبے پر ان کو مطلوب امریکی جوڑے کو طالبان نے کابل میں امریکی کمانڈر کے سپرد کردیا ہے۔ اللہ جانے اس خبر کی صداقت میں کتنا وزن ہے کیونکہ یہ خبر اس وقت تک حلق سے نہیں اترے گی جب تک عافیہ صدیقی پاکستان نہیں پہنچ جاتیں۔ اگر واقعی یہ سچ ہے اور ایسا ممکن ہوجاتا ہے تو یہ وزیر اعظم عمران خان کی ذاتی کوشش سے ہی ممکن ہوسکے گا۔ وزیر اعظم پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جس طرح منہ توڑ جواب دیا ہے اور افواج پاکستان کی بر وقت کارروائی کو سراہا ہے اس کے بہت مثبت اثرات قومی اور بین الاقوامی سطح پر مرتب ہوئے ہیں۔ جس طرح بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیاگیا ہے اس کا انہیں قطعی گمان تک نہیں تھا۔ بھارت کے دو طیارے ہی نہیں مار گرائے ان کے دو پائلیٹوں کو بھی زندہ گرفتار کرلیا تھا۔ لیکن ایک پائلٹ کمانڈر ابھی نند کو فوری طور پرغیر مشروط طور پر رہا کرکے بھارت کے حوالے کردیا۔ اس کی رہائی کو امریکہ سمیت تمام دنیا نے سراہا۔ لیکن بھارت کے حلق میں اس کا کمانڈر ابھی نند ہڈی بن کر اٹک چکا ہے۔
 
