08:19 am
دنیا میں 99.6فی صد دہشت گردی کے ذمہ دار غیر مسلم

دنیا میں 99.6فی صد دہشت گردی کے ذمہ دار غیر مسلم

08:19 am

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دومساجدمیں  قیامت صغری ڈھاتے ہوئے دہشت گرد حملوں میں 49افراد شہید اور 20 سے زیادہ لوگوں کو شدید زخمی کردیاگیاہے۔بیس سالہ آسٹریلوی ظالم  حملہ آور برینٹن ٹارنٹ نے سر پر لگائے گئے کیمرے کی مدد سے النور مسجد میں نمازیوں پر حملے کو فیس بک پر لائیو بھی دکھایا۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے مسجد پر فائرنگ کے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اسے نیوزی لینڈ کی تاریخ کے سیاہ ترین دن قرار دیاہے۔پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’’کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ میں مسجد پر دہشت گرد حملہ نہایت تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔ یہ حملہ ہمارے اس مئوقف کی تصدیق کرتا ہے جسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔ ہماری ہمدردی اور دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا: ’’ان بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے نائن الیون کے بعد تیزی سے پھیلنے والا ’’اسلاموفوبیا ‘‘کارفرما ہے جس کے تحت دہشت گردی کی ہرواردات کی ذمہ داری مجموعی طور پر اسلام اور سوا ارب مسلمانوں کے سر ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مسلمانوں کی جائز سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی یہ حربہ آزمایا گیا‘‘۔
 
دہشت گرد کون ہیں؟ کیا یہ کسی تحریک یا نظریہ کا نام ہے؟ یا کسی فرد یاجماعت کا؟ یہ وقت کا اہم موضوع ہے، اس موضوع پرکئی سال غور کرنے کے باوجود یو۔این۔ او بھی اس کی تعریف متعین کرنے سے قاصر ہے۔ وہ جو بھی تعریف متعین کرتی ہے اس کی زد میں وقت کی سپرطاقتیں آجاتی ہیں۔ چونکہ اقوام متحدہ   سپرطاقتوں کی آلہ کار ہے، اس لئے ان طاقتوں کی خواہش پر ان کانام لینے کی بجائے ملت اسلامیہ کو ہدف بنادیاجاتاہے اور دہشت گردی کا ایک آسان نام اسلامی دہشت گردی ایجاد کرلیاگیاہے تاکہ افغانستان، عراق وغیرہ پر حملوں کا جواز فراہم ہوجائے۔ اس طرح وقت کے سب سے بڑے دہشت گرد امریکہ نے اپنے جنگجومقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ان مسلم ممالک میں تباہی اور بربادی مچادی اور وہاں لوٹ گھسوٹ اور قتل وغارت گری کو اپنے لئے جائز قرار دے دیا۔اسرائیل نے بھی اپنے مربی کی شہ پر فلسطین میں عربوں کے قتل عام کرکے تباہی مچادی اوراسرائیل کویقینا امریکہ کے بعد دہشت گرد ثانی بھی کہہ سکتے ہیں۔ جرمنی میں ہٹلر نے یہودیوں کا جو قتل عام کیاتھا ۔ اس کا بدلہ وہ عربوں سے لے رہاہے۔ ہٹلر نے جو سلوک ان کے ساتھ کیاتھا، اس سے بدتر سلوک وہ فلسطین میں عربوں کے ساتھ کررہاہے چونکہ اسرائیل جرمنی سے بدلہ نہیں لے سکتا اورامریکی پالیسی ساز بھی اسرائیل کے ذریعے عربوں کو کچلنا چاہتے ہیں۔ان دوطاقتوں کالے پالک بھارت بھی پچھلی سات دہائیوں سے مقبوضہ کشمیرمیں ایک لاکھ سے زائدبے گناہ کشمیریوں کوشہیدکرچکاہے اورحال ہی میں پاک بھارت کشیدگی نے دونوں جوہری طاقتوں کوایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑاکر دیاہے اورکسی بھی وقت ایک چنگاری اس سارے خطے کوبھسم کرسکتی ہے لیکن میڈیاپریہ تینوں جابروظالم تسلسل کے ساتھ یہ پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ تمام مسلمان دہشت گردنہیں لیکن تمام دہشت گردمسلمان ہیں جبکہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے اورخود معتبر مغربی ذرائع کی رپورٹیں حقائق آشکار کرتے ہوئے ان کے ناپاک عزائم اوران کے جھوٹ کا کاپردہ چاک کررہے ہیں۔
’’گلوبل ڈیٹابیس ٹیررازم’’کے اعدادوشمار کے  مطابق اگر1970ء سے 2007ء تک،سینتیس برسوں کے دوران پوری دنیا میں ہونے والی دہشت گردی کا جائزہ لیاجائے تو مجموعی طورپر دنیا بھر میں دہشت گردی کے87000واقعات ہوئے تھے جن میں سے 2695یعنی 3فیصد واقعات ان لوگوں نے کئے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے۔ ان میں سے 2369 واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد10یا اس سے کم تھی،201واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد11سے50تک تھی، 16واقعات میں ہلاک ہونے والے51 سے100تھے اور 4واقعات میں 101یا اس سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔گویا دنیا میں 99.6فی صد دہشت گردی کے ذمہ دار غیر مسلم ہیں۔
 یورپین یونین کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی یوروپول کے مطابق 2007 سے2008 تک یورپ میں دہشت گردی کے99.6فیصد واقعات غیرمسلموں نے کئے۔ ان میں سے 84.8 فیصد واقعات علیحدگی پسندوں نے کئے جبکہ کوئی علیحدگی پسند مسلمان نہیں تھا۔ بائیں بازو کے گروہوں کی دہشت گرد کارروائیوں کی تعداد مسلمان دہشت گردی کی نسبت16گنا زیادہ ہیں۔ یورپی یونین کے ممالک میں ہونے والے جرائم میں صرف 2فیصد کا محرک مذہبی ہوتاہے۔ مثلاً یورپی ممالک میں 2013 میں دہشت گردی کے 152واقعات ہوئے جن میں سے صرف 2 کا محرک مذہبی تھا۔ 2012 میں دہشت گردی کے 219 واقعات ہوئے جن میں سے صرف 6 کا محرک مذہبی تھا۔ 2011 میں دہشت گردی کے 174واقعات ہوئے جن میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کامحرک مذہبی ہو۔ 2010 میں دہشت گردی کے 249 واقعات ہوئے جن میں سے تین کا تعلق مسلمانوں سے تھا۔2009 ء میں دہشت گردی کے 294 واقعات ہوئے جن میں سے صرف ایک میں مجرم مسلمان تھا۔ یادرہے کہ دہشت گردی کے 2فیصد مذہبی محرک کا مطلب اسلامی نہیں، ان واقعات میں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی شریک تھے۔
مودی سرکارجوانتخاب جیتنے کیلئے اس خطے کو بربادکرنے پرتلی ہوئی ہے،پلوامہ میں خودکش حملہ جس میں 44دلت بھارتی دلت فوجی مارے گئے ،خودان کے ملک میں اپوزیشن کی جماعتیں اس دہشت گردی کامودی کوموردالزام ٹھہرارہے ہیں کہ مودی اپنی حکومت کی ساری ناکامیوں پرپردہ ڈالتے ہوئے پاکستان کو موردِالزام ٹھہرارہے ہیں جبکہ حقیقت تویہ ہے کہ خودمودی کی سیاسی پرورش ہی ایک متعصب ہندوجماعت کی گودمیں ہوئی ہے۔ مودی نے کس طرح ایک سوچی سمجھی سازش کے مطابق گجرات میں اپنے دورِ اقتدارمیں مسلم کش فسادات کرواکے عالمی طورپر ’’مسلمانوں کے بے رحم قاتل اور خونی قصاب ‘‘ کا کردار ادا کیا تھا ۔کون نہیں جانتاکہ موہن داس گاندھی کواعلیٰ ذات کے ہندو’’نتھوارام گوڈسے‘‘ نے قتل کردیاتھاہے جو سنگھ پریوار کا فرد تھا۔ گویا بھارت میں یہ دہشت گردی کا آغاز تھاجس کے بعدیہ سلسلہ آج تک بندنہیں ہوا۔

تازہ ترین خبریں