09:14 am
 دلی اور تل ابیب کا مشترکہ غم

دلی اور تل ابیب کا مشترکہ غم

09:14 am

دشمنوں کی خواہشات کے برعکس پاکستان قائم و دائم ہے! رب کا شکر واجب ہے کہ جس نے ہمیں آزاد ملک عطا کیا۔ یوم پاکستان کی تقریبات مناتے ہوئے یہ سوچنا بھی لازم ہے کہ کن شعبہ ہائے حیات میں ہم زمانے سے پیچھے ہیں؟ ہماری طاقت کیا ہے ؟ ہماری کمزوریاں کیا ہیں ؟ یہ بنیادی خیال ہمہ وقت نئی نسل کے پیش ِنظر رہنا چاہیے کہ آخر علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟ بغض کے مارے پڑوسی کے جنگی جنون  سے اس سوال کا جواب اخذ کرنا اتنا مشکل نہیں ۔ بی جے پی کے نظریات اور گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت میں بہنے والے مسلم دشمنی کے سیل بلاخیز نے آنکھیں کھولنے کا کافی سامان مہیا کر دیا ہے۔ بھارت میں یہ سپنا دیکھنے والوں کی کمی نہیں کہ پاکستان گھٹنے ٹیک کر بھارت کا دست نگر بن جائے ۔ دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر بنی سرحد مٹ جائے اور ہندوتوا کے جھنڈے تلے رام راجیہ قائم ہو۔ کیا کیا واردات اس ملک کے ساتھ نہیں ہوئی؟ یہ آج بھی قائم ہے اور دشمنوں کے سینے پر مونگ دَل رہا ہے۔
 
 یوم پاکستان کی مناسبت سے روایتی پریڈ وطن عزیز کی قابل فخر دفاعی قوت کا علامتی اظہار ہے۔ دشمنوں کو واضح پیغام ہے کہ برصغیر میں دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر بننے والی سرحد مٹ نہیں سکتی۔ ہزار کمزوریوں کے باوجود پاکستان سات گنا زائد عددی برتری کے حامل ملک کو عسکری محاذ پر دندان شکن جواب بھی دے سکتا ہے اور جارحیت سے باز رکھنے کے لیے لگام بھی ڈال سکتا ہے۔ اس صلاحیت کو مٹانے کے لیے دشمن ہر محاذ پر سرگرم ہے۔ امریکہ سے جاری ہونے والے تازہ بیانات میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے خلاف واویلا بلا مقصد نہیں ۔ یہ بات شک و شبہے سے بالا تر ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بھارت ، امریکہ اور اسرائیل کی آنکھ میں بری طرح کھٹکتی ہے۔ یہ بات طشت از بام ہو چکی ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان کی جوہری تنصیبات تباہ کرنے کے ناپاک منصوبے میں بھارت کو اسرائیل کا مکمل تعاون دستیاب تھا ۔ 
یہود و ہنود کی اصطلاح کا مذاق اڑانے والے لبرل ٹوڈیوں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ جبہ کے مقام پر جعلی سرجیکل سٹرائیک کے دوران بھارتی جنگی طیاروں نے جو بارودی مواد گرایا وہ اسرائیلی ساختہ تھا ۔ جو پیلیٹ گنیں کشمیریوں کی آنکھیں بے نور کرتی ہیں وہ بھی اسرائیلی ساختہ ہیں ۔ کشمیریوں کی نسل کشی اور فلسطین کی طرز پر مقبوضہ کشمیر میں ہندو آبادکاری کے ذریعے آبادی کا تناسب بدلنے جیسے منصوبے اسرائیل سے ہی مستعار لیے گئے ہیں ۔ بھارتی فوجی افسر تسلسل سے اسرائیل میں عسکری تربیت کے حصول میں مصروف کار ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خود ساختہ نعرے کی تکمیل کے لیے بھارت اور اسرائیل جیسی سفاک ریاستیں ایک دوسرے کی معاون ہیں ۔ دونوں کا مشترکہ ہدف مسلمان اور اسلام ہیں ۔ یہود و ہنود کی سازشیں کسی جذباتی خطیب کا تراشا خیال نہیں بلکہ آج کے عہد کی ناقابل تردید حقیقت ہے۔ پاکستان کو مٹائے بنا مسلم کشی کے ایجنڈے کی تکمیل ممکن نہیں ۔ 
 اس امر پر کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ بھارت کا دشمن نمبر ایک پاکستان ہی ہے۔ پاکستان کے قیام کا زخم آج بھی تازہ ہے۔ چودہ اگست اور تئیس مارچ کو بھارت کا یہ زخم ہرا ہو جاتا ہے۔ یہ بھی طے شدہ امر ہے کہ مسلم دنیا میں اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان ہی ہے۔ چودہ سو سال سے زائد مسلم دشمنی کی یہودی روایت اسرائیل کی ریاست نے زندہ رکھی ہوئی ہے۔ محمد عربی ﷺ کی ذات سے بغض کبھی بھی یہودی مذہبی طبقے میں کم نہیں ہوا، روئے زمین پر پاکستان وہ واحد اسلامی ملک ہے جس کے آئین میں محمد عربی ﷺ پر نازل ہونے والا قرآن اور آپﷺ کی سنت مبارکہ کو برتر ترین قانون (سپریم لاء) قرار دیا گیا ہے۔ یہ واحد اسلامی ملک ہے جو برصغیر میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ کروڑوں کلمہ گو مسلمانوں نے یہ مطالبہ کیا کہ ہم پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتون ، لکھنوی یا بنگالی نہیں بلکہ محمدعربیﷺ کے غلام اور پیروکار ہیں ۔ ہماری ثقافت، معیشت، سیاست غرض زندگی کا ہر معاملہ باقی طبقوں سے جدا ہے۔ 
 چودہ صدیوں سے زائد عرصے پر محیط مسلم دشمنی کے زہر میں بجھے یہودی مذہبی طبقے کے لیے یہ بہت بڑا سانحہ تھا کہ محمد عربیﷺ کے پیروکاروں نے متحد ہوکے علیحدہ مملکت کیوں کر قائم کر لی ۔ سقوط ڈھاکہ پر گھی کے چراغ دلی میں ہی نہیں تل ابیب میں بھی جلائے گئے تھے۔ یہ حقائق بھی طشت از بام ہو چکے ہیں کہ اسرائیل نے اسلحے کے لدے بحری جہاز بھیج کر بھارت کو کمک مہیا کی اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھرپور تعاون فراہم کیا ۔ اندرا گاندھی نے جب دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کرنے کا بیان دیا تو در حقیقت یہ اس نظریاتی جنگ کا واضح اعلان تھا کہ مسلمانوں کو محمدعربیﷺ کے کلمے کی بنیاد پہ کبھی متحد نہیں ہونے دیا جائیگا ۔ 
یوم پاکستان پر ہمیں نئی نسل کو بتانا ہے کہ جب ہم محمدعربیﷺ کی غلامی میں متحد ہوئے تو ایک عظیم الشان آزاد مملکت عطا ہوئی ۔ جب ہم زبان ، علاقے ، رنگ اور نسل کی بنیاد پر تقسیم ہوئے تو سقوط ڈھاکہ کی سیاہی ہمارا مقدر بنی۔ ہم نے اسلام کے نام پر ملک بنایا تو لیکن اسلام کے نظام پہ ملک چلا نہ سکے ۔ یہ ہمارا اجتماعی جرم ہے۔ یوم پاکستان کا اس سے اچھا پیغام کیا ہو سکتا ہے کہ ہم معاشرے میں لسانی تعصبا ت ، فرقہ ورانہ تفریق اور اجتماعی نا انصافی جیسی مہلک برائیوں کا قلع قمع کریں۔ دشمن ہمیں مٹانے کے لیے لسانی تعصبات کا ہتھیار ایک مرتبہ پھر پوری قوت سے استعمال کر رہا ہے۔ یاد رکھیں یہ ہتھیار تب ہی کارگر ہوگا جب ہم غفلت کا شکار ہوں گے۔ محض عسکری قوت کی بنیاد پر دشمن کا مقابلہ ممکن نہیں۔ سیاسی ، معاشی ، تعلیمی اور سفارتی محاذوں پر نئی صف بندی کئے بنا پاکستان کا استحکام ممکن نہیں ۔یہود و ہنود ان تمام محاذوں پر ہمارے خلاف بر سر پیکار ہیں۔

تازہ ترین خبریں