08:17 am
مسئلہ کشمیر : اقوام عالم اور عالمی ادارے

مسئلہ کشمیر : اقوام عالم اور عالمی ادارے

08:17 am

بھارت گزشتہ ستر سال سے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کا بے دریغ خون بہا جا رہا ہے، لیکن اپنے اپنے مفادات کی اسیر عالمی طاقتیں اس سے صرف نظر کئے ہوئے ہیں۔ اس مسئلہ کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کی اصل ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوتی ہے جس کے نمائندے لارڈ ماونٹ بیٹن کے بھارت نواز رویئے کے باعث یہ مسئلہ پیداہوا۔ انگریز گورنر جنرل قانوناً اور اخلاقاً اس بات کا پابند تھا کہ وہ تقسیم ہند کے ریاستوں کے بارے میں فارمولے پر عمل کراتا۔ بھارت کے غاصبانہ قبضے کے بعد بھی برطانیہ نے اس ضمن میں وہ کردار ادا نہیں کیا جوکہ اس کا فرض بنتا تھا۔ بعد میں یہ مسئلہ عالمی سیاست کا شکار ہو گیا۔ جس طرح دولت مشترکہ سربراہ کانفرنس کے انعقاد کے دوران اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کیلئے انسان دوست اور آزادی پسند حلقوں نے کوشش کی ہے، اگر ایسی کوششیں اسی شدومد اور جذبے سے جاری رکھی گئیں تو یقینا کشمیر کاز کو تقویت پہنچے گی۔بھارت خود کو دنیا کا سب کا بڑا جمہوری ملک گردانتا ہے لیکن اس نے گزشتہ ستر برس سے کشمیریوں کی آزادی سلب کر رکھی ہے اور وہ ان کے بنیادی حقوق بری طرح پامال کر رہا ہے۔ سید علی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق ،محمد یسین ملک اور دیگرحریت رہنمائوں کو مسلسل نظر بند رکھا جا رہا ہے۔ غیر قانونی طو ر رپر نظر بند کشمیریوں کو جیلوں میں طبی سمیت تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا تا ہے۔  کشمیری اپنی خواہشات کے مطابق تنازع کشمیر کا حل چاہتے ہیں جس کی پاداش میں بھارت انہیں بدترین چیرہ دستیوں کا نشانہ بنارہا ہے۔
 
گزشتہ سال کشمیریوں کے لیے ایک بدترین سال تھاجس میں355 واقعات کورپورٹ کیاگیاجس میں 55 شہیداور300 زخمی شامل ہیں۔ معصوم بچوں اور خاص طور پرجوان لڑکیوں کے خلاف پیلٹ گن کواستعمال کیاگیا۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ہندوستانی ظالمانہ کارروائیوں کی تحقیقات کامطالبہ کیاحتیٰ کہ فاروق عبداللہ نے ہندوستانی الزامات کو رد کردیااور کہا کہ ہندوستان کواپنے اندرکی طرف دیکھناہوگا۔ فروری 2018 میں کنان پوش پورہ کے واقعے میں بچ جانے والے لوگوں کے انصاف کے لئے مددگارگروپ نے ریاستی انسانی حقوق کمیشن کے سامنے ایک درخواست دائر کی جس میں زوردیاگیاکہ زیادتی کے تمام واقعات جوکہ سکیورٹی فورسز اور غیرریاستی لوگوں نے کئے کے بارے میں تحقیقات کی جائیں اور بچ جانے والوں کی بحالی کاکام کیاجائے ۔ گروپ نے کمیشن کے سامنے زیادتی کے143 کیسوں کے ثبوت رکھے جوکہ1989 اور2017 کے درمیان کیے گئے۔ ایک قابل ذکرکیس جو کہ کشمیرمیں ریاست کی تحقیقات ، قانونی کاروائی میں ناکامی اورجنسی جرائم کی روک تھام میں ناکامی کوظاہرکرتاہے وہ کنان پورش پورہ کی اجتماعی زیادتی ہے جوکہ27سال پہلے ہوئی جہاں 23فروری 1991 کی رات کو ہندوستانی فوج کے راجپوتانہ رائفلزکے فوجیوں کی طرف سے کیاگیا جنہوں نے ضلع کپواڑہ میں 23 عورتوں سے اجتماعی زیادتی کی اور جن کیلئے انصاف کے حصول کی کوششوں کو ردکردیاگیا اور مختلف موقعوں پر اہل اختیار کی طرف سے روک دیاگیا۔ بھارت گزشتہ ستر سال سے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کا بے دریغ خون بہا جا رہا ہے، لیکن اپنے اپنے مفادات کی اسیر عالمی طاقتیں اس سے صرف نظر کئے ہوئے ہیں۔
 حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے بھارتی حکومت کالے قانون افسپا پر نظرثانی کرنے اور منسوخ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی جاری سالانہ رپورٹ میں کہا ہے گزشتہ سال مئی میں بھارتی فوج نے پڈگام میں بھارتی پارلیمانی انتخابات کے دوران ایک راہگیر کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے والے فوجی افسر کو شاباش دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے بھارتی حکومت کالے قانون افسپا پر نظرثانی اور وادی میں اس کے نفاذ کو منسوخ کرنے میں بھی ناکام رہی جبکہ یہ قانون بھارتی فوجیوں کو وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا اس قانون کے تحت گزشتہ طویل عرصے سے بھارتی فوج بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال وادی میں حکام نے27 بار انٹرنیٹ سروسز بھی بند کر کے لوگوں کو آزادی اظہار رائے سے محروم کیا جبکہ بڑے پیمانے پر پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئیں۔ برہان وا نی کی شہادت نے کشمیر کی تحریک آزادی کوایک نئی طاقت بخشی ہے۔ کشمیرکی آزادی کی جدوجہد مقامی طور پرکشمیریوں کے جسم میں سرائیت کرگئی ہے۔ اقوام متحدہ کی 4ون 2018کی رپورٹ اقوام متحدہ کی تاریخ میں ایک تاریخی لمحہ ہے جس نے ہندوستان کی ظالمانہ کاروائیوں کو ظاہرکیااور پہلی دفعہ دنیاکے سامنے رکھاگیا۔    ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں