08:04 am
پاک فوج کے بہادر شہید سپاہی کے گھر حاضری

پاک فوج کے بہادر شہید سپاہی کے گھر حاضری

08:04 am

میں بدھ کی علی الصبح ضلع ساہیوال کے گائوں 79-S-Rاناسی فائیو آر کے قبرستان میں ایک ایسی قبر پہ کھڑا  تھا کہ جس کی آغوش میں ایک رات قبل ہی نسیم عباس شہید کو پاک فوج کے ایک دستے نے سلامی دیکر دفن کیا تھا۔ 26سالہ نسیم عباس پاک فوج کا سپاہی تھا اور 18مارچ کو بارڈر پر شہادت کا جام نوش کرکے خلد بریں کامالک بنا۔
 
اس کے چچا ریاست علی وٹو میرے دوست ہیں‘ میں بدھ کی صبح گائوں پہنچا تو گائوں کی مسجد میں شہید کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام تھا‘ شہید نسیم عباس کے والد محترم امانت علی جو خود بھی فوج سے ریٹائرڈ ہیں‘ انہوں نے اپنے شہید بیٹے کے حوالے سے مجھے بتایا کہ نسیم عباس ان کا فرمانبردار اور وفادار بیٹا تھا۔
منگل کے دن جب پاک فوج کے جوان اپنے بہادر سپاہی کو  پاکستانی پرچم میں لپٹی ہوئی میت کو سپرد لحد کر رہے تھے تو یہ دیکھ کر میرا سرفخر سے بلند ہوگیا کہ میرے بیٹے نے سبز ہلالی پرچم کی لاج رکھتے ہوئے ملک کی حفاظت  کے لئے اپنی جان نچھاور کر دی۔
شہید کے والد کا کہنا تھا کہ ماں دھرتی کی حفاظت کرتے ہوئے نسیم عباس نے جان قربان کرکے میرا سر فخر سے بلند کر دیا‘ شہید کے والد محترم کی گفتگو سن کر میرا ذہن سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف مہم چلانے والے شرپسند عناصر کی طرف منتقل ہوگیا‘ یہ وہ عناصر  ہیں کہ جنہوں نے اس ملک کے دفاع کے لئے کبھی پسینہ بھی شاید نہ بہایا ہو؟ لیکن یہ پروپیگنڈہ اس فوج کے خلاف کرتے ہیں کہ جس فوج نسیم عباس جیسے بہادر سپاہی اپنی جوانیاں ملک کی حفاظت کرتے ہوئے لٹا رہے ہیں۔غلطیاں سیاست دانوں سے بھی ہوتی ہیں اور یقینا پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹروں نے بھی غلطیوں کے مینار تعمیر کر رکھے ہیں مگر غلطیاں یا جرائم کرنے والے افراد کو نامزد کرنے کی بجائے پورے ادارے کو رگیدنے  کی کوششیں کرنا ملک دشمنی نہیں تو پھر کیا ہے؟
پاک فوج کے بہادرجوان  اس ملک و قوم کے دفاع کے لئے سینہ سپر ہیں۔ ہر روز پاک فوج کے جوان سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہادتوں کے جام نوش کر رہے ہیں جبکہ پاک فوج کے خلاف بدزبانیاں کرنے والے جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے غیروں کی نمک حلالی کر رہے ہیں‘ شہید نسیم عباس کی یاد میں منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس خاکسار نے عرض کیا کہ ’’شہادت‘‘ کی موت کوئی سیاسی نعرہ یا کاروبار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے کہ جس کے بارے میں  رسول کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ شہید کے خون کا خطرہ زمین پر گرنے سے پہلے پروردگار اس کے کبیرہ صغیر گناہوں کو معاف کر دیتا ہے‘ خاتم الانبیاءﷺ ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں کہ شہید کو شہادت کے وقت اتنی تکلیف بھی محسوس نہیں ہوتی کہ جتنی کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے۔دکھ کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں زن‘ زر‘ زمین اور مغربی جمہوریت کے نام پر مارے جانے والوں کو تو شہید سمجھا جاتا ہے‘ جبکہ جو ملک کے دفاع اور مسلمانوں کی حمایت میں کافروں کے ہاتھوں قتل ہو جاتے ہیں ان کے حوالے سے شکوک و شبہات کو ابھارا جاتا ہے۔
پاکستان صرف پاکستانیوں کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں ہے‘ پاکستان کے حکمرانوں نے کبھی بھی کسی دوسرے ملک کی خودی‘ خودمختاری یا سلامتی پر حملہ آور ہونے کی کوئی کوشش نہیں کی‘ لیکن بھارت ہو یا دیگر پڑوسی ممالک وہ نہ صرف یہ کہ پاکستان کو دھمکیاں دیتے ہیں بلکہ پاکستان پر حملہ آور ہونے کا کوئی موقع بھی ضائع نہیں کرتے۔
جہاد اللہ کا حکم‘ رسول کریمﷺ کی سنت مطہرہ و صحابہ کریمؓ کا طریقہ ہے‘ جہاد مقدس کے خلاف کافر اور منافق مل کر پروپیگنڈہ کرتے ہیں تاکہ مسلمان جہادی میدانوں کا راستہ اختیار کرکے عالمی صہیونی طاقتوں کی فرعونیت کے لئے خطرہ نہ بن سکیں۔حالانکہ آج دنیا بھر میں مسلمان کمزور اور مظلومیت کی کیفیت سے دوچار ہیں‘ عراق ہو‘ شام ہو‘ لیبیا ہو‘ فلسطینی ہو‘ افغانستان ہو یا مقبوضہ کشمیر ہر جگہ مسلمانوں کو ہی تڑپا تڑپا کر مارا جاتا ہے۔
نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں موجود پچاس نمازیوں کی شہادت کا واقعہ تو ابھی تازہ ترین ہے‘ مغرب کی تعصب اور انتہاپسندانہ سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کی پچاس لاشیں بھی خونخوار صلیبی قاتل کی واردات کو ’’دہشت گردی‘‘ ثابت نہ کر سکیں‘ کسی مسلمان کے ہاتھوں مغرب کا کتا بھی مر جائے تو وہ تو دہشت گردی ہے‘ لیکن اگر کوئی ’’صلیبی‘‘ 50مسلمانوں کو بھی قتل کر  ڈالے‘ لیکن وہ دہشت گردی نہیں بلکہ شوٹنگ سمجھا جائے گا۔
پاکستان دنیا میں اسلام کے پیغام  امن کو پروان چڑھا رہا ہے۔پاکستان نے اپنے پیاروں کی ساٹھ ہزار کے لگ بھگ  لاشیں اٹھا کر بھی دنیا میں ’’امن‘‘ کی صدائوں کو بلند کیا‘ کلبھوشن جیسے بھارتی دہشت گرد کو گرفتار کرکے بھی کرتار پورہ راہداری کو کھولا‘ ابھی نندن جیسے حملہ آور پائلٹ کو پہلے گرفتار اور پھر جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کرکے بھی بھارتی الزامات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ لیکن  اس سب کے باوجود اگر بھارت اور پاکستان میں موجود بھارتی پٹاری کے دانش فروش ’’پاکستان‘‘ اور اسلام کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے تو اس کا جواب انہیں ضرور دیا جائے گا۔ انشاء اللہ

تازہ ترین خبریں