07:35 am
خدارا!اب یہ مذاق بندکریں

خدارا!اب یہ مذاق بندکریں

07:35 am

ہما ری قومی بے حسی اورچشم پوشی انتہا کوپہنچی ہوئی ہے ۔وقت کی پکارصدابصحراثابت ہو رہی  ہے۔کاش یہ صدا کسی گنبد میں دی گئی ہوتی،کم ازکم واپس تولوٹتی۔جہاں میں پوری قوت سے قوم کی مظلوم بیٹی عافیہ کانام لیکر پکارتاکہ تم کہاں ہو؟تو سوال کاجواب نہ ملتا،سوال توواپس آتا۔آئیے حساب لگاکردیکھیں کہ جس روزقوم کی اس مظلوم بیٹی کوجواپنے دومعصوم العمراورایک گود میں لپٹے بچوں کے ساتھ تھی،ہماری خفیہ ایجنسیوں کے مستعد اور سائے کی طرح پیچھا کر تے بے رحم ہاکس نے پوری درندگی اورسفاکی سے اغواکیاتوان دنوں کون کون مسند اقتدارپرمتمکن تھا۔  23جون2003کے بدنصیب دن پرویز مشرف صدر، ظفراللہ جمالی وزیراعظم ،فیصل صالح حیات وزیرداخلہ،خورشید محمود قصوری وزیرخارجہ تھے اورسید ضمیرجعفری کے فرزندارجمند جنرل احتشام ضمیر ایک اہم ترین قومی ایجنسی کے سربراہ تھے۔ان تمام اعلیٰ عہدیداروں کے علم کے بغیرایک پتہ بھی جنبش نہیں کر سکتا تھا۔ظفراللہ جمالی  اس تاریخ سے مزید ایک برس 26 جون2004 تک اپنے عہدہ جلیلہ پرفائز رہے۔
 
