07:34 am
نظام خلافت کی روحانی برکات

نظام خلافت کی روحانی برکات

07:34 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 سورۃ نور میں مسلمانوں کوبشارت دی گئی کہ اے مسلمانو! تم اس راہ میں جو قربانیاں دے رہے ہو تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ زمین میں تمہیں خلافت عطا فرمائے گا ۔مکے میں مسلمانوں میں ایک طبقہ منافقین اور کچے پکے مسلمانوں کا بھی تھا۔آئے تو تھے اسلام کی خوبیوں کو دیکھ کر ۔ان کے دل نے گواہی دی کہ یہی حق ہے لیکن جب جان و مال کے پیش کرنے کے عملی تقاضے سامنے آئے تو پیچھے ہٹنا شروع کردیا۔یہاں سے ان میں مرض نفاق کا آغاز ہوگیا۔اللہ کا یہ وعدہ ان مسلمانوں سے تھا جو حقیقی معنوں میں مسلمان تھے اور جو عمل صالح میں پیش پیش تھے۔دین کی ساری جدوجہد ہی عمل صالح پر مبنی تھی۔غزوہ بدر میں کیل کانٹے سے لیس ایک ہزار کے لشکر کفار سے ٹکراگئے ۔ رسول اللہ ﷺ کے اشارے پر گردن کٹانے کے لئے تیار تھے۔ انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ خلافت ارضی کے مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ نے زمین پر تمکن ان کو بھی دیا تھا جو ان سے پہلے تھے۔بنی اسرائیل میں بھی پیغمبروں کو حکومت ملی ۔انہوں نے اللہ کے دین کو قائم کیا ۔خلافت مسلمانوں کو اس لئے عطا کی گئی تاکہ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے تاکہ انہیں تمکن عطا کرے۔دین تو پہلے بھی دیا گیا تھا جو وحی اور کتاب کی شکل میں تھا لیکن اب وہ دین عملاًقائم ہوگا ۔دین تو اپنا غلبہ چاہتا ہے ورنہ یہ تو یوٹوپیا ہوگیا جو کتاب میں لکھا ہوا ہو لیکن عملاً کہیں قائم نہیں۔پلیٹو کی کتاب ری پبلک تھی وہ خیالی جنت ہی ثابت ہوئی۔اس نے عادلانہ نظام کا جو تصور دیا تھا وہ دنیا میں کہیں قائم نہیں ہوا۔لیکن آسمانی وحی کے ذریعے اللہ نے دین کا جو تصور دیا ہے وہ واقعتا قائم ہوا ۔وہ صرف مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی جہاں حکمراں مسلمان ہوں اور قانون کسی اور کا چل رہا ہو۔
 
یہ تو آج کا تصور ہے کہ مسلمان حاکم اکثریت میں ہیں لیکن قانون اللہ کا نہیں بلکہ باطل قوتوں کا ہے۔اللہ تعالیٰ نے خوف کی حالت کو امن سے بدل دیا۔مدنی دور میں ہر طرف سے مسلمان خطرات کی زد میں تھے۔مکمل امن و امان قائم ہوکر رہا ۔اب جب نظام خلافت قائم ہوگا تو خوف کی موجودہ حالت مکمل امن و امان میں بدل جائے گا۔حضرت خباب بن ارت ؓ کو کفار نے ننگی پیٹھ دہکتے انگاروں پر لٹا دیا تھا اور وہ حضور ﷺ کے پاس شکوہ لے کر آئے تھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی اس پر آپ ﷺ نے خفگی کا اظہاکرتے ہوئے  فرمایا کہ تم سے پہلے جو مسلمان امتیں گزری ہیں ان کے لئے حالات اس سے بھی زیادہ خراب تھے۔پھر فرمایا کہ قسم ہے اللہ کی کہ ایک وقت آکر رہے گا جب مکہ سے صنعا تک ایک عورت تنہا سفر کرے گی اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا۔اور جب دین قائم ہوا تو ایسا عملاًہوا۔
یہ نظام خلافت کے دنیوی ثمرات ہیں۔مکمل امن و امان اسی وقت ملتا ہے جب عدل و انصاف ہو ،لوگوں کو ان کے حقوق مل رہے ہوں ،لوگ نفسیاتی اور ذہنی طور پر نارمل ہوں ۔پھر وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے لہٰذاجب نظام خلافت قائم ہوگا توبندگی صرف اللہ کی ہی ہوگی ۔شرک کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔جب تک یہ نظام قائم نہ ہو اور دنیا میں طاغوت کی حکمرانی ہوتوکامل بندگی ممکن نہیں ہوسکتی۔کامل بندگی تو اس وقت ممکن ہے جب نظام خلافت قائم ہو اور افراد بھی اپنی زندگی شریعت کے مطابق بسرکررہے ہوں۔جب عدالتوں میں فیصلے اللہ کے قانون کے مطابق ہوں۔جب ریاستی اور حکومتی امور بھی اس نظام کے تابع ہوں اورجو اس کے بعد بھی کفر کرے تو یہی لوگ فاسق ہیں۔نماز قائم کی جائے ، زکوٰۃ ادا کی جائے اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کی جائے منافقین تھے جو نمازیں تو پڑھ لیتے تھے لیکن جب دین کے تقاضے سامنے آتے  تو بہانے بناتے ۔رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے گریز کے لئے مختلف طریقے اختیار کرتے ۔ان کے لئے خلافت نہیں ہے۔
خلافت صرف نماز کے قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی تک ہی محدود نہیں بلکہ دین کو قائم کرنے کے ضمن میں بھی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی جائے گی۔ آپﷺ کا مشن نظام خلافت کا قیام ہے ۔اس مشن کی تکمیل کی جدوجہد میں بھی شریک ہونا پڑے گا۔تب اللہ کی رحمت کے مستحق ٹھہریں گے۔ہم ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ کافر اللہ کو زمین میں شکست دے سکتے ہیں۔دور نبوت میں سرزمین عرب پر قریش ، یہود اور مشرک جنگجوقبائل کی مخالفت کا سامنا تھا۔مزید اس وقت کی قیصر وکسریٰ کی سپر پاورز بھی مخالف تھیں۔لیکن یہ سب اللہ کو شکست نہیں دے سکتے تھے۔یہ اللہ کے قابو سے باہر نہیںتھے۔آج کے دور میں امریکہ ہے جو عالم کفر کا امام ہے۔اس کا ہمارے ساتھ جو رویہ ہے اس حوالے سے یہ شعر یاد آتا ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید    
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
لیکن ہم اپنی کمزوری کی وجہ سے ان کے سامنے بچھے ہوئے ہیں۔ہم ان کے خلاف بھلا کیسے اسٹینڈ لے سکتے ہیں۔ہم ان کی ذہنی اور عملی غلامی میں مبتلا ہیں۔لیکن ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔سورۃ نور کی ان آیات میں مسلمانوں کو خلافت کے ملنے کی بشارت دی گئی ہے۔آنحضورﷺ نے بشارت دی ہے کہ قیامت سے قبل کل روئے ارضی پر خلافت علیٰ منہاج النبوہ پھر قائم ہوگی ۔صحابہ کرامؓ کی قربانیوں کے نتیجے میںاسلام پچیس برس میں تین براعظموںتک پھیل چکا تھا لیکن اس کے بعد وہ سلسلہ آگے بڑھ نہ سکا  کیونکہ مسلمان ایمانی اعتبار سے کمزور ہوتے چلے گئے ۔حضور ﷺ کا مشن اس وقت مکمل ہوگا جب کل روئے ارضی پر خلافت قائم ہوگی۔ آپﷺ کی رسالت پوری نوع انسانی کے لئے تھی لہٰذاجب تک کل روئے ارضی پر اللہ کے دین کا غلبہ نہیں ہوتا، آپ کا مشن تشنۂ تکمیل رہے گا۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے پوری زمین کو سکیڑ دیا اور میں نے اس کے تمام مشارق و مغارب کو دیکھ لیا اور میری امت کی حکومت اس پوری زمین پر قائم ہوکر رہے گی جو مجھے دکھائی گئی۔ اس بشارت سے اور دیگر احادیث میں جو بشارتیں دی گئی ہیں ان سے واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا مشن پورا ہوکر رہے گا۔ہمیں سوچنا ہے کہ ہماری جدوجہد کا محور کل روئے زمین پر غلبۂ دین ہے یا باطل نظام کا تحفظ کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔ 

 

تازہ ترین خبریں