09:54 am
پاکستان ، افغانستان میں امن اور بھارت

پاکستان ، افغانستان میں امن اور بھارت

09:54 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
گزشتہ برس ماسکو نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں داخلی سطح پر طالبان سمیت افغانستان کی سیاسی قوتوں کے مابین  امن کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے والے ممالک نے بھی شرکت کی۔ دہائیوں بعد انفرادی سطح پر رابطے ہوئے اور مؤقف  میں بھی تبدیلی آئی۔ خطے میں واحد بھارت ہے جسے افغانستان کے امن میں کوئی دلچسپی نہیں۔ بھارت اس تباہ حال ملک میں صرف اس لیے کشیدگی جاری رہنے کا خواہاں ہے تاکہ اس کے ذریعے سے پاکستان میں انتشار کو ہوا دی جاتی رہے۔ مزید یہ کہ اس پراکسی جنگ میں بھارت مالی وسائل، افرادی قوت یا رسد کی صورت میں بڑی بھاری سرمایہ کاری کرچکا تھا۔ امریکہ بھی یہاں قیام کی بھاری قیمت چکا رہا ہے جب کہ افغانستان میں نہ صرف بھاری جانی نقصان ہورہا ہے بلکہ اسے انفرااسٹرکچراور بڑے شہروں کی تباہی کا بھی سامنا ہے۔ افغان خفیہ ادارے خاد کے ساتھ مل کر بھارتی ’را‘ پاکستان کی نظریاتی اور زمینی حدود پر تحریک طالبان پاکستان اور دیگر نام نہاد جہادی گروہوں کے ذریعے حملہ آور ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو طالبان کے ساتھ نتھی کر کے بھارت نے اسے دہشت گردی قرار دینے کے لیے بہت ڈھنڈورا پیٹا۔ پاکستان کو سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسے دہشت گردی کا معاون و مددگار بنا کر پیش کیا گیا۔
 اس دوران امریکہ کو افغان فوج، حکومت اور معیشت کے لیے بڑے پیمانے پر اخراجات برداشت کرنا پڑے جب کہ اسے خود اربوں ڈالر کا نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ حقیقت یہ تھی کہ امریکہ پاکستان کے خلاف بھارت کی پراکسی جنگ میں مہرہ بنا ہوا تھا اور بڑی چالاکی سے بھارت نے ان حالات کا فائدہ اٹھایا۔ افغان ، امریکی اور پاکستانی جان سے گئے اور فائدہ بھارت نے اٹھایا۔ پیٹنز کے بقول’’ کوئی بھی شخص اپنے ملک کے لیے جان دے کر جنگ نہیں جیت سکتا ہے، جب وہ دوسروں کو اپنے ملک کے لیے جان دینے پر آمادہ کرلیتا ہے، یہی اس کی کام یابی ہوتی ہے۔‘‘ اسے بھارت نے اپنے حق میں یوں ثابت کیا ’’ہم پاکستان کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں اگر امریکی اور افغانوں کو اپنے ملک کے لیے مرنے دیا جاتا رہے۔‘‘ 
گزشتہ 10برس سے مجھے مختلف تھنک ٹینکس میں امریکی دانشوروں سے ملنے کا موقع ملا اور میں نے انھیں پاکستان سے متعلق زیادہ پُرامید نہیں پایا اور وہ افغانستان کی جنگ میں امریکہ کی کامیابی سے متعلق بھی مایوس نظر آئے۔واشنگٹن اور نیویارک میں مجھے اپنے کئی قریبی دوستوں کی جانب سے پاکستان کی ’’غلط بیانی‘‘ کے جارحانہ تبصروں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بدقسمتی سے آصف زرداری نے حسین حقانی کو امریکہ میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا اور حقانی نے اپنے منصب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ میں پاکستان مخالف مہم چلائے رکھی۔ حقانی نے اپنی چرب زبانی کا بھرپور استعمال کرکے امریکی دانشوروں تک بھارتی ساختہ ’’حقائق‘‘  پہنچائے جس پر انہوں نے اعتبار بھی کیا۔ 
حقانی نے پاکستان واپس آنے کی یقین دہانی کروائی تھی  لیکن سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے بیان حلفی کی خلاف ورزی کی۔ سفارت سے برطرفی کے بعد حقانی  نے کھل کر بھارتی پروپیگنڈے میں کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔  تعجب اس بات پر  ہے کہ مذمت تو کیا کرتے، آصف زرداری یا پیپلز پارٹی کبھی اس کا ذکر تک نہیں کرتے۔ایک دور میں زلمے خلیل زاد بھی پاکستان کے شدید مخالف تھے، لیکن ان کا جیسے دوسرا جنم ہوگیا  اور حقائق ان پر واضح ہوگئے۔ سوال یہ ہے کہ بھارتی حمایت یافتہ اشرف غنی کی حکومت اب خلیل زاد کے ساتھ کیسے چلے گی؟ 
خطے میں بارسوخ رہنے کے لیے بھارت کی پالیسی میں افغانستان کو مرکزیت حاصل ہے۔ گزشتہ بیس برسوں میں بھارت نے صرف اس لیے طالبان کے خلاف شمالی اتحاد کی مدد کی تھی کہ یہ اتحاد پاکستان سے بھی عناد رکھتا تھا۔ بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جو افغانستان میں جنگ جاری رہنے کا خواہش مند ہے۔ بھارت نے افغانستان میں متعدد قونصلیٹ بنائے، اقوام متحدہ کے ڈس آرمیمنٹ ، ڈی ملٹرائزیشن اینڈ ری انٹگریشن کورز(ڈی ڈی آر) اور تعمیراتی منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
  2001ء کے بعد بھارت نے افغانستان میں امداد اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر و ترقی کی مد میں 2ارب ڈالر خرچ کرکے اپنے خفیہ اداروں کا بھی خاصا اثر و رسوخ پیدا کیا۔ اقوام متحدہ اور افغان حکومت میں رسوخ بڑھا کر  بھارت کو پاکستانی سرحد کے نزدیک عسکریت اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے اور ان کا الزام پاکستان پر دھرنے کی تقریباً کھلی چھٹی مل گئی۔ افغانستان کی تعمیر و ترقی میں بھارت کی معاونت دراصل ایک جامع منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس میں کسی بھی ممکنہ تنازعہ کی صورت میں پاکستان کی دشواریوں میں اضافہ پیش نظر تھا۔ اسی بناء پر پاکستان نے بھارت کو ان مذاکرات سے دور رکھنے کی شرط رکھی تھی اور اسی وجہ سے بھارت کی بے چینی عروج پر پہنچ گئی۔ افغانستان کی حکومت میں چاہے کرزئی برسر اقتدار ہو یا اشرف غنی، انھیں سلامتی اور استحکام کے لیے امریکہ نے معاونت فراہم کی۔ امریکی چھتر چھایا کہ بغیر یہ کردار جلد یا بدیر ہوا میں تحلیل ہوجائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ افغان حکومت مذاکرات کی ناکامی کے ہاتھ پاؤں چلا رہی ہے۔ جنگ کے بعد والے افغانستان میں طالبان اہم ترین سیاسی قوت بن کر ابھریں گے اور بھارت کی افغان پالیسی کا دیوالیہ نکل جائے گا۔ افغانستان میں اپنے قدم جمانے کے بعد کئی برسوں تک بھارت نے پاکستانی مفادات کو زد پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیا۔ ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کے بعد بھی افغانستان میں بھارت کا کردار باقی رہے گے لیکن اس صورت حال میں اسے گزشتہ دودہائیوں جیسی کھلی آزادی حاصل نہیں ہوگی۔ حال ہی میں اقوام متحدہ میں طالبان رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے میں ناکامی پر بھارت کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی، افغانستان میں بدلتے حقائق سے متعلق صورت حال واضح ہوتی ہے۔ 
بھارت کی افغان پالیسی میں پاکستان ہی کو نشانے پر رکھا گیا۔ انھیں اس بات سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ ہزاروں افغان اپنی جان سے جائیں اور یہ ملک مزید تباہ کاریوں سے دو چار ہوتا رہے؟ ڈیورنڈ لائن پر پاکستان اور افغانستان کے مابین تنازعہ کا فائدہ اٹھاکر بھارت کشمیر کی مقامی تحریک کو دبانے کے لیے پاکستان کو اس خطے میں الجھانے کی کاوشیں جاری رکھے گا۔ پاک بھارت تعلقات اور کشمیر کا تنازعہ افغانستان سے متعلق ان کی پالیسیوں پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ خطے میں حقیقی امن صرف اس صورت میں قائم ہوگا جب یہ بنیادی اور غیر معمولی تنازعات حل جائیں کیے جائیں گے۔ 
(فاضل کالم نگار سیکورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

تازہ ترین خبریں