07:42 am
مذہبی رواداری،کینیڈا کا سماجی حسن

مذہبی رواداری،کینیڈا کا سماجی حسن

07:42 am

فاروق ارشد بھائیوں جیسا وہ دوست ہے جس  کے ساتھ ہم نے بچپن گذارا ،پتوکی میں ایک محلے میں رہتے تھے ۔دن کے آغاذ سے رات گئے تک ایک ساتھ۔ ہمارے ماں باپ اور بہن بھائی بھی ہم سب سے ایک جیسا پیار کرتے تھے۔ لڑکپن کا آغاذ ہوا،کالج میں الیکشن بھی ایک ساتھ  اور طلبہ حقوق کےلئے  تھانے  اور حوالات بھی  ساتھ ساتھ ۔کالج میں بمشکل دو سال ہی گزرے تھے کہ  وہ کینیڈا چلا آیا۔گزشتہ روز وہ ،منیر بھائی  اور حسین بھائی کے ساتھ واٹر لو ملنے آیا تو پرانی یادیں اور باتیں چل نکلیں۔بات  پاکستان سے  شروع ہو کر کینیڈا تک آ پہنچی۔سماجی حسن، مذہبی  ہم آہنگی ،بھائی چارہ  اور کینیڈین معاشرہ کیا کیا یاد آیا ۔کیا کیا باتیں ہوئیں۔
 علم کے نورسے جیسے جیسے دنیا کا طول و عرض روشن ہو رہا ہے رجعت پسندی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہو رہا ہے،مادی ترقی کیساتھ سوچ اور فکر بھی ترقی پذیر ہے۔ہر قسم کی عصبیت سے انسانی آبادی کی اکثریت بیزار ہے مگر اس کے باوجود  مذہبی عصبیت کا الائو دنیا کے ہر ملک میں دہک رہا ہے  اگر چہ دیگر تعصبات کی آگ بھی پوری طر ح بجھ نہیں پائی،تا ہم اس کی شدت میں کسی حد تک کمی آچکی ہے۔نفرت کی آگ میں جلتے کرہ ارضی پر ایک خطہ مگر ایسا ہے جہاں ہردین، مذہب،مسلک کے پیروکار آباد ہیں لیکن عصبیت نام کو نہیں،جی ہاں  یہ کینڈا  ہے ۔اس ارضی جنت میں سب سے بڑا مذہب مسیحیت ہے،اگر چہ اس مذہب کے پیروکار بھی فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہیں،مگر سب مل جل کر رہتے ہیں،رومن کیتھولک 38.7فیصدی آبادی کیساتھ سب سے بڑا مذہب ہے،اگر چہ عیساعیت کے پیروکاروں کی تعداد 67.3فیصد ہے،ان میں پروٹسٹنٹ ،آرتھوڈکس،میتھوڈسٹ اور انجلیکنز بھی شامل ہیں۔اسلام یہاں کا دوسرا بڑا مذہب ہے ،مسلمان 3.2فیصدی کیساتھ یہاں کی سب سے بڑی اقلیت ہے،سکھ برادری 1.5فیصدی آبادی کے ساتھ دوسری بڑی اقلیت ہے،ہندو،بدھ مت،جین مت اور یہودی بھی کینیڈین معاشرے کا جزو لاینفک ہیں،مگر سب بھائی چارے سے رہتے اور مل کر محنت مشقت کرتے ہیں۔
18ویں صدی سے قبل جب فرانس اور برطانیہ سے نقل مکانی شروع نہیںہوئی تھی کینیڈا میں اکثریت روحانیت پر یقین رکھتی تھی۔بہت بڑی تعداد میں حضرت ابراہیم کے پیروکار بھی آباد تھے اگر چہ تعلیمات براہیمی خواب و خیال ہو چکی تھیں مگر خدا پر لوگوں کا یقین تھا۔فرانس نے یہاں سب سے پہلے رومن کیتھولک چرچ قائم کیا،برطانیہ نے چرچ آف انگلینڈ کے تحت پروٹسٹنٹ کی بنیاد رکھی،سوویت یونین سے آرتھوڈکس کے پیروکاروں کی بڑی تعداد بھی انہی دنوںکنیڈا منتقل ہوئی،میتھوڈست بھی آہستہ آہستہ نقل مکانی کر کے کینیڈا کی سکونت اختیار کرنے لگے،جس کے بعد مسیحیت اس ملک کا سب سے بڑا مذہب بن گیا۔دنیا بھر سے مسلمان بھی اچھے مستقبل کی تلاش میںیہاں منتقل ہوئے،گولڈن ٹمپل پر بھارت کی فوج کشی کے بعد کینیڈین حکومت نے خالصہ برادری کیلئے اپنے ملک کے دروازے کھول دئیے،جس کے بعد قابل ذکر تعداد میں سکھ بھی نقل مکانی کر کے یہاں شفٹ ہو گئے،آج یہ سب کینیڈین ہیں،اپنے اور اپنے خاندان کیلئے معاش کمانے کیساتھ کینیڈا کی ترقی خوشحالی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
 دلچسپ بات یہ ہے کہ کینیڈا کا کوئی سرکاری مذہب نہیں،لامذہب لوگوںکی بھی بڑی تعداد یہاں رہائش پذیر ہے،مگر کسی مذہب کو سرکاری قرار نہ دینے کی وجہ لا مذہب لوگ نہیں بلکہ کینیڈا کی حکومت اور شہریوں کا اعتقاد ہے کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور ہر شہری کو اس حوالے سے آزادی حاصل ہے،جو مرضی مذہب اختیار کرے اور جس طرح چاہے اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی کرے کسی کو دوسرے پر اعتراض نہیں،اسی بناء پر کینیڈا میں مذہبی رواداری عروج پر ہے،آج تک مذہب کے حوالے سے کوئی ناخوشگوار واقعہ کینیڈین تاریخ کا حصہ نہیں،صرف ایک چھوٹے سے معاملے نے اس وقت سر اٹھایا جب حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمت،فوج اور پولیس میں بھرتی کیلئے سکھ برادری سے وابستہ لوگوں کے پگڑی پہننے پر پابندی کی تجویز آئی،مگر سکھ کمیونٹی کے معمولی احتجاج پر اس فیصلہ پر مزید پیش رفت روک دی گئی،اور مسلئہ خوش اسلوبی سے فساد سے قبل ہی حل کر لیا گیا۔
معاشرے اور سماج کو پر امن بنانے کیلئے اور شہری حقوق کے تحفظ کیلئے اسلام نے جو تعلیمات اپنے پیروکاروں کو دیں ان کا اطلاق آج کسی اسلا می ملک میں دکھائی نہیں دیتا مگر کینیڈا وہ ملک ہے جہاں اسلامی تعلیمات کے مطابق شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے کینیڈین معاشرہ میں عدل وانصاف،تعلیم و صحت کی سہولیات،رواداری عام ہے،جس نے معاشرہ کو نہ صرف پر امن بنانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ اسے خوشگوار بنادیا۔خالق کائنات کو معلوم تھا کسی زمانہ میںکینیڈا کی دھرتی اپنے شہریوںکیلئے امن،انصاف کا کو یقینی بنائے گی جس کے تحت قدرت نے اس سر زمین کو ہر قسم کے وسائل سے مالا مال کر دیا،قدرتی حسن جا بجا بکھیر دیا،زیر زمین معدنیات ،گیس اور پٹرولیم کے ذخائر رکھ دئیے،پہاڑوں کو صاف شفاف پانی کی فراہمی کا ذریعہ بنا دیااور مختلف رنگ نسل،مذہب، ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک گلدستہ کی شکل دیدی،جس کا ہر پھول اور پتی نہ صرف مہک رہی ہے بلکہ اپنی خوشبو سے(باقی صفحہ6بقیہ نمبر9)
 ماحول کو بھی خوشگوار بنا رہی ہے۔
شخصی اور مذہبی آزادیوں نے کینیڈین معاشرے کو  لازوال اور بے مثال بنا دیا ہے،امریکی صدر اور بھارتی وزیر اعظم جبکہ اسرائیلی ریاست کو اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے ممالک میں بھی رواداری کو فروغ دینا چاہیے اور اپنے شہریوں اور ہمسایہ ممالک کو جینے کا حق دینے کیلئے اقدامات بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ہم چاروں  کھانے پینے اور باتیں کرنے میں اتنے مگن تھے کہ پتہ ہی نہ چلا کب رات اتنی آگے جا  چکی ہے ۔میں انہیں گاڑی تک چھوڑنے آیا تو آخری بات  یہ تھی کہ پاکستان اور   خاص طور پر اسلامی ممالک کو اپنے شہریوں کو حقوق اور مراعات دینے کے لئے کینیڈا کی تقلید کرنا ہو گی ،ہمیں اگر دنیا کو جنت بنانا ہے تو ضروری ہے کینیڈین طرز کا معاشرہ تشکیل دیں۔
کالم

تازہ ترین خبریں