08:03 am
مودی کو جتوانے کے لئے عام انتخابات کی تاریخوں کا انتخاب

مودی کو جتوانے کے لئے عام انتخابات کی تاریخوں کا انتخاب

08:03 am

کہنے کو تو ہندوستان کا الیکشن کمیشن آزاد اور خود مختار ہے، لیکن اگلے عام انتخابات کی تاریخوں کے بارے میں گزشتہ اتوار کو الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ نے جو اعلان کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خواہشات اور سیاسی مصلحتوں کے مطابق تاریخیں طے کی گئی ہیں اور مقصد ، بھارتیا جنتا پارٹی کو زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ پہنچانا ہے۔ 
 
اعلان کے مطابق لوک سبھا کے لئے انتخابات   اپریل سے شروع ہوں گے اور  مئی تک سات مراحل میں ہوں گے ۔ سب سے زیادہ متنازعہ فیصلہ ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے بارے میں ہے جہاں لوک سبھا کی  نشستوں کے لئے انتخابات پانچ مراحل میں ہوں گے۔ ہندوستان کی دوسری کئی ریاستوں میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت ہوں گے لیکن کشمیر میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات بیک وقت کرانے کے بجائے فی الوقت لوک سبھا کے انتخابات ہوں گے اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا اعلان لوک سبھا کے انتخابات کے بعد کیا جائے گا۔ اس وقت کشمیر میں صدارتی راج نافذ ہے جو لوک سبھا کے انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد تک نافذرہے گا۔ الیکشن کمیشن نے کشمیر میں فی الحال ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے التوا کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ سیکورٹی کے حالات مخدوش ہیں۔ یہ جواز اس لحاظ سے عجیب و غریب ہے کیونکہ جب لوک سبھا کے انتخابات  اپریل سے ہو سکتے ہیں تو ریاستی اسمبلی کے انتخابات بیک وقت کیوں نہیں ہو سکتے۔پھر یہ بھی عجیب و غریب بات ہے کہ اننت ناگ میں لوک سبھا کی ایک نشست کے لئے انتخاب تین مراحل میں ہوگا۔ وجہ ابھی تک نہیں بتائی گئی ہے جبکہ نریندر مودی کی ریاست گجرات میں لوک سبھا کے لئے انتخاب صرف ایک مرحلہ میں ہوگا۔ عام خیال ہے کہ مرحلہ وار انتخاب کی وجہ سے انتخابی مہم میں بہت زیادہ دشواری پیش آتی ہے ۔
اتر پردیش میں جہاں مسلم ووٹرز کی بڑی تعداد ہے ، انتخابات سات مراحل میں رمضان المبارک کے دوران ہوں گے ۔ بیشتر مسلم رہنمائوں نے رمضان المبارک میں پولنگ کی تاریخوں کے تعین پر احتجاج کیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ یہ تاریخیں انہیں ووٹ سے محروم کرنے یا ان کے لئے دقتیں پیدا کرنے کے لئے رکھی گئی ہیں۔ 
ہندوستان میں اگلے ماہ ہونے والے عام انتخابات جن میں توقع ہے نوے کروڑ   ووٹرز اپنا حق رائے دہی اختیار کریں گے اس لحاظ سے بے حد اہم تصور کئے جارہے ہیں کہ پچھلے پانچ سال کے دوران کٹر ہندو قوم پرستی ، ہندوتا کے بے پایا ں فروغ کے بعد اب ہندوستان کے معاشرہ کے مستقبل کی کیا سمت ہوگی اور ہندوستان کی جمہوریت جو اس وقت سخت نرغے میں ہے مستقبل میں اپنا دفاع کر سکے گی؟  پچھلے پانچ سال کے دوران نریندر مودی کے انداز حکمرانی نے وفاقی نظام کو مسمار کر دیا ہے اور اقتدار کی مرکزیت ابھری ہے جس میں سارے اہم فیصلے ایک فرد واحد نریندر مودی نے کئے ہیں  جس میں نمایاں فیصلہ دسمبر  میں متوازی معیشت اور کالے دھن کے خاتمہ کے نام پر ملک میں نوٹ بندی کا تھا جس میں پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ منسوخ کر کے پانچ سو اور دو ہزار کے نئے نوٹ جاری کئے گئے تھے اس فیصلہ کی وجہ سے ایک لمبے عرصہ تک ملک میں کیش کی سخت قلت رہی اور معیشت معطل ہو کر رہ گئی۔ اس فیصلہ کی زد سے ملک کا کوئی شہری نہیں بچا ۔لوگوں کو اپنے نوٹ بدلوانے کے لئے دن دن بھر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا اور اس دوران کئی اموات بھی ہوئیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام معیشت سے کالے دھن کے خاتمہ کے سلسلہ میں ناکام رہا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ نریندر مودی کا تھا اور اس بارے میں وزیر خزانہ کو بھی علم نہیں تھا۔ اسی طرح پلواما کے خود کش حملہ کے بعد سرحد پار پاکستان میں بالا کوٹ پر فضائی حملہ کا بھی فیصلہ نریندر مودی نے خود کیا تھا جس کی اطلاع صرف ان کے قومی سلامتی کے مشیر اور مسلح افواج کے تین سربراہوں کو تھی ۔ حتیٰ کہ وزیر دفاع نرملا سیتارمن کو نہ تو اعتماد میں لیا گیا تھا اور نہ انہیں اس فیصلہ کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی۔ 
مودی کا دور ا س بنا پر بے حد بدنام رہا ہے کہ حکومت کی پالیسی کے بارے میں جس نے بھی سوال کیا اسے دیش دشمن قرار دیا گیا، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی کے دوران۔ جس نے بھی بالا کوٹ میں جیش محمد کے ساڑھے تین سو افراد کی ہلاکت کے دعویٰ کے بارے میں سوال کیا یا تشکیک کا اظہار کیا اسے غدار قرار دیا گیا۔ اس دوران بڑے بڑے سرمایہ داروں کے میڈیا نے اپنے مفادات کی خاطر مودی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت میں ساری حدود پار کر دیں جس کی وجہ سے ان کا نام ’’گودی میڈیا ‘‘ مشہور ہوگیاہے۔ بلا شبہ اس وقت مودی کا حامی میڈیا ملک پر پوری طرح سے چھایا ہوا ہے اور بیشتر ٹیلی وژن چینلز مودی کے دیوانہ وارگن گاتے نظر آتے ہیں۔ ہندوستان کے میڈیا کا اس سے پہلے کبھی یہ حال نہیں رہا۔ دی ہندو اور ہندوستان ٹائمز ایسے سنجیدہ اخبارات ان حالات میں گہنا گئے ہیں۔ 
مودی کا دور گائے کے تحفظ کے نام پر پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور گائے کشی کا الزام عائد کر کے مسلمانوں کے قتل کے جنون کی وجہ سے ہندوستان کی تاریخ پر بد نما داغ رہے گا ۔گائے کے تحفظ کی مہم کی وجہ سے گائے کا گوشت غیر ممالک میں برآمد کرنے والے تاجروں کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے  اور کھالوں کی شدید قلت کی وجہ سے موچیوں کو پریشانی کا الگ سامنا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ دلت بھی ظلم و تشدد کا نشانہ بنے ہیں۔ گاندھی جی نے دلتوں کو ہندو دھارے میں لانے کے لئے انہیں ہریجن کا نام دیا تھا لیکن کٹر ہندوئوں کے ظلم و ستم کی وجہ سے گاندھی جی کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیںاور ہندوئوں اور دلتوں کے درمیان وسیع خلیج حائل ہوگئی ہے۔ 
پاکستان کے بارے میں نریندر مودی کی پالیسی عجیب و غریب ادوار سے گزری ہے۔ کبھی اس پر سیاسی مفادات کی خاطرجنگ کی آگ بھڑکانے کا جنون طاری رہا ہے اور کبھی امن کی نقاب اوڑھ کر دوستی کی پینگیں بڑھانے کی خواہش کا اظہار اس پر چھایا رہا ہے۔ پچھلے پانچ سال کے دوران نریندر مودی کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کا محاصرہ کیا جائے اور اس مقصد کیلئے انہوں نے افغانستان ، ایران ، عمان اور متحدہ عرب امارات کے پے در پے دورے کئے۔ اگلے عام انتخابات میں اس کا فیصلہ ہوگا کہ آیا ہندوستان کو مودی کے اس انتہا پسند دور سے نجات ملے گی یا نہیںاور کیا یہ دور اگلی کئی دہائیوں تک جاری رہے گا۔ اس وقت کٹر ہندوتا اور پاکستان دشمنی کا جو جنون پورے ملک پر طاری ہے اس کے پیش نظر مودی کے دور کے خاتمہ کے امکان کچھ کم ہی نظر آتے ہیں ۔ 

تازہ ترین خبریں