09:56 am
مودی سے مذاکرات ہوسکتے ہیں لیکن ڈاکوئوں سے نہیں

مودی سے مذاکرات ہوسکتے ہیں لیکن ڈاکوئوں سے نہیں

09:56 am

وزیراعظم پاکستان عمرا ن خان نے باجوڑ میں ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنوبی ایشیا میں قیام امن اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کی خاطر مودی سے بات چیت کرسکتے ہیں‘  لیکن ڈاکوئوں سے نہیں۔ ان کا اشارہ نواز شریف اور زرداری کی طرف تھا۔ دونوں نے اپنے دور اقتدار میں عوام کا پیسہ بے دریغ لوٹ کر اپنی تجوریوں کو بھرا ہے  اور ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت ملک کو معاشی طورپر کمزور کیا ہے۔ آج عمران خان کی حکومت کو جن اقتصادی مسائل کا سامنا ہے  اسکی سب سے بڑی وجہ وہ لوٹ کھسوٹ ہے جو ان دونوں نے اپنے دور اقتدار میں کی ہے‘ نیز ملک کو بے پناہ قرضوں میں جکڑ دیاہے جس سے نکلنے کے لئے موجودہ حکومت ہاتھ پائوں ماررہی ہے لیکن فی الحال اس سے نکلنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ اس لئے مملکت کے کاروبار کو چلانے کے لئے اور آئندہ کرپٹ سیاست دانوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ نواز شریف اور زرداری سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لایا جائے۔ نیز انہیں عبرتناک سزا ئیں بھی دی جائیں تاکہ کوئی دوسرا آئندہ اس قسم کی حرکتیں نہ کرسکے۔
 
 اس وقت نواز شریف حسب عادت دل کی بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے فرار ہونا چاہتے ہیں۔  پاکستان میں دل کے امراض کی اچھی سہولتیں میسر ہیں۔ کراچی میں دل کی بیماری کا سب سے بڑا اسپتال نیشنل کارڈیواسپتال عرصہ دراز سے قائم ہے جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ تجربہ کار ڈاکٹر موجود ہیں ۔ شب وروز دل کے مریضوں کا علاج کرتے رہتے ہیں، وہ کراچی آکر اپنا علاج کراسکتے ہیں‘ سندھ کی حکومت انہیں ہر قسم کی سہولتیں دینے کے لئے تیار ہے۔ لیکن وہ پاکستان میں موجود امراض قلب کی سہولتوں سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی بیماری کو سیاسی بیماری بناکر عوام کی ہمدردیاں سمیٹنا چاہتے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انہوںنے ملک کے خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے حالانکہ جس دن سے عمران خان مسنداقتدارپر براجمان ہوئے تھے۔ خزانہ تقریباً خالی تھا‘ حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال تھی جس سے نمٹنا اشد ضرورت تھا ورنہ ملک معاشی طورپر اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ حکومت نے دوست ممالک سے امداد لینے کا فیصلہ کیا تاکہ مملکت کو ناکام ریاست ہونے سے بچایا جاسکے۔ ان کی بروقت امداد سے ملک کے اقتصادی حالات آہستہ آہستہ بہتر ہورہے ہیں لیکن ہنوز معاشی خود انحصاری کے حصول کا راستہ بہت دور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت عوام کو کسی قسم کا ریلیف دینے کے سلسلے میں خاصی سوچ بچار سے کام لے رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں جب آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات طے پا جائیں گے تو یقیناً ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال میں تبدیلی وقوع پذیر ہوسکتی ہے۔تاہم پاکستان میں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے جس قسم کی کرپشن کو پھیلا کر مملکت کو کمزور کیاہے۔ اس کا حساب لینا بہت ضروری ہے۔ نواز شریف سے 300ارب روپے تو فوری طورپر  واپس لئے جاسکتے ہیں جس کاوزیراعظم نے اپنے انتخابی جلسوں میں بارہا ذکر کیا ہے۔ اس ہی طرح آصف علی زرداری سے لوٹی ہوئی رقومات واپس لی جائیں تاکہ آئندہ کسی بھی سیاست دان کو مملکت کے وسائل لوٹنے کا حوصلہ پیدا نہ ہوسکے۔
 زرداری اپنے کرپشن کو چھپانے کے لئے اپنے بیٹے بلاول زرداری کو حکومت اور مملکت کے خلاف الٹے سیدھے بیانات دلوا کر اس نوجوان کے لئے سیاسی راستے کے سفر کو مشکل بنارہے ہیں۔ دراصل زرداری فیملی کا قیام پاکستان کی تحریک سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے‘ ان کے دلوں میں تحریک پاکستان کا وہ درد یا احساس نہیں ہے جو ان کروڑوں لوگوں کے دلوں میں ہے جنہوںنے سب کچھ لٹا کر محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان کے قیام کو حقیقت کا روپ دیا ہے، ظاہر ہے نواز اور زرداری جیسے لوگوں کوپاکستان ایک پلیٹ میں رکھا ہوا ملا ہے‘ اس لئے انہوںنے سیاست کے ذریعہ ناجائز دولت سمٹنے کا آسان راستہ دریافت کرلیاہے لیکن کب تک؟ آخر وہ دن آہی گیا جب اسٹیبلیشمنٹ کو یہ احساس ہوگیاکہ پانی سر سے اونچا ہوگیاہے۔ 
نام نہاد جمہوریت کی آڑ میں عوام کو دھوکہ دیتے ہوئے باری باری اقتدار میں آنے والے یہ عناصر مملکت کے لئے دشمنوں کا کردار ادا کررہے ہیں ’’عوامی تحریک‘‘ چلانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن یہ گیڈر بھبکیاں کام نہیں آئیں گی۔ عمران خان ملکی سطح کے علاوہ ہر سطح پر خصوصیت کے ساتھ بیرونی دنیا میں اپنی بے پناہ مقبولیت کی بناء پرانتخابات جیتے ہیں جس کا ساری دنیا اعتراف کررہی ہے۔ چنانچہ انہوںنے باجوڑ میں جو کچھ بھی کہا ہے اس سے عوام کو کلی اتفاق ہے مودی پاکستان اور مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے اس کی منافقانہ  چالوں سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے ، لیکن وہ پاکستان کا کھلا دشمن ہے جبکہ نواز شریف اور زرداری پاکستان میں رہتے ہوئے پاکستان کا کھا تے ہوئے خفیہ طورپر ایسے کام کررہے ہیں جسکی وجہ سے مملکت کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے۔ اس لئے ان دونوں کے خلاف قانون کا شکنجہ سخت سے سخت ہورہاہے۔ یہ دونوں باہم ملکر پاکستان کی فوج کو بھی تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ (فی الحال جنگ کے خطرے کے باعث ان کا منہ بند ہے) بھارت کا یہ ایجنڈا ہے کہ کسی طرح عوام اور پاکستان کی فوج کے درمیان غلط فہمی پیدا کرکے انہیں ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑا کردیاجائے (مشرقی پاکستان کا فارمولا) چنانچہ نواز شریف نے جی ٹی روڈ پر ’’مجھے کیوں نکلا‘‘ کے تحت جو ریلیاں نکالی گئی تھیں، ان کا مقصد یہی تھا کہ عوام کو فوج کے خلاف ورغلا کر اسکے خلاف کھڑا کر دیاجائے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے، اس ہی طرح زرداری نے کہا تھا کہ ہم’’ اینٹ سے اینٹ بجادیں گے‘‘ لیکن وہ یہ کہہ کر کچھ عرصے کے لئے ملک سے فرار ہوگئے۔ اب یہ دونوں قانون کا سامنا کررہے ہیں۔
 اب یہ قانون کو اپنے ناجائز پیسے سے خرید نہیں سکتے ہیں‘ عوام کی اکثریت کی یہ خواہش ہے کہ ان سے ایک ایک پیسے کا حساب لیا جائے اس ہی مناسبت سے انہیں سزائیں بھی دی جائیں، تاکہ یہ دوسرے سیاست دانوں کے لئے عبرت کا نشان بن سکیں۔ پاکستان کے عوام اور حکومت ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کا حوصلہ اور طاقت بھی رکھتی ہے، سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف جو کچھ لکھا جارہاہے۔ اسکے ڈانڈے بھارت‘  اسرائیل اور افغانستان سے ملتے ہیں‘ پاکستان میں بیرونی ممالک کی خیرات اور بھیک پر چلنے والی بعض این جی اوز بھی’’ اس کار خیر‘‘ میں شامل ہیں ، لیکن پاکستان کے محب وطن پاکستانی ان کا موثر جواب دے کر ان کا شیطانی منہ بند کررہے ہیں۔
 بھارت سے ہمدردی رکھنے والے شاید یہ بھول گئے ہیں کہ بھارت پاکستان کو مزید نقصان پہنچانے کے لئے سب کچھ کرسکتاہے۔ خصوصیت کے ساتھ وہ اب پاکستان چین اقتصادی راہداری ( سی پیک) کے خلاف اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ اسکو ناکام بنانے پر تلا ہواہے لیکن انشا ء اللہ اسے کامیابی نہیں ہوگی، بہتر یہ ہے کہ بھارت خود ا اپنے ملک میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں پر نگاہ رکھے، ان سے نبردآزما ہونے کی کوشش کرے ناکہ پاکستان کے خلاف، ذراسوچئے۔ 

تازہ ترین خبریں