08:56 am
جمہوری اور جہادی میں جائز و ناجائز کا فلسفہ؟

جمہوری اور جہادی میں جائز و ناجائز کا فلسفہ؟

08:56 am

گزشتہ دنوں ایک اللہ والے نے بڑے حکیمانہ انداز میں ’’ جمہوری‘‘ اور ’’جہادی‘‘ کے جائز و ناجائز کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری ’’الذوالفقار‘‘ جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیم قائم کرکے طیارے اغواء کروائے‘ کالعدم پیپلز امن کمیٹی قائم کرکے بھتہ خوری اور مسلمانوںکے قتل عام کروائے‘ اربوں‘ کھربوں کی کرپشن کرکے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ممالک  جائیدادیں بنائیں تو ’’جائز‘‘ لیکن اگر ’’جہادی‘‘ شہر‘ شہر ڈسپنسریاں‘ ہسپتال اور شفاء خانے قائم کرکے لاکھوں غریب  مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرے‘ سینکڑوں سکول اور دینی مدارس قائم کرکے لاکھوں طلباء و طالبات کو فری عصری اور دینی تعلیم فراہم کرے‘ سینکڑوں ایمبولیسز کے ذریعے پاکستانی قوم کے مستحق افراد کو ریلیف فراہم کرے تو وہ ’’ناجائز،، اس اللہ والے کے بیان کردہ جمہوری اور جہادی میںجائز و ناجائز کے اسی فلسفے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج پیپلزپارٹی کے نوخیز لیڈر بلاول زرداری اور ان کے ہمنوائوں کے سامنے بعض سوالات اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
 
بلاول‘ اپنے ابا پر لگنے والے کرپشن الزامات اور ان کے خلاف ہونے والی نیب تحقیقات کا موازنہ بار‘ بار کالعدم جہادی تنظیموں کے ساتھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت انہی کالعدم جہادی تنظیموں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے۔کالعدم تنظیموں کے جن خطرناک اثاثوں کو حکومت نے اپنی تحویل میں لیا ہے‘ اس کی تفصیلات اخباروں میں چھپ چکی ہیں‘ ان تفصیلات کے مطابق کالعدم تنظیموں کے 189مدارس ‘125 سکول‘ 173ڈسپنریاں‘207ایمبولیسز‘4ہسپتال اور دو کالجز اپنے قبضے میں لئے ہیں‘ پنجاب حکومت نے ان اداروں کو چلانے کے لئے وفاق سے ایک ارب سے زائد کا بجٹ مانگ لیا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کالعدم تنظیمیں اس قوم کے لئے صحت اور تعلیم کے حوالے سے جو نمایاں خدمات سرانجام دے رہی ہیں اس میں قومی خزانے کی ایک پائی شامل نہیں ہے۔ اب بلاول جواب دیں کہ انہوں نے اپنے کھربوں کے اثاثہ جات میں سے اس قوم کے بچوں کے لئے کتنے ایسے سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں قائم کیں کہ جہاں فری تعلیم دی جارہی ہو؟ یا اپنی جیب میں سے خرچ کرکے کتنے ایسے ہسپتال‘ ڈسپنسریاں قائم کیں کہ جہاں غریبوں کو مفت علاج کی سہولت دی جارہی  ہو؟ اور  اگر نہیں تو کیوں؟ کیا جمہوریت لوٹ مار اور قومی خزانے کو شیرمادر کی طرح  ہضم کرنے کا نام ہے؟ کوئی یہ جواب مت دے کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں فلاں کالج بنا اور فلاں یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ میں قومی خزانے سے بنائے جانے والے تعلیمی اداروں کی بات نہیں کررہا بلکہ جس ’’خزانے‘‘ سے کراچی‘ اسلام آباد اور لاہور میں بلاول ہائوسز بنائے گئے جس خزانے سے دبئی اور لندن میں فلیٹس ‘ سرے محل اور بڑے بڑے ہوٹل بنائے گئے...اگر وہ خزانہ ذاتی تھا تو جس قوم نے ذوالفقار علی بھٹو‘ بے نظير بھٹو سے لے کر آصف زرداری تک کو ووٹ دے کر اس ملک کا حق حکمرانی عطا کیا...بلکہ صوبہ سندھ میں آج بھی پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہے‘ اگر اس ذاتی خزانے میں سے کوئی ایک بھی ایسا سکول‘ کالج یا یونیورسٹی قائم کی ہو کہ جہاں قوم کے غریب بچوں کو فری تعلیم دی جارہی ہو تو بلاول یا ان کے ترجمان مصطفیٰ نواز کو چاہیے کہ وہ میڈیا کے ذریعے اس کی نشاندہی بھی کر دیں۔
بلاول سمیت تمام سیاست دان ایک قومی ادارے ’’نیب‘‘ کو جسے پرویز مشرف کا قائم کردہ ادارہ قرار دے کر نہ صرف کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ مسترد بھی کرتے ہیں جبکہ اسی پرویز مشرف کے دور میں عالمی صہیونی دبائو کے تحت مذہبی جہادی تنظیموں کو ’’کالعدم‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ اگر جہادی تنظیموں کو’’کالعدم‘‘ قرار دینے کا پرویزی عمل بلاول کے نزدیک درست ہے تو ’’نیب‘‘ کے ادارے کو قائم کرنا غلط کیسے ہوگیا؟
نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم جہادی تنظیموں کے سینکڑوں کارکن گزشتہ دو ہفتوں میں گرفتار کئے جاچکے ہیں،نریندر مودی اور پاکستان میں مودی مائینڈ سیٹ رکھنے والے مٹھی بھر شدت پسند گروہ کے نزدیک یہ گرفتار شدگان دہشت گرد ہیں لیکن 22کروڑ عوام سمیت پورا میڈیا اس بات پر شاہد ہے کہ سینکڑوں گرفتاریوں کے دوران کسی کالعدم تنظیم کی طرف سے نہ تو ان گرفتاریوں میں رکاوٹ ڈالی گئی اور نہ ہی فورسز کو کہیں سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا‘ میں بلاول سے یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ ’’اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی کس نے دی تھی؟‘‘   بلاول کے انکل اور سندھ کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے بلاول کے ابا آصف زرداری پر جو خوفناک الزامات لگائے تھے ان کے حوالے سے سوال اٹھائوں گا کیونکہ یہ باتیں کچھ پرانی ہوچکی ہیں۔
ہاں البتہ 20مارچ بدھ کے دن اسلام آباد نیب کے دفتر میں پیشی کے موقع پر پیپلزپارٹی کے لیڈران اور کارکنوں نے جس طرح سے نیب کے دفتر پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی‘ کئی پولیس اہلکاروں کو زخمی کیااور بقول وفاقی وزیر اطلاعات پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے باقاعدہ پولیس پر حملہ کیا‘ وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ ان حملوں کو دیکھ کر اسے لگتا ہے کہ جیسے پیپلزپارٹی کی قیادت یہ کہنا چاہتی ہو کہ کسی کی جرات کیسے ہوئی کہ انہیں تفتیش کے لئے بلائے؟
پیپلزپارٹی کی جمہوریت میں پولیس والوں کے سرپھاڑنا بھی امن پسندی اور اعتدال پسندی ہے؟ جبکہ کالعدم جہادیوں کی تعلیمی‘ فلاحی اور طبی خدمات بھی لاقانونیت اور دہشت گردی ہے‘ سو سے زائد انسانوں کا قاتل عزیر بلوچ‘ بابا لاڈلا اور زرداری کا بہادر بچہ رائو انوار کہ جس نے جعلی مقابلوں میں ساڑھے چار سو کے لگ بھگ انسانوں کا قتل کیا یہ نہ تو جہادی ہیں اور نہ ہی دینی مدارس کے فارغ التحصیل ۔لنڈے کے لبرلز اس بات کا خوب پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ لندن والے بڑے مہذب ہیں اور وہاں ’’سچ‘‘ کا بھی بول بالا ہے...بلاول تو لندن میں بھی رہ چکے ہیں بلکہ آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ہیں لیکن وہ جس طرح سے منی لانڈرر اور کرپٹ افراد کے دفاع میں گدھے اور گھوڑے کے فرق کو بھی بھول گئے ہیں۔ اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو آکسفورڈ کی تعلیم نے ان پر اثر نہیں کیا یا پھر وہاں تعلیم ہی کرپشن‘ منی لانڈرنگ  پاکستان کے قومی خزانے کو  لوٹنے اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو مٹانے کی دی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں