08:59 am
ناقابل یقین، ناقابل برداشت

ناقابل یقین، ناقابل برداشت

08:59 am

٭ناقابل یقین، ناقابل برداشت! بلاول زرداری کے منہ میں نریندر مودی کی زبان! Oآج، 22 مارچ، نیوزی لینڈ میں سرکاری ریڈیو، ٹیلی ویژن پر جمعہ کی اذانیں، گورنر ہائوس لاہور میں رقص موسیقی کی بھرپور شام!! O سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی کے تمام مجرم بری، پاکستان کی وزارت خارجہ، بھارتی مسلم تنظیموں کا شدید احتجاجO سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی نیب اسلام آباد میں طلبیO نیوزی لینڈ کے شہید ہیرو نیم رشید کی بیوہ عنبرین کا ایمان افروز بیان۔
 
٭ملائیشیا کے عظیم رہنما وزیراعظم مہاتیر محمد کی پاکستان آمد نہائت خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے ایک پُرآشوب دور میں شدید بدحالی کے شکار ملائیشیا کو جس دلیرانہ قوم پرستی کے ساتھ بحال کیا بلکہ دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں شامل کر دیا، اس کی ولولہ خیز داستان خود محترم مہاتیر محمد نے اپنی سوانح عمری میں بیان کی ہے۔ یہ کتاب میرے سامنے پڑی ہے۔ اس میں وہ بتاتے ہیں کہ ان کے خاندان کی مالی حالت اچھی نہیں تھی اور انہوں نے کوالالمپور کی سڑکوں پر کیلے بیچ کر اپنے تعلیمی اخراجات پورے کئے۔! میں مہاتیر محمد کو خوش آمدید کہتا ہوں!
٭ نیب کے روبروپہلی پیشی نے ہی بدحواس کر دیا۔ پریس کانفرنس میں خود پر عائد الزامات کی صفائی کی بجائے پاکستان کے خلاف امریکی وزیرخارجہ اور نریندر مودی کی ہرزہ سرائی کی تائید کر دی! تین وزراء کا نام لے کر صاف الزام میں کہہ دیا کہ بھارت میں دہشت گردی کرنے والے افراد کے پاکستان میں اڈے موجود ہیں بلکہ یہ کہ تین وزراء کے ذریعے انہیں مالی امداد بھی دی جا رہی ہے! مزید یہ کہ پاکستان کی حکومت ان مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا جھوٹا دعویٰ کر رہی ہے، انہیں صرف حفاظتی طویل میں رکھا گیا ہے، ایسا نہ کیا جاتا تو بھارتی طیارے پاکستان پر حملہ کر کے انہیں چھڑا لے جاتے! اِنا للہ واِنا الیہ راجعون! ملک دشمنی اور کیا ہوتی ہے؟ میںنے لندن کی رنگین فضائوں میں پروردہ، اس نوجوان کی پاکستان کے خلاف یہ باتیں خود سنی ہیں! اقبال اور قائداعظم کے اس ملک میں یہ نوبت بھی آنی تھی، کہ ایک مشکوک وصیت کی بنا پر ملک کی حکمرانی پر قابض باپ کے عہد میں یہ نوجوان صرف 19 سال کی عمر میں ہی باپ کی مقبوضہ سیاسی پارٹی کا نامزد مالک بن جائے! اس کے نام پر پانچ کروڈ روپے نقد اور ڈیڑھ ارب کی جائیداد کی لاٹری نکل آئے اور وہ دولت اور اقتدار کے نشہ میںاتنا بدمست ہو جائے کہ پاکستان کی سلامتی کے درپے ہو جائے! کون سی مثال دوں؟ الطاف حسین کی یا حسین حقانی کی؟ امریکی وزیرخارجہ پومپیو اور بھارت کے پاکستان دشمن نریندر مودی کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور بلاول زرداری کی پریس کانفرنس کی روداد کو سامنے رکھیں، حرف بحرف، لفظ بہ لفظ وہی جملے، وہی الزامات! کہتا ہے کہ مجھ پر بعض اثاثوں کی ملکیت کا جو وقت بتایا جا رہا ہے اس وقت تو میری عمر صرف ایک سال کی تھی! یہی تو الزام ہے کہ صرف ایک سال کی عمر میں اس کے نام اربوں کی جائیداد کیسے منتقل ہوگئی؟ اسی طرح نوازشریف کے بیٹے بھی سکول جانے کی عمر میں اربوں کے وارث بن گئے تھے۔ سنو بلاول زرداری! تم لوگوں کی زبانوں پر تمہارے ذہن ابل پڑے ہیں۔ باپ  منہ پھاڑ کر ملک کی محافظ فوج کے جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے اوار کراچی سے طورخم تک ملک بند کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، حسین حقانی کو امریکہ میں سفیر بنا کر پاکستان کی افواج کے خلاف مراسلے لکھوا رہا ہے اور…اور تم، اسی نابالغ عمر میں پاکستان کی سلامتی کے خلاف برسرکار ہو گئے ہو! پاکستان پر بھارتی طیاروں کی ممکنہ ’کامیاب‘ کارروائیوں کی داستانیں سنا رہے ہو۔ ویسے اس ملک سے تم لوگوں کا تعلق ہی کیا ہے؟ دبئی میں مستقل ڈیرے لگا رکھے ہیں۔ پاکستان میں حکمرانی اور دولت سمیٹنے کے لئے آتے ہو۔ یہ سب کچھ برداشت ہو سکتا ہے مگر لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والے اس ملک کے خلاف فضول گوئی برداشت نہیں کی جا سکتی۔
٭جوش میں آیا ہوا ولی عہد شہزادہ اسلام آباد میں نیب کے حضور پہلی پیشی کے لئے حبیب جالب کے کلام ’کارَ جَز‘ (جنگی گیت) پڑھتا ہوا روانہ ہوا کہ ’’کیاڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے؟ میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے! میں بھی منصور ہوں، کہہ دو اغیار سے! ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو، میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا…‘‘ اتفاق سے ان دنوں حبیب جالب کی برسی کی تقریبات ہو رہی ہیں۔ بلاول کی زبان سے اپنا کلام سن کر جالب کی روح کا کیا حال ہو رہا ہو گا؟ اسی حبیب جالب نے بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نعرہ لگایا کہ ’لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو‘۔ اسے گرفتار کر کے ’’سازش کیس‘‘ کے دوسرے ملزموں (فیض احمد فیض، ولی خان وغیرہ) کے ساتھ حیدرآباد جیل میں بند کر دیا گیا۔ اسے ہر طرح کی پیش کش کی گئی کہ وہ پیپلزپارٹی میں شامل ہو جائے مگر اس نے پیپلزپارٹی کی دشمن ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی، نیپ (اب اے این پی) میں شرکت اختیار کر لی۔ بلاول کے دادا، آصف زرداری کے والد حاکم علی زرداری پیپلزپارٹی کی سخت دشمن اسی پارٹی کے نائب صدر تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے ساتھ دوسرا اہم کام یہ کیا کہ حیدرآباد سازش کیس ختم کر دیا اور ولی خان کے ساتھ حاکم علی زرداری، جنرل ضیاء الحق کی حکومت  کے ساتھ ہم نوا ہو گئے تھے۔ حبیب جالب نے ضیاء الحق کی حاشیہ نشینی قبول نہیں کی، اسے پھر بار بار جیل جانا پڑا اور …اور آج بھٹو کا نواسہ حبیب جالب کے کلام کا رَجَز پڑھ رہا ہے!!
٭دو اہم خبریں: O نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں قرآن خوانی کے بعد آج بروز جمعہ 22 مارچ، جمعہ کی نماز کی اذانیں براہ راست نیوزی لینڈ کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر کی جائیں گی!
O دوسری خبر بلاتبصرہ: فیس بک پر اشتہار! آج بروز جمعہ 22 مارچ 2019ء گورنر ہائوس لاہور میں ’’صوفی نائٹ‘‘ کے نام سے رقص و موسیقی کی ایک تاریخی محفل منعقد ہو رہی ہے۔ چھ بجے سے شام سے گیارہ بجے رات تک اس محفل میںمشہور گلوکار، گلوکارائیں، معروف سازندوں کے ساتھ اپنے فن کا ’جادو‘ جگائیں گے۔ اعلیٰ قسم کے کھانے پیش کئے جائیں گے اس محفل میں داخلہ صرف ٹکٹوں کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ انہیں پلاٹینم، ڈائمنڈ، گولڈ، سلور اورعام درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ عام ٹکٹ ساڑھے چار ہزار روپے میں، سلور ٹکٹ آٹھ ہزار،گولڈ ٹکٹ 10 ہزار اور پلاٹینم ٹکٹ 12 ہزار روپے میں ملے گی۔ اعلان کے مطابق تادم تحریر بیشتر ٹکٹیں فروخت ہو چکی تھیں، تھوڑی سی رہ گئی تھیں۔ اور…اورخواتین و حضرات رقص و موسیقی کی اس محفل میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرورکا مہمان خصوصی ہونے کا اعلان!
٭ولنگٹن، نیوزی لینڈ: مسجد میں مسلمانو ںکو بچاتے ہوئے شہید ہونے والے نعیم رشید کو دنیا بھر میں ہیروقرار دیا جا رہا ہے۔ اس کی انتہائی قابل تعظیم بیوہ عنبرین نعیم نے کیا ایمان افروز بیان دیا ہے۔ نیوزی لینڈ کی ایک معروف صحافی خاتون نے اس کا انٹرویو کیا۔ عنبرین نے نہائت حوصلہ اور صبر و سکون کے ساتھ کہا کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا، اللہ تعالیٰ اسے برداشت کرنے کی توفیق دے دے گا، مجھے تو 50 افراد کے قاتل پر ترس آ رہا ہے کہ کس کرب ناک احساس سے دوچار ہو رہاہوگا!۔ صحافی خاتون یہ سن کر حیرت کے ساتھ جذباتی ہو گئی اور عنبرین کو گلے لگانے کی خواہش ظاہر کی۔ عنبرین نے اسے گلے سے لگا لیا۔ اس خاتون نے پوچھا کہ اتنا حوصلہ کیسے پیدا ہوا؟ عنبرین نے کہا کہ میرا مذہب، میرا ایمان ہمیں ہر حالت میں ایسے ہی صبر و رضا کا درس دیتا ہے۔
٭ایس ایم ایس: ’’2018ء کے ضمنی انتخابات میں ڈیوٹی دینے والی رضا کار پولیس کو ابھی تک معاوضہ ادا نہیں کیا گیا، رشید خاں۔ گیمبر، بنو!‘‘

تازہ ترین خبریں