07:47 am
اجلے اور روشن کردار

اجلے اور روشن کردار

07:47 am

اس امت کو اللہ تعالیٰ نے جن جلیل القدر عظیم شخصیات سے نوازا ہے اور جن کا وجود اس امت کے لیے باعث خیر بھی بنا اور باعث فخر بھی ، ان میں سے ایک جلیل القدر تابعی حضرت سیدنا حسن بصریؒ ہیں۔ 
 
سیدنا حسن بصری ؒکے والد محترم کا نام ابو الحسن یسار تھا، جو کہ جلیل القدر صحابی حضرت زید بن ثابتؓ انصاری کے غلام تھے، جب کہ آپ کی والدہ محترمہ ، ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اور جب کبھی بھی حضرت ام سلمہؓ  ان کی والدہ کو باہر کسی کام پر بھیجتیں تو خود ان کے بیٹے حسن کو سنبھال لیتیں، اور انہیں اپنا مبارک دودھ پلا کر بہلاتیں، اس طرح گویا کہ بچپن سے ہی آپ کو امت کی ماں، حضرت ام سلمہؓ کی تربیتی آغوش میسر آگئی اور گھرانہ نبوتؐ کی برکات نے اس وقت انہیں سیراب کرنا شروع کردیا جب کہ شعور کی زندگی ابھی شروع نہ ہوئی تھی۔
اسی لیے علمائے امت کہتے ہیں کہ سیدنا حسن بصری ؒسے جو علم و حکمت کے چشمے جاری ہوئے اس کا ایک بڑا سبب یہی مبارک دودھ تھا جو انہوں نے ام المومنین سیدہ ام سلمہؓ سے پیا تھا۔
پھرمعاملہ صرف حضرت ام سلمہؓ  کا نہ تھا بلکہ اس برکت سے تمام ہی ازواج مطہرات کے گھر ان کی آمد و رفت اور کھیل کودجاری رہتا، خود کہتے ہیں کہ: حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں، میں ازواج مطہرات ؓکے گھروں میں جاتا رہتا تھااور (کھیل کے طور پر) ان کے گھروں کی چھت کو ہاتھ لگانے کی کوشش کیا کرتا تھا۔
آپ کی والدہ محترمہ آپ کی تربیت کے لیے آپ کو بعض کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس لے جاتیں اور ان سے ان کے حق میں دعا کراتیں... چنانچہ جب انہیں حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاتیں تو وہ انہیں یہ دعا دیا کرتے تھے:اے اللہ! اس بچے کو دین کا فقیہ بنا، اور لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا فرما(البدایہ والنہایہ)
جس وقت حضرت سیدنا عثمانؓ کی شہادت ہوئی توان کی عمر چودہ سال تھی... اس عمر میں کبار صحابہ کرامؓ اور ازواج مطہرات ؓکے ماحول میں رہتے ہوئے انہوں نے ان حضرات کی صحبت سے دین کا کتنا علم حاصل کیا ہوگا، ان کی صحبت سے کیسے آداب سیکھے ہوں گے اور ازواج مطہرات کے گھر میں آمد و رفت کی وجہ سے نبی کریمﷺ کے مبارک آثار کو بچشم خود دیکھا ہوگا ، یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں، اور یہی وہ سعادتیں تھیں جس نے انہیں اپنے ہم عصر تابعین میں ایک ممتاز ترین مقام عطا کردیا تھا۔
جہاد کے لیے طویل ترین سفر کی صعوبت بھی برداشت کی‘ ایک مرتبہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: اے ابوسعیدؒ! کیا آپ نے کبھی جہاد میں حصہ لیا ہے؟ تو فرمایا: ہاں! حضرت عبدالرحمن بن سمرہ  رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل کے جہاد میں شریک ہوا تھا۔
بلند پایہ فقیہ اور عبادت گزار صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ جہاد میں شرکت کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ نڈر اور بہادر مسلمان تھے‘ چنانچہ ہشام بن حسانؒ کہتے ہیں۔ حضرت حسن بصریؒ اپنے زمانہ کے بہادر ترین لوگوں میں سے تھے۔ جہاد کسی باطل کے بھی خلاف ہومسلمان بڑے شوق اور رغبت سے اس میں شریک ہوتے ہیں مگر مشرکین کے خلاف جہاد ہو تو مسلمانوں کے جذبات کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ حضرت حسن بصری ؒکے ساتھ بھی تھا۔
جعفر بن سلیمان ؒکہتے ہیں کہ: مہلب بن ابی صفرہ ؒجب مشرکین کے خلاف لشکرکشی کرتے تو حضرت حسن بصری ؒان کے لشکر میں ان گھڑ سواروں میں شامل ہوتے تھے جو سب سے آگے بڑھ کر ان مشرکین پر حملہ آور ہوتے تھے۔ (تاریخ یعقوب بن سفیان فسوی)
حضرت حسن بصریؒ حلال و حرام کے مسائل جاننے میں سب سے بڑے عالم ہیں۔ رسول کریمﷺ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب بھی وہ حدیث سنتے یا بیان کرتے جس میں کھجور کے تنے کا نبی کریمﷺ کے فراق اور جدائی میں رونے کا ذکر ہے تو خود بھی روپڑتے اور لوگوں سے بھی کہتے: ارے اللہ کے بندو! یہ ایک کھجور کا تنا رسول اللہﷺ کا اتنا مشتاق ہے تو تم لوگوں کو چاہئے کہ تم رسول اللہﷺ سے ملاقات کے اس سے بھی زیادہ مشتاق بنو۔(سیر الاعلام للذہبی)
جس وقت ان کے زمانے میں حجاج بن یوسف وغیرہ جیسے بادشاہوں کے متعلق مختلف مسلح تحریکات چلیں تو سیدنا حسن بصری ؒان سے الگ تھلگ رہے، اور جب کوئی ان سے اس بارے میں پوچھتا کہ کس کا ساتھ دیا جائے ؟ تو فرماتے : کسی کا ساتھ نہ دیا جائے، پھر جب کسی نے مزید تفتیش کے لیے صراحتاً پوچھا کہ امیر المومنین کابھی نہیں؟ تو فرمایا :ہاں اس کا بھی نہیں (کیوں کہ حضرت حسن بصریؒ اسے مسلمانوں کی باہمی جنگ اور فتنہ سمجھ رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے بیچ لگی اس آگ کو مزید دہکائیں)
اب ظاہر ہے کہ ظالم بادشاہ کے لیے ایسا بے ضرر موقف بھی ناقابل برداشت ہوتا ہے اس لیے حجاج بن یوسف نے کئی مرتبہ انہیں پکڑنے کی کوشش کی، مگر ہر مرتبہ ناکام ہوا۔ اسی عرصے میں دو سال تک حضرت حسن بصری ؒعلی بن زید بن جدعان کے گھر میں روپوش رہے۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر)
آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم کسی کو دنیا داری میں آگے بڑھتا اور مقابلہ کرتے دیکھو تو تم آخرت سدھارنے اور سنوارنے میں آگے بڑھنے کی کوششوں میں لگ جائو‘ جو شخص بھی دراہم و دینار کو عزت دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کو ذلت میں ڈال دیتے ہیں۔بندہ اس وقت تک خیر پر رہے گاجب تک اس کا ہر کام بھی اللہ کے لیے ہو اور ہر بول بھی اللہ کے لیے ہو۔حضرت سیدنا حسن بصری ؒکی ایک جامع دعا کا تحفہ بھی دیکھ لیجیے:اے اللہ! ہمارے دلوں کو شرک سے، تکبر سے، نفاق سے، ریا کاری سے، سناوے سے، آپ کے دین میں شک سے پاک فرمادیجیے۔ اے دلوں کو پھیرنے والے!ہمارے دل کو اپنے دین پر جمادیجئے اور سیدھے و مضبوط دینِ اسلام کو ہمارا دین بنادیجئے۔

تازہ ترین خبریں