07:44 am
مسئلہ کشمیر : اقوام عالم اور عالمی ادارے

مسئلہ کشمیر : اقوام عالم اور عالمی ادارے

07:44 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 اس رپورٹ کے مطابق 145 شہریوں کوہندوستانی سکیورٹی فورسز نے شہیدکیااور20 شہریوں کوہندوسانی فورس نے شہیدکیا۔کشمیرمیں8 جولائی 2016اور 27 فروری 2017کے درمیان6221 شہریوں کوپیلٹ گن کے ذریعے زخمی کیاگیاجن میں سے728 کی آنکھیں زخمی ہوئیں ۔کشمیرکے وزیراعلی کے مطابق 54 لوگوں کی پیلٹ گنزکی وجہ سے آنکھیں متاثرہوئیں ۔سول سوئٹی کے مطابق وہ لوگ جوپیلٹ گنز کی وجہ سے جزوی طوریامکمل طور پراندھے ہوئے کی تعدادبہت زیادہ ہے۔معلومات کے حق سوالنامے کے مطابق جموں وکشمیرکی مسلح پولیس کے 16 لوگ بھی پیلٹ گنز کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔ اسی طرح ان کشمیری پنڈتوں کی تعداد مختلف بتائی جاتی ہے جن کومسلح گروہوں نے قتل کیااس مسلح بغاوت کے بعد جو1980کی دہائی کے آخرمیں شروع ہوئی ۔ کشمیری پنڈت سنگھارش سمیتی کے مطابق  جو ان پنڈتوں کی نمائندگی کرتے ہیں جوکشمیرمیں رہتے ہیں ،650 کشمیری پنڈتوں کومسلح گروہ قتل کرچکے ہیں۔دوسرے پنڈتوں خاص طورپروہ جوکشمیرسے باہررہتے ہیں زیادہ تعداد کا ذکرکرتے ہیں ۔جموں وکشمیرپولیس کی رپورٹ کے مطابق1989 سے اب تک 209 پنڈتوں کوقتل کیاجاچکاہے ۔دسمبر2017 میں وزیرداخلہ نے پارلیمنٹ کوبتایاکہ حکومتی اعداوشمار کے مطابق174 کشمیری پنڈتوں کو مسلح گروہوں
نے قتل کیاہے۔انہوں نے مزید بتایاکہ ریاستی پولیس نے 30 کیسوں میں فردجرم عائد کیاہے جبکہ 142 کیسوں کاسراغ نہیں مل سکا۔ 
2017 ایک کشمیری پنڈت گروپ جس کانام کشمیرکی روٹس ہے نے سپریم کورٹ آف انڈیامیں کیس دائرکیاجس میں کشمیر میں پنڈتوں کے قتل اور ان کی ہجرت کے بارے میں تحقیقات کامطالبہ کیااور 215 کیسوں کودوبارہ کھولنے کامطالبہ کیاجن میں 700 سے زیادہ کشمیری پنڈتوں کو1989-1990 میں قتل کیاگیا۔سپریم کورٹ نے ان بنیادوں پرپٹیشن کوردکردیاکہ 27 سال سے زیادہ گزچکے ہیں اور کوئی قابل ذکرنتیجہ سامنے نہیں آئے گاکیونکہ اس موڑپرکسی بھی ثبوت کاملناغیریقینی ہے ۔ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے انسانی ڈھالوں کواستعمال کرنے نے ہندوستانی فوج کے غیراخلاقی رویے کوظاہرکردیاجوکہ تمام قاعدوں کے خلاف ہے۔ آٹھ سالہ کشمیری لڑکی آصفہ بانوکے ساتھ زیادتی جوکہ ہندوستانی قبضہ شدہ جموں وکشمیرکے راسانہ گاوں میں رہتی تھی اور کشمیر کی آبادیاتی تناسب کوزبردستی تبدیل کرنے کومشکوک نظروں سے دیکھاجاتاہے۔حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ بھارتی حکومت کالے قانون افسپا پر نظرثانی کرنے اور منسوخ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے اپنی جاری سالانہ رپورٹ میں کہا ہے گزشتہ سال مئی میں بھارتی فوج نے بڈگام میں بھارتی پارلیمانی انتخابات کے دوران ایک راہگیر کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے والے فوجی افسر کو شاباش دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے بھارتی حکومت کالے قانون افسپا پر نظرثانی اور وادی میں اس کے نفاذ کو منسوخ کرنے میں بھی ناکام رہی جبکہ یہ قانون بھارتی فوجیوں کو وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا اس قانون کے تحت گزشتہ طویل عرصے سے بھارتی فوج بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال وادی میں حکام نے 27 بار انٹرنیٹ سروسز بھی بند کر کے لوگوں کو آزادی اظہار رائے سے محروم کیا جبکہ بڑے پیمانے پر پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئیں۔
کشمیر ایک بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ تنازع ہے۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے زیادہ سرگرم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی قیادت نے بھی  پاکستان پر زوردیا کہ دنیا بھر میں قائم اپنے سفارت خانوں اور سفارتی چینلوں کو مزید متحرک کرے اور انہیں کشمیریوں کی جدوجہد اور جموں وکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرانے کی ذمہ داری سونپ دے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک اہم فریق ہے اور اس تنازعے کا حتمی حل پاکستان کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہے، لہذا پاکستان کومزید جرات اور حوصلے کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبریں