07:46 am
 باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے

باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے

07:46 am

کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی میں مصروف نہتے مسلمانوں کی شہادت پر تمام عالم اسلام اور درد دل رکھنے والے طبقے سوگوار ہیں ۔ تاریخ میں یہ واقعہ بد ترین دہشت گردی کے طور پر رقم ہو چکا ہے۔ عالمی امن کے ٹھیکیدار امریکی صدر ٹرمپ کی زبان سے البتہ  رسمی مذمت  کے دوران بھی  دہشت گردی کا لفظ ادا  نہ ہو پایا ۔ دہشت گرد حملہ کرنے والے سفاک  قاتل  کا آئیڈیل امریکی صدر ٹرمپ ہے۔ دونوں میں قدر مشترک کیا ہے ؟ یقیناً نفرت کا جذبہ دونوں میں مشترک ہے ۔ تارکینِ وطن خصوصاً مسلمانوں سے نفرت ! نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ٹیلی فون پر صدر ٹرمپ  کو یہ کہہ کہ  آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ ہو سکے تو مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کریں ۔  دستیاب اطلاعات کے مطابق دہشت گرد اور اس کے سہولت کار بد ترین مسلم دشمن سوچ کے پیروکار ہیں۔ 
 
دنیا بھر میں  مسلمانوں نے شہداء کا  سوگ منایا ہے ۔ نیوزی لینڈ کی حکومت نے مسلمانوں سے مثالی یکجہتی کا اظہار کر کے اپنی اعلیٰ معاشرتی روایات کا بخوبی اظہار کیا  ہے۔ غم و غصے کی ملی جلی کیفیت کے شکار مسلمانوں کو اس  نازک معاملے پر تدبر و حکمت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بلاشبہ طویل عرصے سے مسلمان دنیا بھر میں قتل و غارت گری کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ بین الاقوامی میڈیا پر مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی شدت پسند اور دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ اس نا انصافی پر مبنی رویے سے اختلاف کے باوجود یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ نفرت اور ناانصافی پر مبنی اس مہم کے پیچھے چند با اثر مغربی ممالک کا  عمومی رویہ کار فرما رہا  ہے ۔ امریکہ بہادر مسلم دشمنی کے معاملے میں دیگر ممالک سے کئی ہاتھ آگے ہے۔  اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کی جانبدارنہ کارکردگی اور دوہرے معیارات کا بنیادی سبب بھی  چند  بااثر ممالک کا گٹھ جوڑ ہی ہے۔ رہی سہی کسر مسلم ممالک کی نا اتفاقی اور کمزوری سے پوری ہو جاتی ہے۔ یہ حقیقت بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ مسلم دشمنی میں مبتلا  ممالک میں مسلم تارکین وطن کی بڑی تعداد  بھی آباد ہے ۔ ان ممالک کے معاشروں نے مسلم تارکین وطن کو اپنے دامن میں سمو رکھا ہے۔ 
تعلیم اور معاش کے میدان میں اپنا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے ترک وطن کر کے بیرون ِ ملک آباد ہونے والے  بہ رضا و رغبت مغربی معاشروں کا  رخ کرتے ہیں ۔ بہت سے سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے بعض طبقوں کی جانب سے تعصب اور نفر ت پر مبنی رویے کا اظہار نہ تو اچھنبے کی بات ہے اور نہ ہی کوئی غیر متوقع عمل ۔  نام نہاد برادر اسلامی ممالک میں بھی  پاکستانی تارکین وطن سے جس نفرت انگیز سلوک کا ذکر کیا جاتا ہے اُس کا تذکرہ  سن کے کانوں کو ہاتھ  لگانے کو دل کرتا ہے  تاہم یہ طے شدہ امر ہے کہ نائن الیون کے بعد مغرب میں اُٹھنے والی مسلم دشمنی کی لہر نے دنیا کے بڑے حصے کو متاثر کیا ہے۔ اسلاموفوبیا کی اصطلاح کا کثرت سے استعمال اس مسلم دشمن  رجحان کا بین ثبوت ہے۔ سفید فام برتری کے نقاب سے مغرب کا  مسلم دشمن چہرہ چھپائے نہیں چھپ رہا  ۔
 یہ حقیقت ہے کہ مغرب کبھی بھی ایک مذہبی اکائی نہیں رہا لیکن فی زمانہ امریکہ ، برطانیہ اور فرانس  کے  کردار  نے مغرب کے اجتماعی تاثر کو بگاڑا ہے ۔ مغرب میں نیوزی لینڈ جیسے پرامن ممالک بھی ہیں جہاں مسلمانوں کو برابر کا شہری سمجھا جاتا ہے اور دہشت گردی کے شکار خاندانوں سے اظہار ہمدردی کے لیے ملک کی وزیر اعظم سر پر دوپٹہ اوڑھ کے خاندان کے فرد کی طرح متاثرین کو گلے لگا تی ہے ، جبکہ اسی مغرب میں ٹرمپ جیسا  متنازعہ شخص امریکہ جیسے طاقتور ملک کا صدر بھی ہے جس کے نفرت انگیز رویے کو جنونی قاتل اپنے لیے مشعل راہ قرار دیتا ہے اور  جس کی زبان سے مسلمانوں کے لیے ڈھنگ کا تعزیتی لفظ بھی نہیں نکلتا ۔ نیوزی لینڈ کی حکومت کے  مثبت رویے  سے پیدا ہونے والا اچھا  تاثر بالآخر ٹرمپ کے قائم کردہ منفی تاثر سے مات کھا جائے گا۔ مسلم دنیا کی مجموعی سوچ پر فلسطین ، میانمار ، شام ، عراق، افغانستان  اور کشمیر چھایا ہوا ہے ۔ یہ محض علاقے نہیں انسانی المیے ہیں ۔  یہ نام سنتے ہی مسلمانوں کی نسل کشی ، حق تلفی ، تشدد ، عصمت دری ، بھوک و افلاس کا تصور ذہن میں اجاگر ہوتا ہے۔ مسلم معاشرے کی سو چ میں  پکتا یہ فکری لاوا باہر نکلنا ہے۔  
مغرب نے مذہب کو ریاست سے جد ا تو کر لیا لیکن مذہبی بنیادوں پر نفرت کی سوچ نہیں بدل پایا۔ جارج بش نے صلیبی جنگ (کروسیڈ) کا لفظ بے دھیانی میں نہیں بولا تھا ۔ عراق ، شام ، افغانستان میں گذشتہ دو دہائیوں کی امریکی سیاہ کاریاں کیا ثابت کرتی ہیں؟ ایران اور پاکستان سے کیا شکایت ہے؟ اسلام کا تصورِ جہاد قبول نہیں  لیکن امریکہ کی فوجی یلغار پر مغرب کو کوئی اعتراض نہیں ۔پاکستان کے آئین میں اسلام کا برائے نام تذکرہ بر داشت نہیں لیکن  یہودی مذہب پر قائم اسرائیلی ریاست پر کوئی اعتراض نہیں۔ فلسطینی بچوں کے خون کی قیمت اور یہودی بچوں کے خون کی قیمت جب تک ایک نہیں ہو گی اس وقت تک مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔ اسلاموفوبیا  نہیں  دراصل مسلم دشمنی  بڑی مغربی طاقتوں کی سوچ پر حاوی ہے۔ مسلم دشمنی  اقوام متحدہ کی  مجموعی کارکردگی سے  بھی  عیاں ہے ۔
 نیوزی لینڈ کی حکومت کی عاجزی اور خوش اخلاقی سر آنکھوں پر لیکن مسئلے کی جڑ کہیں اور ہے۔  فکری سطح پر عالم اسلام کو ایسے راہنما درکار ہیں جو ردعمل کے لاوے کی قوت کو مثبت راہ پر گامزن کر سکیں ۔ مسلم دنیا نہ تو موم کی ناک بن  سکتی ہے اور نہ ہی جا بجا سر ٹکرا کے اپنے وسائل برباد کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے ۔ معتدل مغربی عناصر سے مکالمہ درکار ہے! بھارت ، اسرائیل ، امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی مسلم دنیا پر دست درازی روکے بنا کوئی چارہ نہیں! دوہرا معیار کب تک چلے گا؟ حضرتِ اقبالؒ نے فرمایا تھا ۔
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر 
ہم پوچھتے ہیں شیخِ کلیسا نواز سے 
 مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
 حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات 
اسلام کا محاسبہ ، یورپ سے در گذر 

تازہ ترین خبریں