09:12 am
پاکستان ، افغانستان میں امن اور بھارت

پاکستان ، افغانستان میں امن اور بھارت

09:12 am

افغانستان سے طالبان کے خاتمے کے لیے امریکہ کی قیادت میں نیٹو کی جانب سے دو دہائیوں تک جاری رہنے والی مداخلت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔ امریکی فوج نے نہ سہی لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی عوام نے اپنی تاریخ کی اس طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے عزت سے واپس جانے کا فیصلہ کیا۔  حالاں کہ ٹرمپ کے انتخابی وعدوں میں افغانستان(عراق اور شام) سے انخلا سر فہرست تھا، لیکن پینٹاگون کی اضافی فوج کی تجویز منظور کی گئی جس کے باوجود صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔2001 ء میں حکومت کے خاتمے کے بعد آج سب سے بڑا علاقہ طالبان کے زیر انتظام ہے۔ ٹرمپ نے ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کے ایجنڈے کی تکمیل اور عسکری سطح پر موجودہ صورت حال کو سمجھتے ہوئے قدرے عجلت سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا۔ سیکرٹری ڈیفنس جیمز میٹیس احتجاجاً مستعفی ہوگئے۔ امریکہ کی نمائندگی کے لیے افغان نژاد زلمے خیل زاد کا انتخاب کیا گیا۔  
 
2018  پہلے ہی دن ٹرمپ نے علی الصباح اپنی ایک ٹویٹ میں اربوں ڈالر امداد وصول کرنے کے باوجود افغانستان کی جنگ میں امریکہ کی مدد نہ کرنے  کا الزام عائد کرکے پاکستان کو پیمان شکنی کا طعنہ دیا۔ اس بات کو سال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے سابقہ موقف سے پس پائی اختیار کی اور طالبان کو مذکرات کی میز پر لانے کے لیے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے تعاون کے لیے رابطہ کیا۔ آج وہ افغانستان کے امن عمل میں پاکستان کے کردار کی ناگزیریت کا اعتراف کرتے  ہیں، جو بھارت کی جانب سے گمراہ کیے گئے حلقوں اور پراپیگنڈے کا شکار ہونے والوں کے لیے تکلیف دہ سچ ثابت ہورہا ہے۔ ان کے لیے یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے کہ پاکستان افغانستان کے مسائل کے حل میں مرکزی کردار رکھتا ہے، خود ان مسائل کو پیدا کرنے والا نہیں۔ افواج کے انخلا کا حتمی فیصلہ کرنے کے بعد امریکا اب طالبان کے ساتھ سمجھوتا کرنے پر تیار ہوچکا ہے۔ 
خطے کے تناظر میں بین الاقوامی تعلقات میں ڈرامائی تبدیلیوں کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کی نئی حکومت افغانستان میں امن عمل کے لیے مکمل معاونت فراہم کررہی ہے کہ اس کے بغیر پاکستان کا استحکام بھی ممکن نہیں۔  بطور اسٹریٹجک پارٹنر امریکہ کے اعتبار کو ٹھیس پہنچ چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان امریکی مؤقف پر مکمل یقین نہیں کرسکتا۔ تاہم ہمارے دیگر قریبی دوست ممالک کو بھی پُر امن افغانستان مطلوب ہے اور اس حوالے سے ان کے مفادات بھی یقینی نوعیت کے ہیں۔ بعد از جنگ افغانستان میں امن کاوشوں اور طالبان کے سیاسی کردار کا اعتراف کرنے والوں میں چین ، روس ، ایران یہاں تک کے سعودی عرب اور عرب امارات بھی شامل ہیں۔ 
گزشتہ برس ماسکو نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں داخلی سطح پر طالبان سمیت افغانستان کی سیاسی قوتوں کے مابین  امن کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے والے ممالک نے بھی شرکت کی۔ دہائیوں بعد انفرادی سطح پر رابطے ہوئے اور مؤقف  میں بھی تبدیلی آئی۔ خطے میں واحد بھارت ہے جسے افغانستان کے امن میں کوئی دلچسپی نہیں۔ بھارت اس تباہ حال ملک میں صرف اس لیے کشیدگی جاری رہنے کا خواہاں ہے تاکہ اس کے ذریعے سے پاکستان میں انتشار کو ہوا دی جاتی رہے۔ مزید یہ کہ اس پراکسی جنگ میں بھارت مالی وسائل، افرادی قوت یا رسد کی صورت میں بڑی بھاری سرمایہ کاری کرچکا تھا۔ امریکہ بھی یہاں قیام کی بھاری قیمت چکا رہا ہے جب کہ افغانستان میں نہ صرف بھاری جانی نقصان ہورہا ہے بلکہ اسے  انفرااسٹرکچراور بڑے شہروں کی تباہی کا بھی سامنا ہے۔ افغان خفیہ ادارے خاد کے ساتھ مل کر بھارتی ’را‘ پاکستان کی نظریاتی اور زمینی حدود پر تحریک طالبان پاکستان اور دیگر نام نہاد جہادی گروہوں کے ذریعے حملہ آور ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو طالبان کے ساتھ نتھی کر کے بھارت نے اسے دہشت گردی قرار دینے کے لیے بہت ڈھنڈورا پیٹا۔ پاکستان کو سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسے دہشت گردی کا معاون و مددگار بنا کر پیش کیا گیا۔        (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں