08:08 am
پاکستانی لیڈروں کے ملک دشمن بیانات

پاکستانی لیڈروں کے ملک دشمن بیانات

08:08 am

٭امریکہ کے وزیرخارجہ کے پاکستان دشمن بیان پر بھارتی میڈیا کے زہریلے تبصرے، نریندر مودی کو فائدہO بلاول بھٹو کے بیان سے بھارت کی حمائت ہوئی ہے، بھارتی میڈیا O نیوزی لینڈ پارلیمنٹ میں تلاوت قرآن مجید، مساجد کے باہر پھول، وزیراعظم کا ’السلام علیکم!‘32 لاکھ صارفین کو گیس بلوں میں اضافہ واپس O نوازشریف کی عمر کا مسئلہ! O آصف زرداری اور بلاول کی نیب کے کمروں میں الگ الگ پیشی، 124 سوالات، پیپلزپارٹی کا ہنگامہ، لاٹھی چارج، 70 گرفتاراور ایک فوٹو گرافر زخمی!O 26 سال پہلے کی اداکارائوں کو اعلیٰ سول ایوارڈ O عمران خان نے وزراء کے تعزیتی فنڈ کے 38 کروڑر وپے روک دیئے، 13 کروڑ کھا چکے تھے۔
 
٭امریکی وزیرخارجہ پومپیو نے گزشتہ روز پاکستان میں ’’دہشت گردوں کے محفوظ اڈوں‘‘ کے بارے میں جو زہریلا اور انتباہی بیان دیا، اسے بھارتی میڈیا اچھال رہا ہے۔ اس بیان کا موجودہ جنگی فضا میں پاکستان دشمن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو براہ راست بہت فائدہ پہنچا ہے، جس کی انتخابی مہم ہی پاکستان دشمنی پر مبنی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں بار بار کہا کہ ’’مجھے انڈیا سے محبت ہے۔‘‘ اس کا مقصد امریکہ میں آباد لاکھوں بھارتی باشندوں کے ووٹ حاصل کرنا تھا۔ ستم یہ ہے کہ عین اس موقع پر پیپلزپارٹی کے نوعمر چیئرمین بلاول زرداری نے بھی پاکستان کے تین وزیروں کے دہشتگردوں کی تنظیموں سے رابطوں کے بارے میں امریکی وزیرخارجہ کے بیان سے ملتا جلتا بیان دے ڈالا بلکہ یہ کہ ان وزیروں (شیخ رشید، اسدعمر، شہریارآفریدی) کی ان مبینہ دہشت گرد تنظیموں کے رہنمائوں کے ساتھ تصویر یں بھی جاری کر دیں۔ بھارتی میڈیا بلاول کے اس بیان اور ان تصویروں کو نمایاں اچھال رہا ہے۔ بلاول کا یہ بیان 100 فیصد بھی درست ہو تو بھی اسے پاک بھارت کشیدگی کی موجودہ فضا میں ابھارنے سے ملک کی کیا خدمت کی ہے؟ بلکہ اسے نقصان ہی پہنچایا ہے۔ویسے اکلوتی سیاست کے اکلوتے مسافر شیخ رشید کو بھی کون سمجھائے ہر وقت زبان سے نکسیر پھوٹتی رہتی ہے۔ بلاول کے بیان کو تو نوجوانی کی بے احتیاطی کہا جا سکتا ہے مگر شیخ رشید کا اپنے سے آدھی سے کم عمر کے نوجوان کے ساتھ فضول گوئی کا مقابلہ! عمران خان نے بھی بھان متی کا کنبہ جمع کرتے وقت کیسے کیسے روڑے، کنکر جمع کر لئے!
٭نیوزی لینڈ میںمساجد پر فائرنگ کے بعد وہاں کی خاتون وزیراعظم جسینڈا، حکومت اور پارلیمنٹ نے مسلمانوںکے ساتھ جس وسیع ظرف اور فراخدلانہ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا ہے اس نے نہ صرف دنیا بھر کو بلکہ خود پاکستان کی سیاسی و معاشرتی قیادت کو بھی انسان دوستی کا عظیم پیغام دیا ہے۔ وزیراعظم جسینڈا کالا لباس اور سر پر دوپٹہ لے کر شہید اور زخمی مسلمانوں کے گھروں میں گئیں ان کی خواتین کو گلے لگایا، مالی امداد کا اعلان کیا، پھول لے کر مساجد میں گئیں اور پھر پارلیمنٹ کے بھرپوراجلاس کا آغاز قرآن مجید کی سورہ البقرہ کی تلاوت سے ہوا جس میں مصیبت کے وقت صبر اور برداشت کی تلقین کی گئی ہے۔ تمام عالم اسلام بلکہ دنیا بھر میں اس اعلیٰ انسان دوستی پر نیوزی لینڈ کی تعریف ہو رہی ہے مگر! ادھر پاکستان میں بڑبولا وزیر ریلوے ہندوئوں کے بارے میں اور وزیراطلاعات ہندوئوں کے ساتھ کشمیریوں کے بارے میں فضول بیان دے کر فرقہ وارانہ اور علاقائی عصبیت کا اظہار کرتے ہیں پھر معذرتیں اور معافیاں! ایسے کوتاہ بین لوگ اور وزارتوں پر فائز!
٭سندھ ہائی کورٹ سے عارضی ضمانتیںلے کر آصف زرداری اور بلاول اسلام آباد میں نیب پہنچ گئے۔ باپ بیٹے سے الگ الگ کمروں میں 16 افسروں کی تحقیقاتی ٹیمو ںنے سوالات کئے ان سوالات کی تعداد پہلے 100 بتائی گئی جو بعد میں 124 ہو گئی۔ دونوں کو سوالات کی تحریری فہرستیں دے دی گئیں۔ روانہ ہونے سے پہلے بلاول نے پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو نیب پہنچنے کی ہدائت جاری کی تھی۔ پولیس نے عدالت سے فاصلے پر کارکنوںکو روکا اس پر فرحت اللہ بابر جیسے افراد نے بھی ہاتھا پائی شروع کر دی۔ گھمسان کارن پڑا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کر کے 38 کارکنوں کو گرفتار کر کے تھانے میں بند کر دیا۔ پھر بھی تقریباً 50 بپھرے کارکن دروازہ کھلنے پر نیب دفترمیںداخل ہو گئے۔ بلاول کا سکیورٹی گارڈ گرمی سے بے ہوش! یوں پرانے تھیٹر میں ن لیگ کے بعد پیپلزپارٹی کا نیا ڈراما شروع ہو گیا ہے۔ ابھی صرف ٹریلر سامنے آیا ہے۔ پردہ سکرین پر بہت کچھ سامنے آنے والا ہے۔ وہی ن لیگ والے مناظر، عدالت کے باہر ہجوم، پولیس کے ساتھ دھکم پیل، لاٹھی چارج، گرفتاریاں، تلخ ترش بیانات! ایسے عالم میں کہ بھارتی حکومت نے پاکستان کی سرزمین پر مزید کارروائیوں کی نئی دھمکی دے دی ہے، ملک کے اندر کیسی یکجہتی ہو رہی ہے! آصف زرداری اور بلاول کی چار کیسوں میں الگ الگ جوابدہی ہو رہی ہے۔ عارضی ضمانتیں ہیں، کسی وقت گرفتاری بھی ہو سکتی ہے۔ اور اندر کی خبریں یہ ہیں کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ، دونوں کی دوسری سطح کی قیادتوں نے سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے کہ ان دونوں پارٹیوں پر مسلط زرداری اور شریف خاندانوں کی قیادتوں کے منظر عام سے ہٹ جانے کے بعد ان پارٹیوں کا کیا بنے گا؟ دونوں پارٹیاں نظریاتی ہونے کا محض نعرہ لگاتی ہیں، عملی طور پرکسی نظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔ محض خاندانی شخصیات کے نام پر چل رہی ہیں۔ زرداری خاندان محض ایک متنازعہ وصیت کے سہارے پیپلزپارٹی پر قابض ہے۔ مسلم لیگ کے نام پر تین بار حکمرانی کرنے والے شریف خاندان کے دور میں پارٹی کا نام ن لیگ میں تبدیل ہو چکاہے۔ مسلم لیگ کے ویسے  بھی9 ٹکڑے ہو چکے ہیں۔اس کے کچھ ٹکڑے پیر پگاڑا، چودھریوں، راولپنڈی کی لال حویلی، کراچی کے کلہوڑا گروپ وغیرہ نے سنبھال رکھے ہیں، کسی گروپ کی قیام پاکستان والی مسلم لیگ سے کوئی نسبت نہیں۔ پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ کے ٹکڑے اپنے لیڈروں کو قائداعظم ثانی اور عورتوں کو مادر ملت ثانی بنائے پھر رہے ہیں۔ 2017ء میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق نوازشریف کے پاس ایک ارب 60 کروڑ روپے کے اثاثے تھے۔ شہباز شریف کی ایک بیوی نصرت شہباز کے بارہ کمپنیوں میں 70 لاکھ حصص، لاہور اور مری میں بنگلے، کل 22 کروڑ 56 لاکھ کے اثاثے ظاہر کئے گئے۔ دوسری بیوی تہمینہ درانی کو آٹھ قیمتی جائیدادیں ملیں۔ گوادر میں چار کنال کاپلاٹ، لاہور میں ایک ایکڑ کی قیمتی زمین! زرداری کے اندرون و بیرون ملک 87 اثاثے، نوازشریف کے بیٹوں کی لندن میں اربوں کی جائیدادیں! عوام کے ہمدرد، غم گسار لوگ!آیئے کچھ دوسری باتیں کرتے ہیں:۔
٭پاکستان کی فضا بند ہونے سے اس میں سے بھارت کی ہر ہفتے یورپ اور امریکہ جانے والی 99 پروازیں بند، سفر میںچار گھنٹے کا اضافہ، اب تک 60 کروڑ روپے (پاکستان کے ایک ارب 20 کروڑ) کا نقصان!
٭وفاقی وزراء کی تفریح وغیرہ کے لئے 51 کروڑ روپے مختص، 13 کروڑ کھا گئے۔ عمران خاں نے پابندی لگا کر 38 کروڑ بچا لئے۔
٭ ریاستی ایوارڈوں کی ریوڑیاں: 26 سال پہلے کی فلمی اداکارائوں کو اعلیٰ سول ایوارڈز! ایک پاکستان چھوڑ چکی، دوسری 26 سال سے فلمی دنیا سے کنارہ کش!میرے علم میں ہے کہ اکادمی ادبیات اسلام آباد اور ایوان اقبال لاہور کی انتظامیہ تین سال سے ہر بار ملک کے باکمال مصور، شاعر اور ادیب اسلم کمال کے لئے ایک بڑے ایوارڈ کی سفارش بھیج دیتی ہے، یہ سفارش کہیں راستے میں ہی رُک جاتی ہے۔غالباً 26 سال پرانی اداکارہ بابرہ شریف اور ریما کی خدمات اسلم کمال سے زیادہ ہوں گی۔

تازہ ترین خبریں