09:22 am
 ریاست،ماں کے جیسی

ریاست،ماں کے جیسی

09:22 am

سلیپنگ پیراڈائز  نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم  جیسنڈا نے  نہ صرف پوری دنیا کو امن کا   انوکھا  پیغام دیا  بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ ریاست واقعی ماں کے جیسی ہوتی ہے۔  خالق کائنات نے انسان  کے ساتھ ساتھ  چرند،پرند،درند میں دیگر کئی مشترکہ اقدار کیساتھ ممتا کی قدر مشترک رکھی ہے۔ممتا کائنات میں ایک ایسا جزبہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں،تپتی دھوپ میںگھنا سایہ، سردی میں نرم گرم آغوش،دنیا کی کلفتوں میں راحت ۔  جیسنڈا ،ایک وزیر اعظم  ہونے کے ساتھ ساتھ  ایک ماں بھی ہیں۔وزیر اعظم ہوتے ہوئے وہ ماں بنیں اور اپنے بچے کے ہمراہ  اقوام متحدہ کے اجلاس میں  شریک ہو کر انہوں نے ماں کی اہمیت اور ذمہ داریوں کو اجاگر کیا۔ 
 
 ریاست بھی اگر فلاحی اور رفاعی ہو تو ممتا کے جزبہ سے سرشار ہوتی ہے،اپنے شہریوںکیلئے ماں کا درجہ رکھتی ہے اور وزیر اعظم جیسنڈا نے یہ  ثابت کیا۔دوسر ی طرف
 ماں کے جیسی ریاست اپنے شہریوں کو امن و انصاف کیساتھ تعلیم،صحت سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بناتی ہے،بچوں کے روزگار کی فکر اسے ہمیشہ دامن گیر رہتی ہے،جس کیلئے ضروری ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت ان کی مادری زبان میںکی جائے،جدید تعلیم سے نئی نسل کو آراستہ کر کے ان کو ہنرمند بنایا جائے،شہریوںکی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے،دانشوروں کا قول ہے’’صحت مند جسم،صحت مند دماغ،لاغر جسم،لاغر دماغ‘‘ اس فارمولا کے تحت اچھی ریاست اپنے شہریوں کی صحت کے حوالے سے نہ صرف فکر مند رہتی ہے بلکہ اس کیلئے عملی اقدا مات بھی بروئے کار لاتی ہے،جیسے انسانی بقاء کیلئے صحت اور انسانی ترقی کیلئے تعلیم و ہنر ضروری ہیں ویسے ہی صحت مند معاشرہ کیہلئے امن و انصاف انتہائی اہم ہے،کوئی بھی فلاحی ،بہبودی اور رفاعی ریاست اپنے شہریوں کو امن و امان کیساتھ انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔پوری دنیا  میں وزیر اعظم جیسنڈا  کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔اسی طرح کے لیڈر اپنی قوموں اور ریاستوں  کو عظیم بنا تے ہیں۔
کینیڈا بھی  ایک ایسی ہی  ریاست ہے،جس کے قوانین شہریوں کیلئے ممتا کا جزبہ رکھتے ہیں ،ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ ماں کا سا برتائو کرتی ہے،ان کی  ضرورت کا خیال رکھا جاتا ہے،صرف معاش کی فراہمی پر ہی توجہ مرکوز نہیں کی جاتی تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھی اہم گردانا جاتا ہے،اور اس کیلئے ریاست ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔
کینیڈا کے حالیہ بجٹ پر سرسری نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم، صحت، انصافِ،امن کینیڈین حکومت کی ترجیح ہیں ہی مگر نئی نسل کو جدید علوم   اور سائنسی تحقیق سے روشناس کرانا بھی اس حکومت کی اولین ترجیح ہے۔روئے زمین پر پہلی اسلامی ریاست میں سیدنا عمر نے ہر پیدا ہونے والے بچے کا سرکاری خزانہ سے وظیفہ لگایا،بچوں کو ہر سہولت کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری قرار دی،ان کے وضع کردہ  اصولوں کو   اولاً   ناروے میں بروئے عمل لایا گیا اور سماجی بہبود کے ان قوانین کو’’عمر لاز‘  کا نام دیا گیا،مگر اسلامی طرز معاشرت کو مکمل طور پر کینیڈا نے اپنایا،جس کے نتیجے میں کینیڈین معاشرہ پر امن ہے،قانون کالے گورے کے لئے برابر ہے،انصاف سب کو برابری کی بنیاد پر ملتا ہے،نہ دوہرے قوانین ہیں نہ ہی عملدرآمد میں دوہرا رویہ،ریاست کی طرف سے شہریوں کو دی جانے والی سہولیات بھی یکساں ہیں،سب کو استحقاق کی بنیاد پر میرٹ پر ہر سہولت دی جاتی ہے۔
کینیڈا میںاگرچہ اکتوبر میں عام انتخابات ہو نیوالے ہیں مگر رواں ماہ پیش کئے جانے والا علمی،سائینسی بجٹ 5سال کیلئے ہے،جسٹن ٹروڈو
 گورنمنٹ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے اپنی حکومت یا سیاسی مفادات کو پیش نظر نہیں رکھا بلکہ قوم کے مستقبل اور ملکی مفادات کو اہمیت دی۔   19مارچ کو پیش کئے گئے بجٹ میںانسانی صحت کے حوالے سے میڈیکل ریسرچ خاص ہدف ہے،دماغی امراض اور جینز کی سٹڈی کیلئے آئندہ 5سال کیلئے 4ارب کینیڈین ڈالر مختص کئے گئے ہیں،جو گزشتہ بجٹ کی نسبت ایک ارب ڈالر زائد ہے اس بجٹ کے ذریعے صرف 2018ء میں سامنے آنے والی بیماریوںپر تحقیقا ت   کی   جائیں گی،ایک ایڈوائزری بورڈ مستقبل میں ہونے والی سائینسی ریسرچ کی سکیورٹی پر بھی کام کرے گا،اس رقم میں سے ان تین ایجنسیوں کو کوئی گرانٹ نہیں دی جائے گی جو پہلے سے یہ  کام کررہی ہیں ،ان کو الگ سے گزشتہ سال خطیر رقم فراہم کی جا چکی ہے۔
ریسرچرز کا خیال ہے کہ اس بجٹ سے دماغی امراض اور جینیاتی مسائل پر مختصر وقت میں قابو پانے میں مدد ملے گی،پروگرام کا مقصد شہریوں کی جسمانی صحت کیساتھ ان کی دماغی صحت کا بھی خیال رکھنا ہے،دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ ساری رقم حکومت کی صوابدید پر خرچ نہیں کی جائیگی بلکہ تحقیہق سے وابستہ تین ایجنسیوںکی سفارش پر انفرادی اور اجتماعی سطح پر خرچ کی جائے گی،اسی بجٹ سے دیگر ممالک میں ہونے والی تحقیق کو مقامی زبان میں منتقل کیا جائے گا تا کہ بچوں کوتحقیقاتی کام میں آسانی ہو،یہ ہے اصل ترقیاتی سوچ ،جیسے ہمارے ہاں بچوں پر ظلم ہوتا ہے ایسا نہیں ہوتا،پنجاب میںبچے گھر میں پنجابی باہر  اردو  اور سکول میں انگلش میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ  علم کے اسرار و رموز کو جاننے میں مشکل سے دوچار رہتے ہیں۔
کینسر کی تحقیقات کیلئے بھی 3.5کینیڈین ڈالر مختص کئے گئے ہیں،اس فنڈ سے ریسرچرز کو براہ راست تحقیق کیلئے رقم فراہم کیجائے گی، اپنی تحقیق اور فنڈز کے حصول کیلئے اب ریسرچر کسی کے محتاج نہیں ہونگے،پراجیکٹ پیش کرینگے اور ماہرین ان کے پراجیکٹ کے مطابق رقم جاری کرنیکی سفارش کر دینگے،ریسرچر آزادی اور(باقی صفحہ6بقیہ نمبر8)
 دل جمعی سے اپنی تحقیق جاری رکھ سکے گا،ماہرین نے اس فنڈ کو کینسر کے علاج کی دریافت کیلئے انتہائی اہم قرار دیا ہے،اس سب کے علاوہ ریسرچر کی تیاری اور تربیت کیلئے بھی گرانقدر فنڈز مختص کئے گئے ہیں جبکہ  عام
 تعلیم تو ذمہ داری ہی حکومت کی ہے۔کاش پاکستان بھی جلد ایسا مقام پا لے اور یہاں بھی ریاست ماں کے جیسی بن جائے۔
کالم

 

تازہ ترین خبریں