09:55 am
ایران‘ اسرائیل آمنے سامنے

ایران‘ اسرائیل آمنے سامنے

09:55 am

گزشتہ دنوںایران نے آبنائے ہرمزمیں جاری مشقوں کے دوران پہلی مرتبہ آبدوزسے کروز میزائل کاچلانے کاکامیاب تجربہ کیا ہے۔ عالمی پابندیوں کی وجہ سے زیادہ تراسلحہ اور ہتھیارملک میں ہی تیارکیے جارہے ہیںخطے میں ایرانی عسکری قوت میں اضافہ کی کوششیں جاری ہیں ۔ایرانی عسکری حکام کے مطابق دیگرایرانی آبدوزیں بھی کروزمیزائل لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔دریں اثناء خلیجی عرب ممالک کی مسلح افواج کی مشترکہ فوجی مشقیں ’’درع الجزیرہ‘‘ کاآغازہوگیاہے۔دیگرعرب ممالک سے کشیدگی کے باوجود قطر بھی ان مشقوں میں شریک ہے۔مشترکہ فوجی مشقیں دوہفتے جاری رہیں ۔ان مشقوں کامقصدجی سی سی ممالک کی افواج کی تربیت کے علاوہ اپنے اپنے تجربات کاتبادلہ بھی تھا۔مشقوں میں دیگرخلیجی ممالک کے ساتھ بحری،بری اورفضائی افواج بھی شامل تھیں۔مشقوں کی افتتاحی تقریب میں درع الجزیرہ کے کمانڈرجنرل عبداللہ القی عانی نے بتایاکہ خلیجی ممالک کی یہ مشترکہ فوجی مشقیں عرب اتحادکی غمازہیں۔
ادھرتہران میں ایران کے نائب صدراورحسن روحانی کے معاون خصوصی اسحاق جہانگیری نے اعتراف کیاہے کہ ایرانی نظام اپنی تاریخ کے مشکل ترین اورخطرناک دورسے گزر رہا ہے ۔ایرانی خبررساں ادارے کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امریکہ کی جانب سے ایران پرعائدکی جانے والی پابندیوں نے ایران کے اقتصادی شعبے کوبری طرح متاثرکیاہے۔امریکہ ایرانی عوام پرمسلسل دباؤ بڑھارہاہے ۔دریں اثناء روس نے ایران کے ساتھ باہمی جاری رکھنے کااعلان کیاہے۔روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریاز افاروڈنے کہاہے کہ تہران کے حوالے سے امریکی مؤقف موسمیاتی تبدیلی کی طرح مسلسل تبدیل ہوتا رہتاہے۔انہوں نے کہاکہ روسی کمپنیوں کوڈرانے کیلئے امریکہ کے حالیہ جاری اقدامات ناقابل قبول ہیں۔امریکہ ان کمپنیوں پرایران کے ساتھ تعاون کی وجہ سے ہی دباؤ ڈالناچاہتاہے لیکن روس اوراس کی کمپنیاں امریکی گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والی نہیں ہیں۔
ادھرسرائیلی فوج نے شام میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف )کا کہنا ہے کہ اس کا آپریشن قدس فورس کے خلاف ہے جو کہ ایرانی پاسدران انقلاب کا ایک یونٹ ہے۔اسرائیل نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں تاہم شام کے دارالحکومت دمشق کے ارد گرد حملوں کی اطلاعات ہیں۔دوسری جانب شام کی سرکاری نیوز ایجنسی صنعا کا کہنا ہے کہ ملک کے فضائی دفاع نے جنوب میں اسرائیل کے ایک فضائی حملے کو پسپا کر دیا ہے۔ آئی ڈی ایف کے مطابق  اس نے گولان کی پہاڑیوں پر داغے جانے والے ایک راکٹ کو راستے میں روک لیا۔ آئی ڈی ایف نے ایک ٹویٹ میں اپنا آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن  آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر)نے کہا ہے کہ اسرائیلی راکٹ شام کے دارالحکومت دمشق کے ا طراف کو نشانہ  بنا رہے ہیں۔ دمشق میں موجود عینی شاہدین نے اتوار کی رات بلند دھماکے سنے جانے کے بارے میں بات کی ہے۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں کچھ واضح نہیں ہے۔
یہ آپریشن اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے جس میں کہا گیا ہے گولان کی پہاڑیوں پر داغے جانے والے راکٹ کو ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے راستے میں روک لیا گیا، کے بعد شروع کیا گیا ہے۔دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے اتوار کو چاڈ کے دورے کے دوران تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا  ہم نے شام میں ایرانی مورچہ بندی کو نشانہ بنانے اور جو ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا اسے نقصان پہنچانے کی پالیسی بنائی ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل شام کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کو شاذو نادر ہی تسلیم کرتا ہے۔ ادھرنیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر راکٹ داغ کر حد پار کر دی ہے جبکہ ان کے مطابق ایران کی کارروائی کا مؤثر انداز میں جواب دیا گیا ہے۔   نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی ڈیفنس فورسز نے شام میں ایرانی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے پر اپنی سکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے حملے اور دفاع دونوں ہی کو بہتر انداز میں ناکام بنایا گیا ہے۔  نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایک بھی راکٹ اسرائیلی سرزمین پر نہیں گرا تاہم ایران کی جانب سے اس الزام کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی ردعمل سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ایران کے پاسدرانِ انقلاب نے گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں پر اس کی پوزیشنز پر 20 راکٹ داغے جس کے بعد اس کی سکیورٹی فورسز نے شام میں تقریبا تمام ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ راکٹ حملوں کی جوابی کارروائیوں میں ایران کے اسلحے کے ڈپو، لاجسٹک مراکز اور انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ وہ ایک طویل مہم پر ہیں اور ان کی پالیسی واضح ہے ہم ایران کو شام میں دفاعی طور پر مورچہ زن نہیں ہونے دیں گے۔ روس، جرمنی اور فرانس نے ایران اور اسرائیل سے پرامن رہنے کو کہا ہے جبکہ امرکہ کا کہنا ہے کہ اس غیر محتاط کارروائی کے نتائج کی مکمل ذمہ داری ایران پر ہے، اور اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل ہے۔دوسری جانب شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ شامی سکیورٹی فورسز کے ایئر ڈیفنس نے اسرائیلی جارحیت کی مزاحمت کرتے ہوئے اس کے بڑی تعداد میں میزائل مار گرائے ہیں۔ تاہم عسکری ذرائع نے سرکاری خبر رساں ایجنسی صنعا نیوز کو بتایا ہے کہ چند میزائل ایئر ڈیفنس کی بٹالینز، ریڈارز اور اسلحے کے ذخیروں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔

تازہ ترین خبریں