07:49 am
امریکہ کی نئی زہریلی دھمکی

امریکہ کی نئی زہریلی دھمکی

07:49 am

٭نیوزی لینڈ کے بعد ہالینڈ میں بھی دہشت گردی سے پوری دنیا میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہالینڈ کے ایک شہریوتریخت میں ایک شخص نے ایک ٹرام پر فائرنگ کر دی، تین افراد ہلاک 9 زخمی ہو گئے،ترک نژاد شخص گرفتار، برطانیہ میں دو افراد کو چاقو گھونپ دیئے گئے! محترم سمیع اللہ ملک کی تحریر کے مطابق گلوبل ڈیٹا بیس ٹیررازم‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1970ء سے 2007ء تک دنیا بھر میں دہشت گردی کے 87000 واقعات ہوئے ان میں 2695 واقعات کا الزام مسلمان کہلانے والے افراد پر لگا باقی 84305 وارداتیں غیر مسلم افراد نے کیں۔
٭امریکہ کی پاکستان کے خلاف پھر نکسیر پھوٹ پڑی۔ پاکستان کے دشمن وزیرخارجہ مائیک پومپیو (کیسا فضول نام ہے، پومپئی کے کھنڈرات یاد آ جاتے ہیں) نے کس تکبر اور فخر کے ساتھ یاوہ گوئی کی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں دی گئی ہیں ان کے باعث پاکستان کی ایٹمی تنصیبات غیرمحفوظ ہو گئی ہیں جس سے امریکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان بھارت میں دہشت گرد بھیج رہا ہے! پاکستان کو مزید اقدامات کرنے ہوں گے! اس بدزبان وزیر نے بڑے فخر کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اسلام آباد کے خلاف کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا، یہ کام بھی ہم نے ہی کیا ہے! مزید ہرزہ سرائی کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے ماحول کی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ (پلوامہ فائرنگ) امریکی وزیرخارجہ کی یہ بدزبانی نئی نہیں۔ ٹرمپ کے صدر بنتے ہی پاکستان کے خلاف ان لوگوں کی کالی زبانیں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے لگی تھیں۔ مائیک پومپیو کو 26 اپریل 2018ء کو اس عہدے پر محض اس کی پاکستان دشمنی کی انتہا کے باعث لایا گیا تھا۔ وہ مسلسل پاکستان کے خلاف زہر اگلتا جا رہا ہے۔ اس کے آقا ٹرمپ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پلوامہ واقعہ کا سیدھے سیدھے پاکستان پر الزام لگایا۔ ان ساری باتوں کو سیاہ رُو حسین حقانی کے پاکستان کے خلاف امریکی اخبارات میں مضامین بھرپور تقویت اور رہنمائی دے رہے ہیں۔ 
حسین حقانی؛ جماعت اسلامی سے کود کر مسلم لیگ ن میں گھس گیا۔ میاں شہباز شریف کی 1992ء کی انتخابی مہم کے میڈیا سیکشن کا انچارج بن گیا۔ فرضی پوسٹروں اور تشہیر وغیرہ کے نام پر لاکھوں کمائے! انتخابات کے بعد وزیراعلیٰ شہباز شریف نے مشیر بنا دیا۔ سرکاری دفتر، بنگلہ، گاڑی پر جھنڈا! اس شخص کو عزت راس نہ آئی۔ پیپلزپارٹی کی ایک اہم عہدیدار خاتون کی بہن سے رومانی قسم کے مراسم پیدا کر کے پیپلزپارٹی کو ن لیگ کے اندرونی راز فراہم کرنا شروع کر دیئے۔ اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل میں مستقل طور پرایک کمرہ بک کرا لیا۔ وہاں اس خاتون سے اکثر ملاقاتیںہوتیں۔ (شادی کر کے طلاق بھی دے دی) نوازشریف وزیراعظم، شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ ایک خفیہ ایجنسی نے اس کمرے کے اندر ہونے والی بات چیت نوازشریف اور شہباز شریف کو کراچی کے سفر کے دوران پیش کر دی۔ وہیں سے حسین حقانی کو فوری طور پر کراچی پہنچنے کا حکم ملا۔ ہوائی اڈے کے وی آئی پی روم میں اس بات چیت کی ریکارڈنگ سنی گئی۔ شہباز شریف نے حسب مزاج حسین حقانی کو سخت ترین گالیوں کے ذریعے اسے اس کا ’’شجرہ نسب‘‘ یاد دلایا۔ مسئلہ بن گیا کہ اس شخص کے پاس ن لیگ کے اہم سیاسی و نجی راز تھے اسے پاکستان سے کیسے نکالا جائے کہ باہر جا کر خاموش رہے۔ اسے سری لنکا میں ہائی کمشنر بنا دیا گیا۔ اس نے وہاں جاتے ہی کام دکھایا۔ پاکستان نے سری لنکا کو چھ کروڑ روپے کے پنکھے بطور تحفہ دینے کا معاہدہ کیا تھا۔ حسین حقانی لاہور آیا۔ تین کروڑ روپے کے پنکھے خریدے، چھ کروڑ کا بل بنوایا، تین کروڑ اپنی جیب میں ڈال لئے۔ میں نے اخبار میں سکینڈل چھاپ دیا۔ یہ شخص سری لنکا سے گورنر ہائوس آیا۔ گورنر نے مجھے طلب کر لیا۔ میں گورنر ہائوس گیا۔ حسین حقانی ناراض ہونے کی بجائے بڑی محبت سے ملا۔کوئی گلہ نہیں کیا۔ بغل گیر ہوا اور ساتھ ہی سری لنکا سیروتفریح کی دعوت بھی دی۔ گورنر نے بھی مجھے ہاتھ ہولا رکھنے کو کہا۔ میں نے واپس آ کر یہ ساری باتیں اگلے کالم میں چھاپ دیں۔ یہ دونوں سٹپٹا گئے پھر کسی نے رابطہ نہ کیا۔ شریف حکومت ختم ہوتے ہی حسین حقانی کی سفارت بھی ختم ہو گئی مگر پیپلزپارٹی اس کی سیاسی ’سرمایہ کاری‘ کی پذیرائی کے لئے تیار تھی، اسے فوراً وفاقی سیکرٹری اطلاعات بنا دیا۔ اس کے عیش ہو گئے۔ عیش و عشرت کی نئی راہ کھل گئی۔ امریکی سفارت خانے میں بار بار آمد و رفت ہونے لگی۔ امریکہ کو ایسے ایسے راز بتائے کہ اس نے ’’حق خدمت‘‘ کے طور پر صدر زرداری پر دبائوڈال کر اسے امریکہ میں پاکستان کا سفیر بنوا دیا۔ یہاں سے اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہونا شروع ہوا۔ اس نے راتوں رات سینکڑوں مسلح امریکی کمانڈوز کو ویزے دے کر پاکستان میںداخل کر دیا۔ پھر اسلام آباد آ کر صدر زرداری کو دکھا کر (بعض ذرائع کے مطابق خود زرداری کے کہنے پر) امریکی وزارت دفاع کے ذریعے امریکہ کے صدر کو ایک مراسلہ بھیجا (میمو سکینڈل) کہ پاکستان میں دہشت گردی کے محفوظ اڈے ایٹمی ہتھیاروں کی تنصیبات کے لئے خطرہ بن گئے ہیں، پاکستان کی افواج ان کی حفاظت نہیں کر سکتیں اس لئے امریکہ پاکستان کو اسلحہ اور ہر قسم کی امداد بند کر کے پاک افواج کو مفلوج اور بے بس کر دے اور خود ان ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کر کے انہیں بے اثر بنا دیا جائے۔ آصف زرداری اس سارے معاملے سے مکمل طور پر باخبر بلکہ ملوث تھے۔ ایک امریکی اخبار نے یہ مراسلہ چھاپ دیا۔ آصف زرداری اور پیپلزپارٹی حواس باختہ ہو گئے اور فوری طور پر حسین حقانی کوغدار قرار دے کر ان باتوں سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا! نوازشریف نے آصف زرداری کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا۔ خود عدالت میں پیش ہوئے (اب جپھیاں!) حسین حقانی آیا، اگلی پیشی پر حاضر ہونے کی یقین دہانی پرامریکہ بھاگ گیا۔ سپریم کورٹ کے بار بار بلانے پر نہیں آیا، امریکہ نے اسے بھیجنے سے انکار کر دیا۔ قارئین کرام! امریکی وزیرخارجہ نے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کے غیر محفوظ ہونے کا جو رونا رویا ہے، جو خود پیپلزپارٹی سے غدار قرار پانے والے حسین حقانی نے بہت پہلے امریکی صدر کے نام اپنے مراسلے میں بیان کیا تھا۔ پتہ نہیں، نیب نے آصف زرداری سے جو 100 سوال پوچھے ہیںان میں میمو سکینڈل کا کوئی سوال شامل ہے یا نہیں؟
٭آج کا کالم امریکہ اور اس کے لے پالک حسین حقانی کے بارے میں ہی ختم ہو گیا۔ مگران روح فرسا حقائق کو بھی سامنے لانا ضروری تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو وزیراعظم عمران خان کی ڈانٹ ڈپٹ کی دلچسپ رپورٹ بیچ میں ہی رہ گئی۔ صرف اتنی بات کہ عثمان بزدار نے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ایک بیان دیا تھا کہ ہم سادہ لوگ ہیں۔ وزیراعلیٰ ہائوس کے ایک کمرے میں پورا خاندان سوتا ہے۔ بچے فرش پر بستر بچھا لیتے ہیں۔ پہلے روز پروٹوکول کی تین گاڑیاں تھیں، اپنے گائوں کی طرف ڈی جی خان گئے تو پروٹوکول کی 30 سے زیادہ گاڑیوں کا قافلہ ساتھ تھا اب اسمبلی سے اپنے لئے لاہور میں تا عمر شاندار اعلیٰ فرنیچر والے سرکاری بنگلے، 2500 سی سی کی نئی گاڑی، مفت بجلی، پانی، بدستور پروٹوکول وغیرہ کا بل منظور کرا لیا۔ پہلے کہا کہ میں اس بل سے لاعلم تھا! (وزیراعلیٰ بل سے لاعلم؟) عمران خان نے ڈانٹا تو کیا معصومانہ عذر پیش کیا کہ اسمبلی کے ایوان نے متفقہ طور پر (نصف ارکان غیر حاضر تھے)، بل پاس کیا تھا۔ میں کیا کرتا؟ اور اب! بنگلہ وغیرہ ختم اور وزارت اعلیٰ ہاتھ سے جانے کے لالے پڑ گئے ہیں۔ (وہی حنیف رامے والا حال!) مجھے شادی بیاہ کا ایک گانا یاد آ رہا ہے۔ بیوی خاوند سے پوچھتی ہے کہ رات کو میری اجازت کے بغیر فلم دیکھنے کیوں گئے۔ وہ کہتا ہے کہ میں تو نہیں جانتا تھا۔ دوست زبردستی لے گئے!

تازہ ترین خبریں