08:55 am
مستقبل‘دنیا نہیں آخرت

مستقبل‘دنیا نہیں آخرت

08:55 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
بہرحال میدانِ حشر میںانسان کو بتا دیا جائے گا کہ اس نے اپنے مستقبل کے لیے کیاآگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ اُس وقت ہوش ٹھکانے آ جائیں گے جب تمہارا اعمال نامہ تمہارے سامنے کھول کررکھ دیا جائے گا۔اگلی آیت میں یہ حقیقت بھی بیان کردی ہے کہ ’’بلکہ انسان تو اپنے نفس کے احوال پر خود ہی خوب بصیرت رکھتا ہے۔‘‘
یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر کا چور پکڑا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ وہاں بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے اس لیے کہ انسان جو کچھ کر کے آیا ہے‘وہ اس سے خوب واقف ہے۔ یہ نہیں ہے کہ اس کے سامنے جب اس کا اعمال نامہ رکھا جائے گا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی کہ یہ بھی میں نے کیا تھا‘ یہ بھی میں نے کیا تھا۔بلکہ اسے خوب معلوم ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔
 
’’اور چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔‘‘
یعنی انسان دوسروں کو توبیوقوف بناسکتا ہے کہ یہ کام میں نے کیا تو تھا لیکن نیت میری یہ تھی‘لیکن اندر سے وہ خوب جانتا ہے کہ اس کام کے پیچھے نیت کیا تھی۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی زبان کا بہت ہی تیزہو اور وہ اپنی غلط روی پر بھی دنیا میں پردے ڈال رہا ہو کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں یہ تو خیر کے لیے کر رہا ہوں۔ہمارے سیاستدانوں کا کام ہی یہی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ خود کہاں کھڑے ہیں‘لیکن دوسروں کا منہ بند کرنے کے لیے ان کے پاس ڈھیروں جوابات ہوتے ہیں۔ بہرحال زیر مطالعہ آیت میں اللہ نے فرمایا کہ اس دن کسی کو کچھ دکھانے کی ضرورت ہی نہیں ہے اس لیے کہ ہر ایک خوب جانتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔
 اگلی آیات میں مضمون بظاہر تھوڑا الگ نظر آتا ہے لیکن ربط ِمضمون پھر بھی جڑا رہے گا۔ فرمایا ’’(اے نبی)آپ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تیزی سے حرکت نہ دیں۔‘‘
اس آیت کا پس منظر یہ تھا کہ جب وحی نازل ہوتی تھی تو آنحضور ﷺ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں یہ نہ ہو کہ کوئی لفظ مجھ سے رہ جائے یا میں کچھ بھول جائوں۔تووحی کے نزول کے فوراً بعدآپؐ اسے یاد کرنے کے لیے بڑی مشقت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ جلدی یاد ہوجائے اور کہیں کچھ رہ نہ جائے۔اس پس منظر میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی اور آنحضورﷺ کوتسلی دی گئی کہ آپؐ کو تیزی سے یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘جس رب نے آپؐ پر یہ وحی نازل کی ہے تواس کی حفاظت بھی اسی کے ذمے ہے اور اس کا آپ کے دل میں جمع کردینا بھی اسی کے ذمے ہے۔
’’اسے جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔‘‘
یہ بھی اللہ نے اپنے ذمے لے لیاہے‘ لہٰذا آپؐ جلدی جلدی یادکرنے کی مشقت نہ کریں اور اس پریشانی میں نہ رہیں کہ کوئی چیز آپ ؐ کوبھول جائے گی۔بس آپ یہ کیا کریں کہ: ’’پھر جب ہم اسے پڑھوا دیں تو آپ اس کی قراء ت کی پیروی کیجیے۔‘‘
آپؐ فرشتے کے ساتھ اس وحی کو پڑھتے جائیے‘بس یہ کافی ہے۔باقی اسے آپؐ کے سینے میں محفوظ کرنا اور لوگوں کے سامنے پڑھوا دینا ‘یہ سب ہمارے ذمے ہے ۔ پھر صرف یہی نہیں ‘بلکہ: ’’پھر ہمارے ہی ذمے ہے اس کو واضح کر دینا بھی۔‘‘
اس کی دوصورتیں ہوتی تھیں۔ایک یہ ہے کہ ایک مضمون قرآن مجید میں ایک جگہ پرمختصر انداز میں آیا اور اس کے بعد اس کی تشریح دوسری وحی کی صورت میں آرہی ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ آنحضور ﷺ پر صرف قرآن کی وحی نازل نہیںہوئی‘بلکہ ایک اوروحی بھی آپؐ پر نازل ہوئی ہے جس کے بارے میں سورۃ النجم میں فرمایا گیا ’’اور یہ (جو کچھ کہہ رہے ہیں) اپنی خواہش نفس سے نہیں کہہ رہے ہیں۔یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘چنانچہ احادیث مبارکہ اور آپ ﷺ کے اقوال جس میں ہمارے لیے راہنمائی کا سامان ہے‘وہ اسی قرآن کی تشریح اور اسی کا بیان ہیں۔ اس کو اس سے الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔
اسی طرح یہ انسانی معاملہ نہیں ہے کہ وہ قرآن کی نازل ہونے والی لمبی لمبی سورتوںکو فوراً محفوظ کر سکے‘ بلکہ یہ مسئلہ خود اللہ نے اپنے ذمے لیا ہواتھا‘اسی لیے زیر مطالعہ آیات میں فرمایا کہ آپؐ کے سینے میں اس کو محفوظ کرنا اور آپؐ کی زبان سے پڑھوا دینا یہ ہمارے ذمہ ہے۔ چنانچہ اسی میں یہ بھی آتا تھا کہ نازل ہونے والی آیات مصحف میں کس جگہ آئیں گی‘اس کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات آتی تھیں اور رسول اللہ ﷺ اُن ہدایات کے مطابق آیات کو ترتیب دے دیتے تھے۔ دیکھئے‘قرآن مجید کی ترتیب نزولی اور ترتیب مصحف میں فرق ہے ۔ پہلی وحی کی صورت میں نازل ہونے والی سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات قرآن مجید کے ابتدا میں نہیں‘بلکہ آخر ی پارے میں ہیں۔اسی طرح سورۃ الفاتحہ ترتیب نزول کے اعتبار سے پانچویں وحی ہے‘لیکن ترتیب مصحف میں پہلے نمبر پر ہے۔ جبکہ ترتیب مصحف میں دوسرے نمبر پر سورۃ البقرۃ ہے جو مدنی سورت ہے اور نبوت کے تیرہویں‘چودھویں سال نازل ہو رہی ہے۔ چنانچہ اس ضمن میںیاد رکھیے کہ ترتیب مصحف بھی اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ ہے۔
اگلی آیت میں فرمایا ’’ہرگز نہیں! اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی ملنے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت کرتے ہو۔‘‘اس آیت میں دنیا کو عاجلہ کہا گیا ہے اس لیے کہ دنیا میں بدلہ فوری ملتاہے‘جبکہ آخرت بہرحال ادھار کا سودا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کے اندر عجلت پسندی ہے اور نقد چیز انسان کو اپنی طرف زیادہ متوجہ کرتی ہے‘جبکہ ادھار کی طرف اس کا رجحان کم ہوتا ہے۔ لیکن سمجھداری کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ دیکھے کہ اگر اصل منافع ادھار میں ہے تو وہ ادھار کرے۔آج یہودیوں نے ادھار دے دے کرپوری دنیا کو جکڑا ہوا ہے۔ بہرکیف دنیا عاجلہ ہے‘جبکہ آخرت تو ہے ہی بعد کا معاملہ اور وہ تو موت کی سرحد کے پارہے۔لیکن قیامت اور آخرت کے حوالے سے ہر قسم کے دلائل موجود ہیںآسمانی کلام میں بھی دلائل موجود ہیں‘رسولوں نے بھی بتایا ہے‘حتیٰ کہ انسانی فطرت میں بھی اس کے لیے اشارات موجود ہیں۔ لیکن وہ جو غالب نے کہا تھا کہ 
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اصل مستقبل’’آخرت‘‘ کے لیے صحیح معنوں میں اور پوری دلجمعی کے ساتھ تیاری کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین یا رب العالمین!

تازہ ترین خبریں