08:22 am
’’اسلامو فوبیا‘‘

’’اسلامو فوبیا‘‘

08:22 am

یہ قصور سراسر مغربی ممالک کی قیادت کا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اس انداز میں لڑا جیسے یہ اسلام کے خلاف جنگ ہو۔ اسلام اور اسلامی تہذیب کو نشانے پر رکھ کر انہوں نے جس نفرت کی بنیادرکھی اس کا اظہار انتہا پسندوں کی جانب سے آئے دن دیکھنے کو آتا ہے اور نیوزی لینڈ کی کرائسٹ چرچ جیسے سانحے بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ انسانیت اور انسانی حقوق کا علم بلند کرتے ہوئے مہذب معاشرے وجود میں آئے  لیکن   پھر انہی معاشروں میں مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی روش سامنے آئی۔ اسلامو فوبیا کی اصطلاح یونہی وجود میں نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے وہ طرز عمل ہے جو مغربی رہنمائوں نے اپنایا اور مسلمان دنیا کو یہ محسوس ہوا کہ مسلمان بحیثیت قوم اور اسلام بحیثیت مذہب اہل مغرب کے نشانے پر ہے۔
یہ حقیقت اب دنیا کے سامنے آچکی ہے کہ د ہشت گردی کے خلاف جنگ تو محض بہانہ ہے دراصل ’’اسلام‘‘ نشانہ ہے۔ کمیونزم کے خلاف  جنگ جب اختتامی مراحل میں تھی اس وقت ایک ’’نئی جنگ‘‘ کے تانے بانے بنے جارہے تھے۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن نے اس دوران ’’سیز دی موومنٹ‘‘ کتاب لکھی جس میں مغربی رہنمائوں کو تاکید کی گئی ہے کہ کمیونسٹ روس کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوا جائے۔ کمیونزم کے زوال کے بعد جب یورپی یونین کے سربراہ سے نیٹو کے بارے میں سوال ہوا تو انکاجواب یہ تھا کہ نیٹو  کو ختم اس لئے نہیں کیا جارہا چونکہ کمیونزم کے بعد ایک نیا خطرہ منہ کھولے کھڑا ہے اور وہ ہے اسلام کے ماننے والے مسلمان۔
مغربی تہذیب کے مقابلے میں اسلامی تہذیب کو ہوا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کھڑا کیا گیا۔ مغربی دارالحکومتوں میں اس ضمن میں جو سوچ پائی جاتی تھی اس کا باضابطہ اظہار سیموئیل ہٹنگٹن کی ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ کی صورت میں سامنے آیا۔90 ء کی دہائی کے اوائل میں جس تصادم کی  صورت گری کی گئی وہ اس دہائی کے اواخر میں ہوتا دکھائی دینے لگا۔ افغانستان پر طالبان کی حکومت1996 ء میں قائم ہوئی۔ اہل مغرب  کا پلان اپنے اختتامی مراحل میں تھا‘ طالبان کے افغانستان میں القاعدہ کا وجود خود دہشت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش ہو رہاتھا۔ طالبان کی شکل میں اسلامی تہذیب اور القاعدہ کی صورت میںعالمی دہشت گرد تنظیم سے دنیا بھر کو ڈرایا گیا۔ امریکی ٹریڈ ٹاورز کی تباہی کے بعد صدر جارج ڈبلیو بش نے ٹریڈ ٹاورز کے ملبے پر کھڑے ہوکر ’’صلیبی جنگ‘‘ کے الفاظ ادا کیے تو یہ واضح ہونا شروع ہوگیا کہ سیموئیل ہٹنگٹن نے1994 ء میں ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ کی بات کیوں کی تھی؟ مٹھی بھر عناصر کی سرکوبی کی بجائے اسلام کو نشانے  پر رکھ لیا گیا۔ اس مہم کا نتیجہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی صورت میںنکلنا شروع ہوا۔ یورپی معاشرے جو قبل ازیں بڑے روادار معاشرے سمجھے جاتے تھے اپنی برداشت کھو بیٹھے۔ 
مسلمانوں کے خلاف ان معاشروں میں جو سلوک  9/11 کے بعد روا رکھا گیا تھا اس کی جھلک  ان رپورٹس میں دیکھی جاسکتی ہے جو مغربی ہیومن رائٹس اداروں نے اپنے تئیں مرتب کیں۔ ان میں ’’ہیومین رائٹس فرسٹ رپورٹ‘‘ ’’دی یورپیئن یونین مینارٹیز اینڈ ڈس کریمینئن سروے (EU   MIDIS) ‘‘ اور ’’اورECRI کی رپورٹ‘‘ شامل ہیں۔ ان جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر2001 ء کے بعد  مغربی معاشرے اسلامو فوبیا کا شکار ہوئے اور مسلمان بدترین امتیازی سلوک کا نشانہ بنے‘ کیسے ان کی عبادت گاہوں کو ٹارگٹ کیا گیا اور کس طرح ان کے لباس اور مذہب کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ آج جبکہ امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے تو سوال ذہن میں جنم لیتا ہے کہ عالمی امن کی خاطر  یہ کام  پہلے بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس وقت شاید یہ مطلوب تھا کہ تصادم ہو۔ مسلمان ہونے کو جرم بنا دینا شاید اس تصادم کا مقصد تھا جو کہ پورا نہیں ہوسکا۔ اسلام کو نقصان پہنچانے کی مذموم کاوشیں بھی کامیاب نہ ہوسکیں۔ اسلام آج بھی دنیا کا سب سے زیادہ مقبول مذہب ہے۔
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک رکھی ہے
اتنا ہی ابھرے گا جتنا کہ دبا دو گے
مسلمان اپنے خلاف ہونے والی سازش کو دائمی طور پر ناکام بناسکتے ہیں اگر وہ آپس میں باہمی اتحاد کا مظاہرہ کریں بعینہ جیسے مغربی ممالک گزشتہ75 برس سے کررہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کی تباہی نے یورپی رہنمائوں کو یورپی یونین کی راہ دکھلائی اور وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا جو وکٹر ہوگو نے انیسویں صدی کے وسط میں دیکھا تھا۔ اس وقت متحدہ یورپ  ایک خواب کی مانند تھا لیکن ایک صدی بعد یہ خواب حقیقت بن گیا۔ مسلمان دنیا کے رہنما نہ جانے غفلت سے کب بیدار ہوں گے‘ ان کا غم اور خوشی سانجھی ہے مگر انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہو رہا۔ اگر نیوزی لینڈ  میں شہید ہونے والے مسلمانوں کا دکھ ہمیں بحیثیت مسلمان تکلیف نہ دیتا  ہو تب تو بات دوسری ہے لیکن اگر ایسے واقعات سے ہمارے دل میں درد اٹھتاہے تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم ایک کیوں نہیں ہو رہے۔
یورپی یونین کی طرز پر اگر عالم اسلام کا اتحاد وجود میں آجاتا ہے تو مسلمانوں کے خلاف ہونے والی عالمی سازشیں کامیاب نہ ہوسکیں گی اور نہ ہی مسلمان دنیا میں ذلیل و رسوا ہوں گے۔ 22 مارچ کو استنبول میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ اکٹھے ہو رہے ہیں لیکن عامتہ المسلمین کے نزدیک ہمیشہ کی طرح  یہ اجلاس بھی محض ’’نشتند‘ گفتند اور برخاستند‘‘ کی تصویر ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مربوط تعاون کی حکمت عملی وضع کی جائے اور مسلم اتحاد کی صورت گری ہو۔ او آئی سی کے بانیوں کے خواب نجانے کب شرمندہ تعبیر ہوں گے؟

 

تازہ ترین خبریں