07:33 am
اسلام کا تمام ادیان‘ مسیحی و یہودی تہذیب کیلئے انسان دوست رویہ

اسلام کا تمام ادیان‘ مسیحی و یہودی تہذیب کیلئے انسان دوست رویہ

07:33 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
جب رسول اللہﷺ عمرہ کی ادائیگی کے لئے مدینہ سے اپنے صحابہ کرامؓ کے ہمراہ مکہ تشریف لے گئے تو مکہ والوں نے آپ کو  حملہ آور تصور کیا۔ چنانچہ انہوں نے جوابی جنگ کا ماحول پیدا کیا۔ رسول اللہﷺ کے داماد حضرت عثمانؓ کو ایلچی بنا کر مکہ میں بھیجا گیا تو ان کے قتل کی افواہ پھیل گئی اس کے جواب میں مسلمانوں کی صفوں میں قتل عثمان کا بدلہ لینے کے لئے  بیعت رضوان ہوئی اور مسلمانوں نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر جو بیعت کی زندگی اور موت کے لئے اسے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کرنا کہاگیا۔ اشتعال کی اس شدید ترین حالت میں جب پتہ چلا کہ حضرت عثمانؓ زندہ ہیں تو صلح کی بات چل پڑی اور جب صلح کی بات چیت ہو رہی تھی حضرت ابوبکرصدیقؓ اور کفار اور مشرکین مکہ کے نمائندے میں پھر شدید ترین تلخی ہوئی۔اس کے بعد ہی صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا جو بظاہر مسلمانوں کی شکست اور مشرکین مکہ کی سیاسی جیت سمجھا گیا مگر بعدازاں شکست کو لئے ہوئے یہی معاہدہ صلح حدیبیہ مسلمانوں کی عظیم ترین کامیابیوں کا راستہ بنا ہے مشرک قوم اور کافر قوم خواہ وہ کسی بھی خطے کی ہو اور جس سے مسلمانوں کی دشمنی بھی رہی ہو سے بھی سیاسی معاہدہ ہوسکتا ہے اور صلح حدیبیہ ہمارے لئے اس حوالے سے سنگ میل رویہ پیش کرتا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان تہذیب‘ دین اسلام حضرت محمد رسول اللہﷺ اور قرآن پاک بنیادی طور پر دوسری غیر مسلم اقوام سے جنگ و جدل اور تلوار زنی کا درس نہیں دیتا بلکہ دوستی‘ مفاہمت‘ بقائے باہمی  اور زندہ  رہو اور زندہ رہنے دو کا دوراندیش رویہ اور ماحول پیش کرتا ہے۔ 
 
ہمارے خیال میں آج کے تبدیل شدہ اور تلخ  عالمی ماحول میں مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ قرآن پاک اور حضرت محمد رسول اللہﷺ کی ذاتی زندگی کے مذکورہ بالا سچے واقعات کو پوری جرات سے غیر مسلم فیصلہ ساز حلقوں میں پیش کیا کریں تاکہ مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند غیر مسلم فیصلہ ساز حلقوں کی یکطرفہ یلغار کا راستہ روکنے میں مدد ملے۔
 امریکی دانشور سیموئیل ہیمنگٹن نے مسلمان مسیحی تہذیبی تصادم کا جو نظریہ پیش کر رکھا ہے وہ ہمارے خیال میں انتہا پسند عناصر کا سیاسی ایجنڈا ہے ۔ اگر ہمارے مسلمان اس امریکی انتہا پسندی ایجنڈے کے جواب میں بھی ایسا ہی یکطرفہ منفی رخ پیش کریں گے تو یقینا قرآن پاک کی سچی تعلیمات رسول اللہﷺ کی مکی اور مدنی زندگی کے ذاتی روئیے اور تعلیمات کے خلاف ہوگا۔
سیاسی امور میں مسلمانوں کے خلاف آج جو عالمی ماحول میں یک طرفہ جنگ مسلط ہے اس کا جواب سچے‘ انسان دوست قرآنی اور نبوی روئیے کو پیش کرنا ہے اور اس پر عمل کرنا ہے اور اسلام کی انسان دوستی کو پیش کرنا ہے بلکہ ہم دنیا بھر کے مسلمانوں سے بالعموم اور وہ مسلمان جو مسیحیوں اور یہودیوں سے شدید نفرت کی تبلغ کرتے ہیں بطور خاص ان سے ادب سے درخواست کریں گے کہ وہ رسول اللہﷺ کی ذاتی زندگی کا یہ پہلو غور سے دیکھیں کہ رسول اللہﷺ کے ساتھ بات چیت کے لئے جو یہودی علماء اور مسیحی علماء تشریف لاتے وہ مسجد نبوی میں ہی قیام کرتے اور اپنے اپنے دین کے مطابق مسجد نبوی میں ہی یہودی اور مسیحی عبادت کرتے تھے۔
 اسلام میں دوسرے ادیان کی عبادت گاہیں کس قدر محفوظ ہوسکتی ہیں؟ اس کا تذکرہ قرآن پاک پارہ 17سورۃ الحج کی آیت نمبر40میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ ترجمہ: وہ مظلوم لوگ جو اپنے گھروں سے صرف اس لئے نکال دئیے گئے اقتدار کی طاقت کے زور پر کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب کہتے تھے اور اگر اللہ تعالیٰ کچھ طاقتور گروہوںکے ہاتھوں ان کے مخالف دوسرے طاقتور گروہوں کے اقتدار کا خاتمہ نہ کراتا رہتا تو یقینا مسیحی عبادت گا ہیں یعنی گرجے‘ صومعے اور یہودی عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں یہ سب جن میں اللہ تعالیٰ  کا بہت زیادہ نام لیا جاتا ہے کبھی کے ڈھائے جاچکے ہوتے۔ اسی طرح  ہم نہایت ادب سے گزارش کریں گے کہ قرآن پاک سورۃ المائدہ پارہ 6کی آیت نمبر82کو غور سے پڑھنا نہایت ضروری ہے۔
ترجمہ: امر واقعہ کے طور پر آپ(ﷺ) مسلمانوں کے لئے دشمن ترین رویہ یہودیوں اور مشرکین کا پائیں گے تو دوسری طرف امر واقعہ یہ ہے کہ آپؐ مسلمانوں کے لئے دوست ترین رویہ نصاریٰ اور مسیحیوں کا پائیں گے کہ  ان میں علماء ہوتے ہیں اور راہب بھی اور یہ لوگ متکبر نہیںہوتے۔ اس آیت میں محض اظہار حقیقت کے طور پر یہودیوں اور مشرکین کی مسلمان دشمنی کا جہاں ذکر ہے وہاں مسلمان کے لئے واضح طور پر مسیحی دوستی کا ذکر بھی ہے۔
 

تازہ ترین خبریں