09:18 am
پاکستان میں تیل و گیس کی دریافت کے خوش آئند امکانات

پاکستان میں تیل و گیس کی دریافت کے خوش آئند امکانات

09:18 am

٭نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو جان سے مارنے کی دھمکیاں O ملائیشیا کے ساتھ سوا کھرب روپے کے معاہدے، کراچی میں کاریں بنانے کی فیکٹری …مہاتیر محمد کے چند سوانح حیات O تین ہفتے میں بڑی خوش خبری دوں گا: عمران خان، سمندر سے تیل نکلنے کے خوش آئند امکاناتO بلاول زرداری کے بیانات پر بھارتی اخبارات کی لیڈ سٹوریاں O پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں ٹرمپO کراچی:محکمہ خوراک میں 80 کروڑ کا گھپلا، کورنگی میں 250 ایکڑ زمین کی برائے نام قیمت پر فروخت، ارباب رحیم، جہانگیر ترین نے 21 ارب کا نقصان پہنچایا۔ تحقیقات شروع۔
 
٭نیوزی لینڈ، سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر جمعہ کی اذانیں نشر ہوئیں۔ وزیراعظم جیسنڈا نے پیغمبر اسلام آنحضورؐ کی حدیث سنائی کہ اسلام رحمت اور سلامتی کا مذہب ہے۔ اس کی مثال جسم کی ہے، جس کے ایک حصے میں کوئی تکلیف تو پورے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔ ان کی مسلمانو ںکے ساتھ ہمدردی پر شدت پسندوں نے انہیں آن لائن جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔ اس دھمکی کو نمایاں کرنے کے لئے ان کی تصویر کے ساتھ بندوق کی تصویر بھی لگائی گئی ہے۔
٭ملائیشیا کے وزیراعظم کی پاکستان آمد پر پرجوش استقبال کیا گیا، توپوں کی سلامی، گارڈ آف آنر، ظہرانے، عشایئے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد آج یوم پاکستان کی پریڈ میں صدر پاکستان عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مسلح افواج کی پریڈ میں سلامی بھی لیں گے۔ ملائیشیا اور پاکستان میں خوراک، آئی ٹی اور ٹیلی کام کے علاوہ کراچی میں ایک کار فیکٹری کے تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے چار اہم معاہدے بھی کئے گئے ہیں۔ میرے سامنے ڈاکٹر مہاتیر محمد کی تحریر کردہ سوانح عمری ’’ایشیا کا مقدمہ‘‘ پڑی ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کی زبانی ان کی زندگی کے چند اہم اور دلچسپ واقعات پیش کر رہا ہوں۔ لکھتے ہیں۔ ’’میں اپنے خاندان کے دس بچوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ ہم لوگ ملائیشیا کے جنوب مغربی قصبہ ایلورستار میں ایک جھونپڑی میں رہتے تھے۔ والد ایک سکول میں استاد تھے اور گھر میں سخت مذہبی نظم و ضبط تھا۔ والد صاحب نے صرف قرآنی تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے چھوٹی عمر میں ہی پورا قرآن مجید پڑھ لیا…کوالالمپور میںڈاکٹری کی تعلیم کے لئے سڑکوں پر کیلے بیچے… 1991ء میں دوسری عالم گیر جنگ کے وقت ملائیشیا، انڈیا، برما، سنگا پور اور ہانگ کانگ پر برطانیہ کا قبضہ تھا۔ انڈونیشیا پرہالینڈ، کمبوڈیا اور لائوس پر فرانس حکمران تھا…جاپان نے ملائیشیا میں انگریزوں کو شکست دے کر تین سال تک قبضہ کئے رکھا۔ انگریزی سکول ختم کر دیئے، جاپانی سکول کھل گئے۔ میں نے ایک کھڑکی سے انگریزوں کی شکست دیکھی۔ انگریزی فوج بھاگتی جا رہی تھی، اس کے تعاقب میں جاپانی فوج اس پر گولیاںبرسا رہی تھی… جاپانیوں کے بعد پھر سے انگریز آ گئے۔ انہوں نے ملائیشیا کی تھوڑی سی آزادی ختم کر کے اسے مکمل طور پر اپنی نو آبادی بنا لیا۔ اس کے خلاف میں نے خفیہ طور پر آزادی کی تحریک شروع کی۔میں نے انڈیا میں آزادی کی تحریک خاص طور پر محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں کے طریقے کا بڑے غور سے مطالعہ کیا اور اس سے رہنمائی حاصل کی۔ ہماری کوششوں سے 31 اگست، 1957ء کو ملائیشیا کو آزادی نصیب ہو گئی…میری اولین کوشش ہوتی ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ وقت اپنے بچوں کے ساتھ گزاروں، کوئی مجھے دوپہر کے کھانے کی دعوت دیتا ہے تو میں سوچ کر افسردہ ہو جاتا ہوں کہ آج دوپہر ہم اکٹھے نہ ہو پائیں گے!‘‘ یہ طویل داستان ہے پھر سہی!