 دوسرا طیارہ جو مقبوضہ کشمیر کے سرحدی علاقے میں گرا تھا اس کے پائلٹ نے جب گرتے ہوئے جہاز سے چھلانگ لگائی تو وہ پاکستانی سرحد میں آکر گرا جسے پاکستانی افواج نے زخمی حالت میں گرفتار کرکے اسپتال پہنچادیا تھا۔ گرفتاری کے بعدہونے والے انکشاف نے نہ صرف حکمران وقت اور سپہ سالار وقت ان کی پوری ٹیم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اسی سبب بہت دانش مندی سے اس معاملے پر خاموشی اختیار کرلی گئی۔ اس کی پر اسراریت پر نہ امریکہ نہ ہی بھارت کسی قسم کے مطالبے کی ہمت کر رہا ہے اس طرف سے بھی خاموشی ہی خاموشی ہے۔ 
بھارتی سورما تو اپنے دوسرے طیارے کے گرنے کا بھی اس لیے اقرار نہیں کر رہے کہ کہیں ان کابھید نہ کھل جائے۔ جیسا کہ دنیا جان گئی ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ چیخ چیخ کر الٹا سیدھا شور مچاتے رہے ہیں۔ وہ تو اب تک اپنی وہی راگنی الاپ رہے ہیں کہ جیسے انہوں نے میدان مار لیا اور پاکستان کو شدید نقصان سے دوچار کردیا ہے۔ اگر پاکستان نے کسی قسم کی جوابی کارروائی کی ہمت کی تو بھارتی فوج پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادے گی۔ لاہور، اسلام آباد کراچی کا دور دور تک نشان مٹ جائے گا۔ وہ جو کہتے ہیں کہ اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی۔ یہی حال بھارتی حکمرانوں اور ان کی افواج کے سربراہوں کا ہے۔ ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ جب تمہیں پاکستان کے خلاف زبردست فضائی برتری حاصل ہوئی ہے تو پھر تم نے اپنے کمانڈر ابھی نند کو کیوں برطرف کیا اور اس سے پہلے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو کیوں معطل کیا گیا۔ جیتنے کی خوشی میں انہیں کیوں گھر بھیجا گیا؟
بھارت یا امریکہ کیوں اس دوسرے پائلٹ کی رہائی کی بات نہیں کر رہے۔ اس پر کیوں خاموشی اختیار کر رکھی ہے کیوں بھارت اپنی منصوبہ بندی اور مزاج کے مطابق کوئی مزید کارروائی نہیں کر رہا۔ افواج پاکستان اور حکمران وقت خوب اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں کہ بھارتی جارحیت کا جو مہرہ ان کے قابو میں ہے وہ ایسا ٹرمپ کارڈ ہے جسے موقع پر استعمال کرکے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ نہ امریکہ نہ بھارت نہ ہی بھارت کے حلیف کوئی جارحانہ کارروائی کی جرا ت کرسکیں گے۔ 
بھارت اور امریکہ کی زبان یوں ہی تالو سے نہیں لگی، وہ بھی موجودہ نازک صورت حال کو خوب اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان اور سپہ سالار اعظم پاکستان پہلے بھی دو ٹوک کہہ چکے ہیں کہ اگر بھارت یا ان کے کسی حلیف کی طرف سے کسی قسم کی کارروائی ہوئی تو ایک کے جواب میں تین گنا طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ بھارت اور امریکہ اس کے تمام حریف و حلیف خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ایٹمی ذخیرہ بڑی تعداد میں اور ہر قسم کی جوہری کارروائی کے لیے فوری کار آمد پوزیشن میں موجود ہے۔ پاکستان کو ماضی کی طرح اپنے دائیں بائیں اپنے حلیفوں سے مدد کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ پاکستانی افواج ہر طرح سے ہر قسم کے حملے کا ترنت جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار اور مستعد ہے۔ اس کا تجربہ بھارتی سور مائوں کو خوب اچھی طرح ہوگیا ہے۔
پاکستان خطے میں امن کا خواہش مند ضرور ہے لیکن امن کی یہ خواہش کسی قسم کی کمزوری کے سبب نہیں بلکہ واقعی پاکستان حقیقی امن کا خواہش مند ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ جنگ سے مسائل در مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ملک و قوم ہی تباہ نہیں ہوتی بلکہ ہاتھ بھی کچھ نہیں آتا، ہاں اسلحہ ساز اور اسلحہ فروش ملکوں کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے ممالک کا ناقابل استعمال (جوپراناہوچکاہے) اسلحہ جو نئے اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ اسلحہ کے مقابلے میں ناکارہ  ہوتا ہے کو ضائع کرنے کے بجائے نبرد آزما ممالک کو فروخت کرکے ان پر احسان کرتے ہیں۔ حالانکہ جنگ کے حالات پیدا کرنے میں ان کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ اگر دو فریقین میں جنگ نہیں ہوگی تو ان کا اسلحہ کیسے بکے گا۔ 
اسلحہ ساز ممالک کوشش کرکے اپنے خفیہ اداروں سے کام لیتے ہیں۔ دو ممالک میں اختلافات پیدا کرانے میں انہیں ہوا دے کر بڑھاتے ہیں اور پھر میدان جنگ میں اترنے میں پوری پوری مدد بھی کرتے ہیں۔ بھارتی سرپرستوں اور خود حکمرانوں کا منصوبہ بھی کچھ ایسا ہی تھا، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس مسبب الاسباب نے پہلے پاکستان کو ایک دلیر حکمران دیا اور افواج پاکستان کو ایک قابل اور متحمل مزاج سربراہ سے نوازا جو امریکہ سے اس کی سطح پر کھڑے ہوکر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت اور جرا ت رکھتے ہیں۔ ان کے اس رویے کے باعث بھارت دبک کر رہ گیا ہے اور امریکہ کی بھی جرات نہیں کہ وہ پاکستان پر کسی قسم کا دبائو ڈالے اقتصادی نہ معاشی طور پر ورنہ پہلے تو لمحہ نہیں لگتا تھا کہ پاکستان ایک حکم ملنے پر تیار رہتا تھا جب چاہتے اقتصادی امداد جو درحقیقت افغان مہاجرین اور افغان نقصانات اور امریکی اور نیٹو افواج کی سپلائی کی راہ داری کا کرایہ یا معاوضہ ہوتا ہے اسے بند کردیا جاتا تھا۔ ہماری جوتی ہمارا ہی سر کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان جنہیں ان کے مخالفین افواج پاکستان کا فرنٹ مین کہنے سے بھی نہیں چوکتے وہ اتنے دلیر اور جری ہیں کہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینا اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ اللہ پاکستان کی اور پاکستانی عوام کی حفاظت فرمائے۔ اور ڈاکٹر عافیہ کو اللہ جلد رہائی نصیب فرمائے کہ یہ بھی عمران خان کی امریکہ کے مقابلے میں بڑی فتح ہوگی۔ ان شاء اللہ۔


 

تازہ ترین خبریں