09:15 am
عورت مارچ کے خلاف خیبرپختونخواہ اسمبلی کی قرارداد

عورت مارچ کے خلاف خیبرپختونخواہ اسمبلی کی قرارداد

09:15 am

8مارچ عالمی یوم خواتین کے موقع پر موم بتی مافیا سے منسلک احساس کمتری کی بیماری میں مبتلا بعض خواتین و حضرات نے عورت مارچ کے نام پر جس طرح کے اخلاق باختہ کتبے‘ پوسٹر لہرائے‘ اسلام اور آئین پاکستان سے متصادم فحش نعرے لگائے‘ چادر‘ چار دیواری‘ نکاح‘ خاندانی نظام‘ باپ کی پدرانہ محبت‘ بھائی کی قربانی اور شوہر کے احترام کو جس طرح سے نشانہ بنایا اس کے آفٹرشاکس ابھی تک جاری ہیں‘ خیبرپختونخواہ اسمبلی نے ایم ایم اے کی رکن اسمبلی محترمہ ریحانہ اسماعیل کی جانب سے عورت مارچ میں اسلام و معاشرتی قدروں کے خلاف نعرہ بازی کرنے کے خلاف قرارداد پیش کی جسے تمام اراکین نے مشترکہ طور پر منظور کرلیا۔
اس مشترکہ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے ‘ کچھ سازشی عناصر ہمارے خاندانی نظام کو پاش پاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں...سول سوسائٹی کے نام پر کچھ خواتین جن نعروں کے ساتھ سڑکوں پر آئیں وہ قابل مذمت ہے۔
قرارداد میں خواتین مارچ کی آڑ میں فحاشی کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے ان پس پردہ قوتوں کو سامنے لا کر ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایم ایم کے رکن اسمبلی عنایت اللہ نے کہا کہ 8مارچ کو خواتین مارچ میں نامناسب طریقہ اپنایا گیا‘ پاکستان اسلامی ملک ہے جس میں  اسلام سے متصادم قوانین نہیں بن سکتے‘ یہ مذہب اور آئین پر حملے کے مترادف ہے‘ انہوں نے کہا کہ ملک کے 98فیصد لوگ اسلام چاہتے ہیں جبکہ 2فیصد این جی اوز والے ہمارے ملک کو ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں جن پر پابندی لگنی چاہیے‘ اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے کہا کہ اسلام اور ہماری روایات کے خلاف باتیں جاری ہیں‘ میرا جسم میری مرضی جیسے نعروں کا کیا مطلب ہے؟ اگر حکومت ان لوگوں کو نہیں روکے گی تو پھر ہم خود روکیں گے۔
پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی شیراعظم وزیر نے کہا کہ ہم مخصوص ایجنڈے کی حامل خواتین کی ایسی حرکات برداشت نہیں کریں گے‘ مسلم لیگ (ن) پارلیمانی لیڈر سردار یوسف نے کہا کہ پہلے ہم سب مسلمان ہیں اور مذہب کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے‘ یہ ملک کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا‘ یہاں کسی کو فحاشی کی اجازت نہیں دیں گے‘ ایسی این جی اوز کے خلاف تحریک چلانی چاہیے‘ اے این پی کے خوشدل خان نے کہا کہ پردہ لازم اور فرض ہے‘ ہم این جی اوز کے عورت مارچ کی مذمت کرتے ہیں‘ حکومتی رکن فضل الٰہی نے بھی خواتین مارچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ چند خواتین کی ذاتی سوچ ہے‘ ہم مسلمان ہیں اور پردہ کو مانتے ہیں۔ پاکستانی قوم شریعت کا نفاذ چاہتی ہے‘ خیبرپختونخواہ اسمبلی نے بے حیا عورت مارچ کے خلاف مشترکہ قرارداد منظور کرکے ڈالر خور این جی اوز کے بیمار مائینڈ سیٹ کو بے نقاب کر دیا‘ پاکستان کے 22کروڑ عوام عمران خان کی وفاقی حکومت کی طرف  دیکھ رہے ہیں کہ اس حکومت نے 8مارچ کو عورت مارچ میں اسلامی اور اخلاقی قدروں پر حملہ کرنے والے  شرپسند انتہا پسندوں کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا؟
اگر حکمران اور بالادست قوتیں ایک طرف ٹی ٹی پی کی شدت پسندی کو ختم کرنے کے لئے گولی‘ بم اور فضائی بمباری کا سہارا لیں (جوکہ درست بھی تھا) اور دوسری طرف این جی اوز مارکہ بیمار ذہنیت سے منسلک لبرل شدت پسند اسلام اور خاندانی نظام پر بڑھ چڑھ کر حملے کریں مگر انہیں کوئی گرفتار کرنے کے لئے بھی تیار نہ ہو تو اس سے حکمرانوں کی دوغلی پالیسی عیاں ہوتی ہے۔
پاکستان کے قیام کے وقت 1947ء میں مردوں کے شانہ بشانہ عورتوں کا کردار بھی واضح ہے14... اگست 1947ء کے دن جن ہزاروں مائوں‘ بہنوں‘ نے پاکستان کی خاطر اپنی جانیں قربان کی تھیں ان کا مقصد مغربی کلچر یا ننگی اور اخلاقی باختہ تہذیب نہیں بلکہ اسلامی پاکستان کا حصول تھا۔ پاکستان کی خاطر مائوں‘ بہنوں‘ بیٹوں نے قربانیوں کی جو شاندار مثال قائم کی تاریخ اس پر ہمیشہ نازاں رہے گی۔
متحدہ ہندوستان میں اگر مسلمان خواتین کو لبرل یا سیکولر حقوق کی خواہش ہوتی تو وہ اس پاکستان کے قیام کی خاطر کبھی لاکھوں کی تعداد میں جانیں قربان نہ کرتیں کہ جس پاکستان کا بنیادی نعرہ ہی لاالہ الااللہ تھا‘ ڈالر خور این جی اوز احساس کمتری میں مبتلا  جن بعض عورتوں کو حقوق کے نام پر اسلام اور خاندانی نظام کے خلاف استعمال کر رہی ہیں ان کی نہ اپنی کوئی عزت ہے اور نہ پہچان۔
ہر معاشرے  میں ایسے مٹھی بھر گمراہ عناصر پائے جاتے ہیں کہ جو تہذیب کے مقابلے میں بدتہذیبی‘ حیاء کے مقابلے میں بے حیائی‘ امن کے مقابلے میں بدامنی اور فساد کو پھیلانے کا سبب بننے کی کوشش کرتے ہیں‘ ایسے فسادی گروہ معاشرے کے لئے ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں‘ ان کی حالت جنگل کے موذی جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتی ہے‘ معاشرے کو درست حالت میں رکھنے کے لئے معاشرے کو ان لبرل شدت پسندوں کی بداخلاقی بدکرداری اور بدتہذیبی سے بچانے کے لئے ضروری  ہے کہ حکومت ان  فسادیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔لیکن حکمران اگر معاشرے کے لئے ’’ناسور‘‘ بننے والے ان عناصر کی مذموم حرکتوں کی طرف سے کان اور آنکھیں بند کرلیں گے تو اس کے مضر اثرات سے معاشرہ خطرات میں گھر جائے گا...بہاولپور میں طالب علم کے ہاتھوں ایسوسی ایٹ پروفیسر کا قتل آنے والے خطرات کی نشاندہی کر رہا ہے۔ پاکستان کے نوجوان اسلامی احکامات اور اخلاقی قدروں پر ہونے والے ملحدانہ حملوں کے خلاف قانون اور عدالتی نظام سے مایوس نظر آرہے ہیں۔ پروفیسر کے قتل پر تفصیلی کالم تو آئندہ لکھوں گا لیکن نشاندہی کرنا اس خاکسار کی ذمہ داری ہے کہ اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور مغرب کی پالی ہوئی این جی اوز کو لگام نہ ڈالی توحالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔

تازہ ترین خبریں