آج بھی اس ملک سے فاسق کمانڈوکی رخصتی کے بعدجمہوری اورعوامی حکومت کادعویٰ کرنے والے سابق صدرآصف علی زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی،حنا ربانی کھرسابق  وزیر خارجہ اور سابق وزیرداخلہ رحمان ملک یہ سب افرادبھی اس حقائق سے انکار نہیں کر سکتے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اوراس کے بچوں7سالہ احمد،5 سالہ مریم اور چندماہ کا سلمان کے اغوا حبس بیجا،اور امریکیوں سے قیمت کی سودے بازی اورحوالگی میں ملوث خفیہ ایجنسیوں کے کارپردازوں اورایوان اقتدار کے حاکموں میں ہونے وا لی ان کاروائیوں سے مکمل طورلاعلم ہیں۔شرم کامقام تویہ ہے کہ اس مظلوم اوربے گناہ خاتون کی وہ دردناک چیخیں جس نے بگرام ایئربیس کے درودیوار تک ہلاکررکھ دئیے،ان کی اذیت ناک ابتداتواسلام آباد سے ہوئی ہوگی،وہ یہاں کسی کوسنائی کیوں نہیں دیں؟ وہ  تمام خفیہ ایجنسیاں جنہوں نے عزت وطن کایہ معرکہ سرکیا،براہ راست وزیراعظم کوجوابدہ تھیںاوراگر وزیراعظم،وزیرداخلہ اور وزیرخارجہ کے اختیارات کی حدودآگ کے اس دریا کے پارنہیں جاسکتی تھی توبھی ان کوکسی حدتک اعتمادمیں ضرورلیاہوگا۔
فاسق کمانڈوکی رخصتی کے بعدنئی جمہوری حکومت کے دورمیں عافیہ کو افغانستان سے امریکہ لیجایاگیا اورعوامی حکومت کادعویٰ کرنے والی حکومت کو توفیق نہ ہوسکی کہ عافیہ کی بازیابی کامطالبہ کرتی۔اس سنگین واردات کابقدر علم ہونے کے باوجودان کے دلوں میں ایک بیٹی سے فطری محبت کاکوئی گداز پیدانہیں ہوا؟ذہنوں میں کوئی تلاطم اوردلوں میں کوئی دردپیدا نہیں ہوا؟کیاان کے دست وپا،قلب وبصارت اورنطق سماعت پرمکمل طورپرقفل پڑگئے تھے کہ زرداری کی جمہوری حکومت کے چاربرسوں میں کسی ایک موقع کی منا سبت سے کبھی ایک باربھی اس رازکومنکشف نہ کرسکے؟حالانکہ ریمنڈڈیوس کی گرفتاری کے موقع پرعافیہ کی رہائی کاایک بہترین موقع تھالیکن غلاموں کوہمت نہ ہوسکی کہ اپنے آقاؤں سے ایسی گزارش ہی کرسکتے۔اس پر امریکہ کی عدالت میں اس طرح مقدمہ چلایا گیاکہ تمام زمینی حقائق اوررپورٹس چیخ چیخ کرعافیہ کی مظلومیت کی دہائی دے رہی تھیں لیکن امریکہ کی عدالت نے حا لات کی بے رحم زنجیروں میں جکڑی کمزور،نحیف اورمظلوم عافیہ کوعدم ثبوت کے باوجود87سال کی قیدسنادی۔  
ڈاکٹرعا فیہ صدیقی صرف عصمت صدیقی کی ہی بیٹی تونہیں،وہ تواپنی ماں کے نام کی رعایت لفظی سے پا کستان کی عصمت کی بیٹی ہے۔ بیٹیاں،جوسب کی ایک جیسی ہوتی ہیں،  گڑیوں سے کھیلتی  ہوئی،تتلیوں کے پیچھے بھاگتی ہوئی ،باپ کے پیروں کی آہٹ پرلہراتے با لوں سے دوڑتی ہوئی،اس کے سینے سے لگ کردل میں اپنی بے لوث محبت اوراطاعت کی لازوال قندیلیں روشن کرتی  ہوئی،اپنی ننھی سی عمرمیں ہی دلہن سی لگتی ہوئی،اورہما رے ایمان کے حوالے سے والدین کے گھروں میں رسالت مآبﷺ کی مہمان کی حیثیت رکھتی ہوئی لیکن آج پابندِسلاسل ہونے کے باوجوداسے جنسی زیادتی کانشانہ بنادیا گیااوروہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلازندگی کے آخری سانس لے رہی ہے۔صدحیف کہ علمائے دین بھی اس واقعے پرمنہ میں خودغرضی کی گھنگھنیاں ڈالے بے حسی کا شکارہیں اورصد مبارک اورتحسین کے لائق ہیں ہماری وہ مجبوروبے کس کشمیری دختران ملت جنہوں نے اپنی ملی غیرت کامظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پرآ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا اورآج بہن آسیہ اندرابی خوددرندہ صفت بھارتی متعصب مودی کے حکم پربھارت کی سب سے بدترین جیل میں قیدتنہائی میں اپنی شدیدبیماری کابھی مقابلہ کررہی ہیں۔   
ساری پاکستانی قوم اب بجاطورپرمطا لبہ کرتی ہے کہ فاسق کمانڈو پرویزمشرف کے محاسبے کی فردجرائم میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی تباہ کرنے کاجرم ،پا کستان کی بیٹی کی عزت وتوقیرپامال کرنے کاجرم اورغیرملکی درندوں کے ہاتھوں بیچنے کاجرم سرفہرست رکھاجائے اور عدالت عظمیٰ میں ان تمام اہلکاروں پرمقدمات قائم کئے جا ئیں جنہوں نے اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات کی تعمیل میں ڈاکٹرعا فیہ صدیقی کودن دیہاڑے کراچی میں گلشن اقبال سے اپنے سفرپر جا تے ہوئے اغوا کیا،اسلام آباد کے کسی انٹروگیشن سنٹر کے عقوبت خا نے میں پہنچایااور افغانستان کے بگرام ایئربیس میں قائم امریکی جیل میں منتقل کرنے کے گناہ عظیم میں برابرکے شریک رہے ہیں۔مملکت پاکستان کاخواب دیکھنے والے علا مہ اقبال بھی اپنی قبرمیں تڑپ اٹھے ہوں گے کہ اس کے نا م سے منسوب گلشن سے اس کے دل کے پھول کے اس بے دردی سے ٹکڑے کردئیے گئے۔
یہ کیسی قومی غیرت ہے،ہما ری متعدداین جی اوز،حقوق انسا نی کے علمبردار،غیرملکی قیدیوں کے غمگسار کہاں سوئے ہوئے ہیں؟ شاید ڈاکٹرعافیہ صدیقی کیلئے کوئی آوازاٹھا نے،کوئی  احتجاجی تحریک اورریلی نکالنے میں کسی اقتصادی فائدے کی کوئی صورت نظرنہیں آرہی ہوگی۔وہ توہمسایہ ملک کے جا سوسوں اور دہشت گردوں کوسزائے موت کے باوجودرہا کروانے کیلئے اپنی تمام صلا حیتیں صرف کرکے واپسی کامحفوظ انتظام کرتے ہیں،جوہمیں جواب میں لا شوں کے تحا ئف دیتے ہیں۔ ہم امریکی  قیدیوں کواپنی جیلوں میں وی آئی پی سہو لتیں دیتے ہیں۔    ( جاری ہے )