٭ایک اچھی خبر: کراچی سے کچھ فاصلہ پر سمندر میں گہری کھدائی کے بعد تقریباً 5 سے 6 ہزار فٹ نیچے گیس کا دبائو مل گیا ہے۔ تیل ملنے کا بھی امکان ہے۔ اندازہ ہے کہ یہاں وسیع پیمانہ پر گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اس کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو تین ہفتے بعد بڑی خوش خبری سنائوں گا۔ خدا کرے ایسا ہو جائے تو گیس کے ان ذخائر سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
٭نیوزی لینڈ کے بعد برطانیہ میں بھی مساجد پر حملے شروع ہو گئے۔ گزشتہ رات برمنگھم میں ہتھوڑوں کے ساتھ پانچ مساجد کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ دی گئیں۔ حیرت ہے کہ ہتھوڑوں کی شیشے توڑنے کی بھاری آوازیں پولیس تک نہ پہنچیں!
٭انٹرنیشنل میل (ڈاک) نے ہالینڈ سے پاکستان کو بھیجی جانے والی ہزاروں نشہ آور گولیاں پکڑ لیں جویہاں سکولوں کے بچوں کو فروخت کی جانی تھیں۔
٭امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ نے اچھے تعلقات کی وضاحت نہیں کی ممکن ہے وہ پاکستان کی امداد بند کرنے، ہر روز پاکستان کو اپنے وزیرخارجہ کے ذریعے دھمکیاں دینے اور اس پر بھارت کے خلاف جارحیت کا الزام دیتے رہنے کو بہت اچھے تعلقات قرار دے رہا ہو۔
٭ڈیپوٹیشن پر صوبوں میں جانے والے وفاقی سرکاری افسروںکے لئے خوش خبری! جتنی مرضی کرپشن کریں، رشوت لیں، سرکاری وسائل کی لوٹ مار کریں، آئندہ انٹی کرپشن کا محکمہ کسی شکائت پر خود کوئی کارروائی نہیں کرسکے گا۔ اسے پہلے وفاقی محکمہ داخلہ سے اجازت لینی ہو گی جو کسی معاملے کو کھوہ کھاتے میں ڈالنے والی بات ہے۔ اندازہ لگائیں کہ محکمہ اینٹی کرپشن کا عملہ ڈیپوٹیشن والے کسی افسر کو موقع پر رشوت لیتے دیکھتا ہے تو وہ اسے گرفتار نہیں کر سکے گا۔ وہ اسلام آباد میں محکمہ داخلہ کو خط لکھے گا جو نیچے سے اوپر اور پھر اوپر سے نیچے آنے میں کئی دن بلکہ ہفتے لے لے گا۔ محکمہ داخلہ کے افسر سرکاری ’پیٹی بند‘ افسر بھائیوں کے خلاف کیسے کسی کارروائی کی اجازت دے سکتے ہیں؟ سو صاف جواب آ جائے گا کہ کسی کارروائی کی ضرورت نہیں۔
٭پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد عثمان بزدار کو وزیراعظم عمران خان نے بلایا۔ صحافتی بزر جمہروں نے خبریں چلا دیں کہ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں 133 فیصد اضافہ پر سخت ڈانٹ ڈپٹ کی ہے اور یہ کہ وزیراعلیٰ کو اپنی وزارت کے لالے پڑ گئے ہیں۔مگر ہوا کیا! وزیراعظم عمران خان نے تو بالکل الٹ بات کہہ دی کہ محمد عثمان بزدار مستقل وزیراعلیٰ ہیں، وزیراعلیٰ رہیں گے۔ ان کے بارے میں افواہیں بے بنیاد ہیں۔ وہ بہت معصوم اور سادہ انسان ہیں۔ ٹھیک ہے انگریزی نہیں بول پاتے تو لیڈر کے لئے انگریزی بولنا ضروری نہیں ہوتا!۔ (غلام حیدر وائیں بھی انگریزی نہیں بولتے تھے، ایک بار انگریزی کے چند الفاظ بول دیئے تھے تو اخبارات میں شور مچ گیا تھا) وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف وزیراعلیٰ بنے تھے تو چھ ماہ تک پریس کانفرنس ہی نہیں کر سکے تھے! مزید یہ کہ محمد عثمان بزدار صاحب آہستہ آہستہ سیکھ رہے ہیں، ایک روز ’پختہ‘ وزیراعلیٰ بن جائیں گے۔‘‘ وزیراعلیٰ اپنی تعریف پر اتنے خوش ہوئے کہ لاہور واپس آ کر ایک محکمہ کے افسروںکو بلایا اور کہا کہ ٹھیک ہو جائو ورنہ میں ٹھیک کر دوں گا!
٭ایک قومی اخبار نے ذمہ داری کے ساتھ خبر دی ہے کہ بلاول زرداری نے پاکستان کے ریاستی اداروں کے بارے میں جو سخت بیان دیا ہے اس سے پہلے اس سے کچھ غیر ملکی افراد نے ملاقاتیں کی تھیں۔ اب یہ بیان مولانا فضل الرحمان، اسفند یار ولی اور محمود اچکزئی سے بھی دلایا جائے گا!!
٭دلچسپ خبر: آکسفورڈ ڈکشنری میں اُردو کے بعض الفاظ شامل کر لئے گئے ہیں ان میں چمچہ،گلاب جامن، گرم مصالحہ اور قیمہ کے الفاظ بھی شامل ہیں۔ ’چمچہ‘ کا لفظ خاص طور پر اہم ہے، پتہ نہیں ڈکشنری میں اس کی کیا وضاحت کی گئی ہے؟

تازہ ترین خبریں