08:05 am
مستقبل‘دنیا نہیں آخرت

مستقبل‘دنیا نہیں آخرت

08:05 am

آج ہم سورۃ القیامہ کی آیت13 سے20تک کا مطالعہ کریں گے۔آیت 13میںاللہ رب العزت نے فرمایا:’’جتلا دیا جائے گا انسان کو اُس دن جو کچھ اس نے آگے بھیجا ہو گا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہو گا۔‘‘
 
قیامت کے دن میدانِ حشر میں انسان کا مکمل اعمال نامہ ہر اعتبار سے اس کے سامنے آ جائے گا کہ اس نے دنیا میں کیا چھوڑا اور آگے  کیابھیجا ‘اور اسے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت میں کیا اس کا تھا اور کیا نہیں تھا۔ یہ ہے وہ چیزجس کی حضوراکرم ﷺ نے بڑی عمدہ تشریح کی ہے۔حضرت ابوہریرہؓسے مروی بڑی پیاری حدیث ہے ‘ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بندہ کہتا ہے کہ میرا مال ‘میرا مال‘‘۔یعنی میرے اتنے اثاثے ہوگئے‘اتنی اراضی ہوگئی‘اتنی فیکٹریوں کا میں مالک بن گیا‘لیکن  حقیقت یہ ہے کہ:  إِنَّمَا لَہُ مِنْ مَالِہِ ثَلَاثٌ ’’اس کے مال میں سے حقیقتاً اس کی صرف تین چیزیں ہیں۔‘‘ پہلا یہ ہے: ’’جو اس نے کھاکر ختم کردیا‘‘۔یعنی وہ مال جس سے اس نے دنیا میںفائدہ اٹھا لیا‘ اچھی غذا کھا لی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اچھی غذا بھی انسان کہاں تک کھالے گا۔اول تو اس کا اپنا معدہ ہی بڑا محدود ہے اور ثانیاًجو شخص ان مقامات تک پہنچتا ہے وہ سو بیماریوں کا مجموعہ ہوتا ہے اور ڈاکٹر ی ہدایت کے مطابق وہ صرف  پرہیزی کھانے ہی کھا سکتا ہے…دوسری قسم کا مال جو حقیقتاً انسان کا ہے  ’’جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا‘‘۔ جو کپڑے پہن لیے وہ تو اس کے ہوئے، لیکن جو الماریوں میں ہیں‘لیکن کبھی استعمال نہیں ہوئے تووہ اس کے ہیں ہی نہیں۔ وہ تو بعد میں وارثوں کے کام آئیں گے۔یہ صرف اس کی خوش خیالی ہے کہ یہ سب میرے ہیں…تیسری قسم کا مال جو حقیقتاً انسان کا ہے أَوْ أَعْطَی فَاقْتَنَی’’جو اس نے اللہ کی راہ میں دیا اور اس کو آخرت کے لیے جمع کرلیا‘‘۔یہ تین قسم کے مال حقیقتاً انسان کے ہیں ‘جبکہ جو ان کے علاوہ ہیں وہ کسی صورت اس کے نہیں ہیں۔اسی لیے حدیث کے آخر میں رسول اللہﷺ فرمایا  ’’اس کے علاوہ تو صرف جانے والا اور لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے۔‘‘ 
ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا کہ جس وقت انسان کی موت واقع ہوتی ہے تو روح قبض کر کے لے جانے والے فرشتے آپس میں یہ گفتگو کررہے ہوتے ہیں کہ اس نے آگے کے لیے کیا بھیجا ہے۔ جبکہ اس کے رشتہ دار اور دوست یہ گفتگو کر رہے ہوتے ہیں کہ اس نے کتنی جائیدادیں، کتنا بینک بیلنس اور کتنا ترکہ چھوڑا ہے۔ یہ ہے اصل حقیقت!
 ایک اور روایت بھی ہے جو آنکھیں کھول دینے والی ہے۔جامع ترمذی اورسنن ابن ماجہ میں حضرت شداد بن اوسؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا’’(صحیح معنوں میں) سمجھ دار اور عاقل آدمی وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنے تابع اور مطیع رکھے اور عمل کرے موت کے بعد کے لیے‘‘۔کیس کہتے ہیں دانا‘ سمجھدار اورہوش مند کو۔آج کل ہمارے ہاں ہوش مندی بہت زیادہ ہے اور اس وقت یہ دنیا بھی بہت ہوش مند ہے۔ لیکن اس کی ہوش مندی بڑی محدود ہے اور اس کے اوپر مادہ پرستی کے اتنے غلاف چڑھ گئے ہیں کہ وہ اصل مستقبل کو دیکھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر شخص دنیوی مستقبل کو بہتر بنانے کی  کوشش کرتا ہے اور اولاد کو بھی سکھایا جاتا ہے کہ اپنے مستقبل کی فکر کرو۔ یہ کچھ سال ہیں ان میں محنت کر لو، اپنی تعلیم کے اوپرتوجہ دو تاکہ تمہارامستقبل سنور جائے۔ایسا رویہ رکھنے والے شخص کو آج کی دنیا میں ہوش مندکہا جا تا ہے‘جبکہ بیوقوف اسے سمجھا جاتا ہے جسے کوئی پروا نہیں ہے اور وہ اپنے بچے کو پڑھا بھی نہیں رہا اور اس کے مستقبل کے لیے کچھ بھی سامان نہیں کر رہا۔ ایسے شخص کے بارے میں سب کہیں گے کہ یہ تو بہت احمق آدمی ہے۔
زیر مطالعہ حدیث میں رسول اللہﷺ نے حقیقی سمجھدار کی تعریف یہ بیان کی کہ جو اصل مستقبل یعنی آخرت کی فکر میں ہے ۔یہ زندگی تو انتہائی عارضی ہے اور اس کا اُخروی زندگی سے کسی قسم کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔یہ دنیا تو دارالامتحان ہے اور ہم زندگی کی آخری سانس تک امتحان گاہ میں ہیں۔ہماری ہر چیز‘ہر عمل اور زبان سے نکلا ہوا ہر حرف نوٹ ہو رہا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر اللہ کا علم ہماری نیتوں ‘ ارادوں اور خیالات کو بھی گھیرے ہوئے ہے۔اب امتحان گاہ  میں موجود اگر کوئی شخص کہے کہ یہاں مجھے تعیش کا سامان مل جائے اورپھر وہ اُس میں مگن ہوکر امتحان سے غافل ہو جائے تو ہم ایسے شخص کو پاگل اور احمق کہیں گے ۔
حقیقت میں پوری نوعِ انسانی اس وقت اس مقام پہ کھڑی ہے کہ ہم نے امتحان گاہ کوہی کھیل تماشے کی جگہ سمجھ لیا ہے اور اصل مستقبل کو سرے سے بھول گئے ہیں۔ حالانکہ اتنی چھوٹی سی زندگی کے لیے ابدی اور حقیقی مستقبل کو ضائع کرنا‘اس سے بڑی حماقت اور اس سے بڑی نا سمجھی کوئی ہوہی نہیں سکتی۔لہٰذا رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہوش مند تو وہ شخص ہے جو اپنے اصل مستقبل کو دیکھ رہا ہے اور اس کے لیے عمل کر رہا ہے۔ مسئلہ مستقبل کا ہی ہے‘بس مستقبل کے تعین میں غلطی ہو رہی ہے۔ آج کی ساری دانش یہ کہہ رہی ہے کہ آخرت کو بھول کر دنیا میں موج اڑائو اور ہم بھی رول ماڈل ان کو سمجھتے ہیں جو غربت کی سطح سے ترقی کرتے کرتے آج بلین ڈالر کے مالک بن گئے ہیں۔یہ ہمارے لیے رول ماڈل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو جو تعلیم دے رہے ہیں‘اس میں آخرت کا مکمل طور پر انکار ہے۔حالانکہ قرآن واضح طور پر یہ بتا رہا ہے کہ:’’آپ کہیے :کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟وہ لوگ جن کی سعی و جہددنیا ہی کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی ‘‘(الکہف۔۱۰۳)۔یعنی اسی دنیا کے مستقبل کو اصل مستقبل سمجھ کر اسی کو سنوارنے کے لیے کوشش کرتے رہے اور خوب محنت کی۔اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ شخص اپنی محنت کے اعتبار سے سب سے خسارے میں ہے۔اس لیے کہ اس نے اپنی محنت سے چند روزہ دنیا تو کما لی‘لیکن آخرت برباد کر لی۔چنانچہ جس کو آج آپ رول ماڈل کہہ رہے ہیں‘قرآن کہہ رہا ہے کہ وہی سب سے بڑے خسارے میں ہے۔معلوم ہوا کہ ہماری سوچ میں اور قرآن کی تعلیمات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔یہ ہے اس وقت کا دجالی اور مادہ پرستی کا دور جس کے بارے میں  اقبال تو سو سال پہلے یہ کہہ گئے ہیں:
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
(جاری ہے)

بہرحال میدانِ حشر میںانسان کو بتا دیا جائے گا کہ اس نے اپنے مستقبل کے لیے  کیاآگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ اُس وقت ہوش ٹھکانے آ جائیں گے جب تمہارا اعمال نامہ تمہارے سامنے کھول کررکھ دیا جائے گا۔
اگلی آیت میں یہ حقیقت بھی بیان کردی ہے کہ ’’بلکہ انسان تو اپنے نفس کے احوال پر خود ہی خوب بصیرت رکھتا ہے۔‘‘
یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر کا چور پکڑا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ وہاں بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے اس لیے کہ انسان جو کچھ کر کے آیا ہے‘وہ اس  سے خوب واقف ہے۔ یہ نہیں ہے کہ اس کے سامنے جب اس کا اعمال نامہ رکھا جائے گا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی کہ یہ بھی میں نے کیا تھا‘ یہ بھی میں نے کیا تھا۔بلکہ اسے خوب معلوم ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔
’’اور چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔‘‘
یعنی انسان دوسروں کو توبیوقوف بناسکتا ہے کہ یہ کام میں نے کیا تو تھا لیکن نیت میری یہ تھی‘لیکن اندر سے وہ خوب جانتا ہے کہ اس کام کے پیچھے نیت کیا تھی۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی زبان کا بہت ہی تیزہو اور وہ اپنی غلط روی پر بھی دنیا میں پردے ڈال رہا ہو کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں یہ تو خیر کے لیے کر رہا ہوں۔ہمارے سیاستدانوں کا کام ہی یہی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ خود کہاں کھڑے ہیں‘لیکن دوسروں کا منہ بند کرنے کے لیے ان کے پاس ڈھیروں جوابات ہوتے ہیں۔ بہرحال زیر مطالعہ آیت میں اللہ نے فرمایا کہ اس دن کسی کو کچھ دکھانے کی ضرورت ہی نہیں ہے اس لیے کہ ہر ایک خوب جانتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔
 اگلی آیات میں مضمون بظاہر تھوڑا الگ نظر آتا ہے لیکن ربط ِمضمون پھر بھی جڑا رہے گا۔ فرمایا ’’(اے نبی)آپ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تیزی سے حرکت نہ دیں۔‘‘
اس آیت کا پس منظر یہ تھا کہ جب وحی نازل ہوتی تھی تو  آنحضور ﷺ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں یہ نہ ہو کہ کوئی لفظ مجھ سے رہ جائے یا میں کچھ بھول جائوں۔تووحی کے نزول کے فوراً بعدآپؐ اسے یاد کرنے کے لیے بڑی مشقت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ جلدی یاد ہوجائے اور کہیں کچھ رہ نہ جائے۔اس پس منظر میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی اور آنحضورﷺ کوتسلی دی گئی کہ آپؐ کو تیزی سے یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘جس رب نے آپؐ پر یہ وحی نازل کی ہے تواس کی حفاظت بھی اسی کے ذمے ہے اور اس کا آپ کے دل  میں جمع کردینا بھی اسی کے ذمے ہے۔
’’اسے جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔‘‘
یہ بھی اللہ نے اپنے ذمے لے لیاہے‘ لہٰذا آپؐ جلدی جلدی یادکرنے کی مشقت نہ کریں اور اس پریشانی میں نہ رہیں کہ کوئی چیز آپ ؐ کوبھول جائے گی۔بس آپ یہ کیا کریں کہ: ’’پھر جب ہم اسے پڑھوا دیں تو آپ اس کی قراء ت کی پیروی کیجیے۔‘‘
آپؐ فرشتے کے ساتھ اس وحی کو پڑھتے جائیے‘بس یہ کافی ہے۔باقی اسے آپؐ کے سینے میں محفوظ کرنا اور لوگوں کے سامنے پڑھوا دینا ‘یہ سب ہمارے ذمے ہے ۔  پھر صرف یہی نہیں ‘بلکہ: ’’پھر ہمارے ہی ذمے ہے اس کو واضح کر دینا بھی۔‘‘
اس کی دوصورتیں ہوتی تھیں۔ایک یہ ہے کہ ایک مضمون قرآن مجید میں ایک جگہ پرمختصر انداز میں آیا اور اس کے بعد اس کی تشریح دوسری وحی کی صورت میں آرہی ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ آنحضور ﷺ پر صرف قرآن کی وحی  نازل نہیںہوئی‘بلکہ ایک اوروحی بھی آپؐ پر نازل ہوئی ہے جس کے بارے میں سورۃ النجم میں فرمایا گیا ’’اور یہ (جو کچھ کہہ رہے ہیں) اپنی خواہش نفس سے نہیں کہہ رہے ہیں۔یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘چنانچہ احادیث مبارکہ اور آپ ﷺ کے اقوال جس میں ہمارے لیے راہنمائی کا سامان ہے‘وہ اسی قرآن کی تشریح اور اسی کا بیان ہیں۔ اس کو اس سے الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔
اسی طرح یہ انسانی معاملہ نہیں ہے کہ وہ قرآن کی نازل ہونے والی لمبی لمبی سورتوںکو فوراً محفوظ کر سکے‘ بلکہ یہ مسئلہ خود اللہ نے اپنے ذمے لیا ہواتھا‘اسی لیے زیر مطالعہ  آیات میں فرمایا کہ آپؐ کے سینے میں اس کو محفوظ کرنا اور آپؐ کی زبان سے پڑھوا دینا یہ ہمارے ذمہ ہے۔ چنانچہ اسی میں یہ بھی آتا تھا کہ نازل ہونے والی آیات مصحف میں کس جگہ آئیں گی‘اس کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات آتی تھیں اور رسول اللہ ﷺ اُن ہدایات کے مطابق آیات کو ترتیب دے دیتے تھے۔ دیکھئے‘قرآن مجید کی ترتیب نزولی اور ترتیب مصحف میں فرق ہے ۔ پہلی وحی کی صورت میں نازل ہونے والی سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات قرآن مجید کے ابتدا میں نہیں‘بلکہ آخر ی پارے میں ہیں۔اسی طرح سورۃ الفاتحہ  ترتیب نزول کے اعتبار سے پانچویں وحی ہے‘لیکن ترتیب مصحف میں پہلے نمبر پر ہے۔ جبکہ ترتیب مصحف میں دوسرے نمبر پر سورۃ البقرۃ ہے جو مدنی سورت ہے اور نبوت کے تیرہویں‘چودھویں سال نازل ہو رہی ہے۔ چنانچہ اس ضمن میںیاد رکھیے کہ ترتیب مصحف بھی اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ ہے۔
اگلی آیت میں فرمایا ’’ہرگز نہیں! اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی ملنے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت کرتے ہو۔‘‘
اس آیت میں دنیا کو عاجلہ کہا گیا ہے اس لیے کہ دنیا میں بدلہ فوری ملتاہے‘جبکہ آخرت بہرحال ادھار کا سودا ہے ۔  یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کے اندر عجلت پسندی ہے اور نقد چیز انسان کو اپنی طرف زیادہ متوجہ کرتی ہے‘جبکہ ادھار کی طرف اس کا رجحان کم ہوتا ہے۔ لیکن سمجھداری کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ دیکھے کہ اگر اصل منافع ادھار میں ہے تو وہ ادھار کرے۔آج یہودیوں نے ادھار دے دے کرپوری دنیا کو جکڑا ہوا ہے۔ بہرکیف دنیا عاجلہ ہے‘جبکہ آخرت تو ہے ہی بعد کا معاملہ اور وہ تو موت کی سرحد کے پارہے۔لیکن قیامت اور آخرت کے حوالے سے ہر قسم کے دلائل موجود ہیںآسمانی کلام میں بھی دلائل موجود ہیں‘رسولوں نے بھی بتایا ہے‘حتیٰ کہ انسانی فطرت میں بھی اس کے لیے اشارات موجود ہیں۔ لیکن وہ جو غالب نے کہا تھا کہ 
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
اس ضمن میں یہ بھی نوٹ کیجئے کہ حضور اکرمﷺ کو بھی بہت زیادہ شوق رہتا تھا کہ قرآن مجید کی وحی کا نزول جلدی سے جلدی ہو۔ایک مرتبہ آپﷺنے حضرت جبرائیل ؑسے شکایت بھی کی کہ آپ دیر سے آتے ہیں تو اس کا جواب انہوں نے بایں الفاظ دیااور اے نبی(ﷺ!) ہم (فرشتے) نہیں نازل ہوتے مگر آپ کے رب کے حکم سے۔اُسی کے اختیار میں ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جوکچھ اس کے درمیان ہے۔اور آپؐ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔‘‘(سورہ مریم)چنانچہ حضور اکرمﷺ سے بھی کہا گیا کہ اس معاملے میں عجلت نہ کیاکریں:وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہٗز (طٰہٰ:114)’’اور آپ جلدی نہ کیجیے اس قرآن کے ساتھ اس سے پہلے کہ آپ پر اس کی وحی مکمل ہو جائے۔‘‘
 بہرحال انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی طرف لپکتا ہے‘جبکہ آخرت کونظر انداز کر دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سب اپنا تجزیہ کریں کہ ہم نے آخرت کو اپنا ٹارگٹ اور مقصدبنایا ہوا ہے یا دنیا  ہی ہماری ترجیح ہے! 
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اصل مستقبل’’آخرت‘‘ کے لیے صحیح معنوں میں اور پوری دلجمعی کے ساتھ تیاری کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین یا رب العالمین!



 

تازہ ترین خبریں