08:53 am
سیاست کی ریاست

سیاست کی ریاست

08:53 am

یوں تو ریاست میں سیاست ہوا کرتی ہے اور سیاست ایک بااثر پروفیشن بھی ہے اور کچھ افراد اس پروفیشن میں ایک لمبے عرصے تک  رہیں تو سیاست وراثت بن جاتی ہے۔ اگرچہ جمہوریت میں اس طرح کی وراثت کا کوئی تصور نہیں ان جماعتوں سے وابستہ افراد اپنے اپنے مفادات کیلئے وراثت کو ہی مستحکم کرتے رہتے ہیں اور یوں سیاست کی ایک علیحدہ ریاست بننے لگتی ہے اور اس ریاست کی حکمرانی کا حق صرف انہی سیاست دانوں کو منتقل ہوجاتا ہے جن کے اپنے گروہ اپنے مفادات کے تحفظ اور فروغ کیلئے  ایک دیوتا بنا کر عوام کے سامنے لاتے ہیں اور انہیں نجات دہندہ مانا جانے لگتا ہے۔ ہمارے پڑوسی دیش میں بھی جمہوری وراثت ایک عرصے تک رہی اور اب بھی شاید وہ دوبارہ اقتدار میں آنے کیلئے ایک نئے وارث کو سامنے لارہے ہیں۔ کچھ ان کا راستہ بھارت کی حالیہ حکمران جماعت نے بھی آسان کردیا ہے کہ انتہا پسندی کو فروغ دیا۔ اقلیتوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا پڑوسیوں سے تعلقات خراب کئے‘ بھارت کے اندر غربت کو  بڑھاوا دیا۔ اب بھارتیوں کے پاس سوائے اپنے جمہوری شہزادے کو واپس اقتدار میں لانے کے اور کوئی راستہ نہیں دکھائی دے رہا اور پھر شہزادہ عقل و دانش سیاست اور ڈپلومیسی میں بھی یکتا ہے۔ حسین بھی ہے جوان بھی ہے آہستہ آہستہ وہ بھارتی نوجوانوں اور عورتوں کا آئیڈیل بنتا جارہا ہے۔ ابھی حالیہ ریاستی انتخابات میں تو اس نے میدان مارلیا ہے اب آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ سیاست کی ریاست میں وہ بڑی مہارت سے کھیلے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاست کی سیاست میں  وہ کہاں تک کامیابی  پاتے ہیں۔
 
ہمارے ہاں بھی سیاست کی ریاست میں سابقہ دو بڑی جماعتیں جو وراثت کا احیاء چاہتی ہیں بڑی کامیابی سے کھیل رہی ہیں۔ جناب عمران خان نے نئے پاکستان کی ابتداء کی۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے مہم چلائی مگر بدقسمتی سے دونوں بڑی جماعتوں کے خلاف کرپشن کے الزامات کورٹ میں نہ ٹھہر سکے۔ پنجاب کے سابق حکمران چار ماہ سے زائد نیب کی تحویل میں رہے۔ صاف پانی‘ لیپ ٹاپ‘ آشیانہ تین بڑے کیسوں میں کہا گیا ان کے خلاف کرپشن کے ثبوت نہیں مل پائے پھر وہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سربراہ بھی بن گئے۔ لیڈر آف اپوزیشن بھی ہیں پھر کہاں گئے وہ ثبوت! کیا سیاست کی ریاست اتنی مضبوط ہے کہ وہ ریاست کی سیاست کو بھی مات دے دیتی ہے۔
زرداری صاحب اور اومنی گروپ کے کیس اسلام آباد یا راولپنڈی منتقل کرنے سے کیا ریاست کی سیاست کمزور نہیں پڑے گی۔ انہوں نے تو ابھی تک پنجاب پر انگلی اٹھانا شروع کردی ہے۔ کیا کراچی کی عدلیہ  اور تفتیشی ادارے ریاست کے قانون کے مطابق نہیں چل رہے کیا وہاں ریاست کمزور ہے۔ کیا اس طرح سیاست کی ریاست مزید مستحکم نہیں ہوگی۔
نواز شریف کے وکیل  کہتے ہیں کہ نواز شریف نے اپنا علاج ہمیشہ لندن سے کرایا ہے۔ جبکہ خود جاتی عمرہ میں وہ ایک میڈیکل کالج چلا رہے ہیں۔ لاہور میں دو ہسپتال چلا رہے ہیں جہاں وہ کہا کرتے تھے کہ سٹیٹ آف آرٹ طبی سہولیات میسر ہیں۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور اور راولپنڈی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا کے بہترین معالج‘ سرجن میسر ہیں اور ہر طرح کی طبی سہولیات میسر ہیں مگر نہ نواز شریف نہ شہباز شریف کبھی وہ میڈیکل چیک اپ کے لئے گئے اور نہ ہی علاج کیلئے۔ تو کیا ریاست کے عوام جو ان اداروں میں علاج کیلئے سفارشیں ڈھونڈتے ہیں اس لائق نہیں کہ انہیں علاج کی بہتر سہولتیں دی جائیں۔ پھر کس لئے میڈیکل کارڈ دیتے رہے۔ وہ تو یہ بھی کہا کرتے تھے ہم نے امریکہ اور دیگر ممالک سے بڑے مشاہروں پر ماہر سرجن اور معالج منگوا کر پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ  پر ہسپتال بنوائے ہیں۔ پھر وہ سب کے لئے تھا۔ مگر ہمارے آئیڈیلسٹ عوام اب  بھی انہی پر فدا ہیں۔ وہ جیل میں بھی لیڈر ہیں۔ اب بھی کسی کریمنل کیس میں بلاول اور زرداری کو بلایا جاتا ہے تو ہجوم پولیس سے سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے لیڈر پھولوں سے لدی گاڑیوں سے نکلتے ہیں اور ایک فاتح کی طرح 10منٹ اندر گزار کے واپس آجاتے ہیں ۔ سیاست کی ریاست ہر جگہ مات دے رہی ہے۔
ریاست کی سیاست ملک کے عوام کو سیدھی راہ پر لانے کیلئے کوشاں ہے۔ گیس 143فیصد بڑھ گئی‘ بجلی کے بل تین گنا ہوگئے‘ اشیائے صرف کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئیں مگر ریاست کہتی ہے ابھی تو عوام کی چیخیںنکلیں گی۔ کیا ریاست کی سیاست کا مقصد عوام کی چیخیں نکلوانا ہے۔ یوں لگتا ہے سابقہ حکمرانوں نے اپنے ہی کچھ ماہرین ادھار پر نئی حکومت کو دیئے ہوئے ہیں کہ فی الحال ان سے کام چلائو یہ ریاست کی سیاست کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ کہا گیا تھا کہ گراس روٹ لیول جمہوریت کو قائم کرکے نچلی سطح پر ہی عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے لوکل گورنمنٹ سسٹم رائج کیا جائیگا مگر ہمارے صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں کے منتخب نمائندے ابھی تک اس پر اتفاق رائے نہیں پیدا کرسکے اگرچہ جب ان کا اپنا مفاد ہوتا ہے تو ایک دن میں نفاق ہونے کے باوجود اتفاق رائے سے بل منظور کرلیتے ہیں اور قانون بن جاتا ہے۔ لوکل گورنمنٹ   بن جانے سے معزز ممبران کو ترقیاتی فنڈز نہیں مل پائیں گے ضلعی سطح پر بیوروکریسی پر ان کا کنٹرول ختم ہوجائیگا اگرچہ یہ سب تو ریاست کی سیاست کی کامیابی ہے مگر سیاست کی ریاست ایسا ہونے نہیں دے گی کیونکہ سیاست کی ریاست میں سب متحد ہوتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن تو ریاست کی سیاست میں ہوتی ہے اور پھر ریاست کو تو اور مسائل بھی درپیش ہیں۔ بیرون ملک تجارت کا فروغ ‘ سکیورٹی ایشوز‘ قرضوں کی ادائیگی‘ قرضوں کا حصول یہ سب تو حکومت کو کرنا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں