09:53 am
اسلام کا تمام ادیان‘ مسیحی و یہودی تہذیب کیلئے انسان دوست رویہ

اسلام کا تمام ادیان‘ مسیحی و یہودی تہذیب کیلئے انسان دوست رویہ

09:53 am

کسی بھی دین‘ مذہب اور تہذیب کا ابتدائی  مرحلہ اس کے سیاسی رویوں کو ظاہر کرتا ہے۔ مسیحي مذہب‘ مسیحی تہذیب اور مسیحی حکمرانی کے متعلق اسلام کا مکی عہد ہمارے لئے مسلمان مسیحی دوستی کی بنیادیں استوار کرتا نظر آتا ہے تو اسلام دشمن ’’کافروں‘‘ سے بقائے باہمی کا سیاسی انداز فکر اسلام کے مکی عہد میں بھی ہمارے لئے روشنی کا مینار ہے۔ اس حوالے سے پارہ 30کی سورہ الکافرون ہماری راہنمائی کرتی ہے کہ جب مسلمان اور ان کے مدمقابل کافر قوتیں اپنے اپنے  دین اور تہذیبی فکر پر پختگی سے کار بند ہوگئیں کہ مسلمانوں نے اپنا دین نہ چھوڑنے کا راستہ اپنایا حالانکہ وہ مکہ میں کمزور ترین سیاسی و اقتصادی حالت میں تھے۔ دوسری طرف ان کے دشمن کافروں نے اپنا آبائی دین کا رویہ بھی چھوڑنے سے انکار کر دیا تو حضرت محمد رسول اللہﷺ نے سورۃ الکافرون کی آخری آیت میں نازل شدہ ’’معاہدہ بقائے باہمی‘‘ کافروں کے سامنے پیش کیا کہ دونوں اپنے اپنے دین اور اپنے اپنے افکار پر کاربند رہ کر’’ زندہ رہو زندہ رہنے دو‘‘ کے اصول پر متفق ہو جائیں۔ 
 
ہمارے خیال میں کافروں سے سیاسی معاہدے کرنے کا یہ نادر ترین قرآنی فارمولہ دنیا مین امن کا ابتدائی پیغام ہے جس سے کوئی بھی خطہ زمین پر امن بقائے باہمی کے قالب میں ڈھل سکتا ہے۔ مسیحی مذہب سے جو تعلق حضرت محمدﷺ کو تھا وہ بار بار قرآن پاک میں  حضرت مریم  علیھا السلام   اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرے سے قابل فہم ہے۔ اگرچہ حضرت عیسیٰ ؑ کا تذکرہ قرآن پاک میں اس قدر زیادہ ہے کہ وہ مسلمان مسیحی دینی مفاہمت اور دوستی کا یادگار ماحول پیش کرتا ہے تب بھی قرآن پاک میں پارہ 16کی  سورہ مریم اور پارہ6کی سورۃ المائدہ مسیحی دین کی ان دونوں عظیم شخصیات کے لئے دوستی  کے رخ کو پیش کرتی ہے۔ نہایت دلچسپ بات یہ ہے کہ سورۃ مریم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جبکہ سورۃ المائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تھی۔ گویا مکہ اور مدینہ کی نبوی زندگی اور نزول قرآن کا عہد حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریم علیھما السلام کے لئے بھرپور محبت و احترام اور انہیں اسلام ہی کی طرح کا روحانی درجہ پیش کرتا ہے جبکہ حضرت محمد رسولﷺ نے مسلمان مسیحی سیاسی دوستی کا رخ مکہ مکرمہ میں پیش کیا۔ رومی بازنطینی مملکت اور ایرانی زرتشت مملکت جو کہ اس عہد کی دوبالا دست حکومتی قوتیں تھیں ان دونوں میں سے اپنا وزن اور اپنی محبت صرف رومی باز نظینی مسیحی مملکت کو اس وقت پیش کی جب موجودہ شام ملک کے اندر ایک ہی خطہ زمین پر دونوں کا دعویٰ تھا اور بات جنگ تک پہنچ گئی تھی مکہ مکرمہ میں مشرکین نے آنحضرتؐ سے  سوال کیا کہ اس متوقع جنگ میں جیت کس کی ہوگی؟ توآنحضرتﷺ نے اپنے قلبی میلان کی وجہ سے رومی مسیحی مملکت کی جیت کی نوید سنائی مگر عملاً اس جنگ میں جیت ایران کو ہوئی تو اس وجہ سے مشرکین نے مسلمانوں کا مذاق اڑایا۔ مشرکین کے سماجی اور معاشرتی مذاق کے جواب میں پارہ21کی سورۃ الروم نازل ہوئی جس کی پہلی پانچ آیات زرتشت ایران اور بازنطینی رومی جنگ کے متعلق ہے کہ اس ایرانی جیت اور رومی شکست کو مستقبل میں بالکل الٹ کر دینے کی بشارت دوسری آیت میں پیش ہوئی ہے۔
 نہایت دلچسپ بات یہ ہے کہ  اس کے بعد خود رسول اللہﷺ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی اور یثرب چلے گئے اور اس شہر کا نام مدینہ منورہ رکھا۔ اس شہر میں قیام کے بعد رسول اللہﷺ نے میثاق مدینہ کا معاہدہ  یہودی قبائل سے کیا۔ اسلام دوسرے ادیان کے ساتھ کونسا سیاسی لچک دار رویہ اپناتا ہے اور زندہ رہو  زندہ رہنے دو کی عملی صورت پیش کرتا ہے؟ یہ بات ہمیں مسیحی قبائل سے حسن سلوک اور یہودی قبائل کے ساتھ ہونے والا نبوی معاہدہ میثاق مدینہ  دکھاتا ہے۔ یقینا یہ میثاق مدینہ ہی کا معاہدہ ہے جس کے مطابق مدینہ نامی مسلمان ریاست نے جنم لیا اور دوسری تہذیبوں کو  زندہ رہنے کا مکمل ماحول فراہم کیا جبکہ جنگ بدر صرف اس وجہ سے ہوئی کہ مکہ کے مشرکین بقائے باہمی کی نبویؐ پیشکش جوکہ سورۃ الکافرون کی آخری آیت میں مشرکین اور کافروں کو پیش ہوئی تھی‘ نے اسے مسترد کرکے مدینہ منورہ پر اپنی لشکر کشی لے کر چلے آئے۔    (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں