08:21 am
ختم صحیح بخاری کا علمی روحانی اجتماع

ختم صحیح بخاری کا علمی روحانی اجتماع

08:21 am

دینی مدارس کی بقاء‘ سلامتی اور سربلندی کا راز قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کرنے میں ہی مضمر ہے‘ دینی مدارس نوٹ کمانے کی فیکٹریاں یا کارخانے نہیں بلکہ اسلام کے قلعے او ر چھائونیاں ہیں‘ جب یہ خاکسار جامعتہ العلوم الاسلامیہ المدینہ کے چھٹے سالانہ ختم صحیح بخاری کے عظیم اجتماع میں شریک ہزاروں عشاق رسولؐ سے یہ گفتگو کررہا تھا تو عوا م کاجوش و جذبہ دیدنی تھا‘ جامع مسجد مرحبا اسلام آباد میں منعقدہ اس علمی اور روحانی اجتماع سے وفاق المدارس العریبہ پاکستان کے مرکزی راہنما مولانا قاضی عبد الرشید‘ شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عادل خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام قیامت تک انسانیت کو زندگی کے ہر شعبے میں راہنمائی فراہم کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ قرآن و حدیث کی تعلیمات سے وطن عزیز پاکستان پر اللہ رب العزت کی خصوصی رحمتوں کا سایہ رہتا ہے‘ مدارس ایمان والوں کی ضرورت اور پاکستانی قوم کی دینی و ملی خدمات کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ  اگر حکومت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے عصری نصاب تعلیم کی بنیاد بھی قرآن و حدیث پر رکھے تو اس نصاب تعلیم کو پڑھنے والے  طلباء اپنی پریکٹیکل زندگی میں رشوت‘ چور بازاری‘ لوٹ مار سے بچ سکتے ہیں کیونکہ قرآن و سنت کی تعلیم انسان کے دلوں میں خوف خدا پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
 
اس خاکسار نے اپنے خطاب میں عرض کیا کہ دینی مدارس پاکستان میں حیاء و غیرت کے کلچر کو پروان چڑھا رہے ہیں … دینی مدارس بے حیائی‘ بے غیرتی‘ فحاشی و عریانی کے راستے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ‘ 8 مارچ کو خواتین کے حقوق کے نام پر جس این جی او مارکہ  سیاہ باطن گروہ نے اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی کی سڑکوں پر انتہائی متنازعہ اور ننگے نعروں پر مشتمل کتبے اور پوسٹر اٹھا کر مظاہرے کیے اگر انہوں نے عورتوں کو ملنے والے اسلامی حقوق اور دینی تعلیمات کو سمجھا ہوتا تو یقینا وہ اس غلاظت سے بچ جاتا‘ ازواجی رشتوں کے تقدس کو وہ شخص یا گروہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ  جس نے مذہب اسلام کی تعلیمات سے منہ موڑ رکھا ہو‘  رشتوں کے تقدس اور احترام کا اندازہ مذہب اسلام کو پڑھنے کے بعد ہی ہوگا‘  صنفی برابری کی رٹ لگاکر عوام کو گمراہ  کرنے والی مغرب زدہ این جی اوز اگر دین اسلام  کا مطالعہ کرلتیں تو انہیں  پتہ چلتا کہ اسلام نے عورت نماز پڑھے یا مرد دونوں کا حق برابر رکھا ہے بلکہ بعض حالتوں میں تو عورت کے حقوق مرد سے بڑھ  جاتے ہیں۔
 اسلام کی روشن تعلیمات کو پس پشت ڈال کر آزادی اور خودمختاری کی دوڑ سے عورت کو شوپیس اور بازار کی زینت تو بنایا جاسکتا ہے‘ اشتہاری کمپنیوں کا ٹول تو بنایا جاسکتا ہے مگر عورت کو عزت‘ احترام اور تقدس نہیں مل سکتا۔عورتوں کو سرکشی پر ابھا ر کر معاشرے میں تعفن پھیلانے کی کوششیں کرنے والے لبرل انتہا پسندوں کو آئین اور قانون کا پابند بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔  بدقسمتی سے حکومت ابھی تک اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے سے مکمل قاصر نظر آرہی ہے۔
ہمیں سنجیدگی کے ساتھ پاکستان  میں دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں میں پڑھانے  جانے والے  نصاب تعلیم‘ مدارس اور  یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے والوں کے کردار و عمل کا جائزہ لینا پڑے گا ‘ دینی  نصاب تعلیم اور انگلش نصاب تعلیم پڑھنے والوں کے کردار و عمل پر اگر سرسری سی نگاہ دوڑائی جائے تو ہر چیز کھل کر سامنے آجائے گی ۔  دینی مدارس سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جو سیاست کے میدان میں آئے اور الیکشن لڑ کر اسمبلیوں میں پہنچے آپ ان مولوی سیاست دانوں کے کردار کو  دیکھ لیجئے کہ ان70 سالوں میں ان میں سے کسی ’’مولوی‘‘ سیاست دان پر ابھی تک  پاکستان کی کسی عدالت میں کرپشن‘ قومی خزانے کی لوٹ مار یا منی لانڈرنگ کا کوئی ایک کیس بھی دائر نہیں ہوا جبکہ صرف پاکستان کی انگلش یونیورسٹیوں ہی نہیں بلکہ آکسفورڈ کی اعلیٰ اسناد  رکھنے والے سیاست دان آج بھی احتساب عدالتوں میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں جوتے چٹخا رہے ہیں‘ ان ستر سالوں میں دینی مدارس سے مکمل تعلیم حاصل کرکے عالم بننے والا ہو یا مفتی‘  اس پر ملک سے غداری کا کوئی الزام کسی عدالت میں نہ قائم ہوا اور نہ ہی ثابت۔ مگر غداری کے مقدمے میں مطلوب ملزم پرویز مشرف سے لے کر حسین حقانی تک کی تاریخ سب کے سامنے ہے اور ان میں سے کوئی بھی کسی مدرسے کا فارغ نہیں ہے‘ اس ملک کی سلامتی یا سرحدات کی حفاظت کے لئے جب بھی ضرورت پڑی تو دینی مدارس نے اپنے علماء و طلباء کا خون پیش کرنے میں کبھی کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ اس سب کے باوجود بھی اگر حکمران اور میڈیا دینی مدارس کے 35 لاکھ کے لگ بھگ طلباء و طالبات اور ان کے اساتذہ کرام کے ساتھ امتیازی سلوک کریں گے ‘ انہیں تضحیک آمیز رویئے کا  نشانہ بنایا جایا گا تو اس سے ملک میں انارکی پیدا ہوگی۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ کے مہتمم مولانا نعمان حاشر نے اپنے مدرسے کی 6 سالہ کارکردگی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ چھ سالوں میں الحمد للہ ڈھائی سو حفاظ کرام اور98 علماء کرام یہاں سے پڑھ کر پاکستان بھر میں تعلیمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
مولانا نعمان حاشر کی یہ بات سن کر میری رگ صحافت پھڑکی اور میں نے فوری طور پر وفاق المدارس کے ترجمان مولانا طلحہ رحمانی بن  مفتی احمد الرحمنؒ سے وفاق کے تحت دینی مدارس میں حفظ قرآن کے حوالے سے کارکردگی کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ الحمد للہ اس سال وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت دینی مدارس سے فارغ ہونے والے رجسٹرڈ حفاظ کی تعداد78641 ہے… سچی بات  ہے طلحہ رحمانی کا یہ جواب سن کر مجھے اپنے دل میں ٹھنڈک سی اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔ختم بخاری کے عظیم اجتماع سے مولانا عطاء اللہ بندیالوی ‘ قاضی مطیع اللہ سعیدی اور مولانا عبدالحنان صدیق نے بھی خطاب کیا۔

 

تازہ ترین خبریں