برطانوی شہریت کے حامل قاتل کی سزائے موت معاف کرکے نہائت احترام سے واپس برطانیہ بھجواتے ہیں اورمہذب قوم ہونے پراصرارکرتے ہیں۔اگرایشین ہیومن رائٹس کمیشن،امریکی قیدی معظم بیگ کی کتاب کی اشاعت اورایوان رڈلی درست طورپرتصدیق نہ کرتے توشاید ہمیں خبرتک نہ ہوتی اورمعاملہ موجودہ صورت اختیارنہ کرتااورعافیہ کانام و نشان تک مٹادیاگیاہوتا۔اسی تشہیرکے نتیجے میں مظلوم اور بے بس ڈاکٹرعافیہ صدیقی کوامریکہ منتقل کیا گیا جس پرحد درجہ واہیات اورمضحکہ خیزالزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ۔
صرف اس تصورسے کلیجہ منہ کوآتاہے اورآنکھیں فرط غم سے خون کادریابن گئی ہیں کہ اپنے خلاف ہونے والی غلیظ سا زش سے بے خبر،عفت مآب خاتون اپنے تین معصوم العمربچوں سمیت درندہ نماانسانوں کے حوا لے کردی گئی۔اس نے اپنے ہم وطن اغواکاروں کوغیرت وطن کااحساس تودلایاہوگا،بارباراپنا جرم تو پوچھا ہوگا، ا پنی بے گناہی کی قسمیں بھی توکھائیں ہوں گی،ا پنی عزت ونا موس کاواسطہ بھی دیاہوگا،ایک خوفزدہ،سہمی ہوئی نازک سی عا فیہ نے اپنے لبا س اوربدن پرلپٹی حیاکی چادرنوچنے پردہشت زدگی میں فریادتوکی ہوگی۔وہ خونخوار،بے مہرآنکھوں کی تاب نہ لا کرچلائی توہوگی،اس نے اشک بھری آنکھوں سے بہن،بیٹی ہونے کاواسطہ بھی دیا ہوگا۔کیااس وقت کی آمریت اورآج تک کی جمہوریت کے الا ؤمیں پگھلے ہوئے سیسے نے سب کی سماعتیں سلب کرلی ہیں ؟کسی کی بصارت میں اپنی بیٹی،اپنی جوان بہن کاعکس نہیں ابھراکہ ان میں کوئی عا فیہ صدیقی کی جگہ ہوتی توان کے جگرچھلنی نہ ہوتے؟دل خون نہ ہو تا؟ کیاوہ اس کی جگرپاش چیخیں برداشت کرلیتے؟
عقوبت خا نے کی تاریک راتوں میں تنہائی کاعذاب اورنت نئی اذیتوں نے کیسے اس کی جسمانی توانائیاں کشید کی ہوں گی؟ان کاحساب ہے کسی کے پاس؟اور پھرجب اسے اپنے جگرگوشوں کے بغیراسلام آبادکی کربلا سے پا بجولاں یزیدی دمشق جیسے بگرام ایئربیس پرزینب بنت علی کی سنت اداکرتے ہوئے منتقل کیا جارہاتھااوراس کی آہیں سسکیوں میں اور سسکیاں چیخوں میں تبدیل ہورہی تھیں توکسی کے ضمیرنے ملامت نہیں کی؟کسی کی آنکھ سے ندامت کاکوئی آنسونہیں گرا؟خوف اوردہشت سے ایک نازک سی عورت کے لرزتے ہوئے جسم کی حالت کسی دل میں کوئی گدازپیدانہ کرسکی؟کیاانسان ایساسنگدل بھی ہوسکتا ہے؟ یوسف رضاگیلانی،پرویز مشرف اوران کے بعدآج تک حکومت میں برسراقتدار آنے والے کئی افراد اپنے والد گرا می کے نام کے ساتھ سیدبھی لکھتے ہیں،یہ تمام حضرات یوم آخرت کو سیدالانبیا کاسامناکیسے کریں گے جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی سیدالانبیا کے سا ئے میں بیٹھی اپنے تمام مظالم کاذمہ داران کوٹھہرادے گی؟کبھی ایسابھی سوچاہے کہ ایساسوچنے کی مہلت بھی چھین لی گئی ہے؟چنگیراورہلاکوکے مظالم ہوں یاکربلا کی ظلمتیں،تا ریخ نویس اس خوف کابجاطورپر اظہارکرتے ہیں کہ شاید آئندہ آنے والی نسلیں ان کو دروغ گوکہیں گی لیکن عافیہ صدیقی کوپیش آنے وا لے شرمناک اورکرب انگیزحالات قرون وسطیٰ کی تاریخ کی تصدیق کرتے ہیں۔
آج جب وطن کے ہرباضمیرانسان کی آنکھیں ظلم کی اس داستان پراشکبارہیں،اس شرمناک داستان کاورق ورق ذرائع ابلاغ میں بکھراپڑاہے۔اس درجہ کی عملی بازگشت جس کایہ مطالبہ کرتی ہے،اقتدارکے ایوانوں سے برآمدنہیں ہو رہی۔کیا وہ تمام مضا مین،کالم،ادارئیے اوراخباری بیانات کوئی جذباتی افسانہ طرازی ہے جواہل قلم ہما ری آگاہی کیلئے سپرد قلم کررہے ہیں!یقین کیجئے یہ ملک کی تاریخ کاایک شرمناک باب مرتب ہورہاہے اوراس کومرتب کرنے والے قابل ستائش و احترام ہیں،جن کی تحریروں نے اہل وطن کی رگوں میں حمیت کاخون دوڑآیاہے۔قابل مبارکبادہیں دخترانِ ملت اوربہت سے اہل قلم ،جن کے مضا مین عالم اسلام کوخواب غفلت سے جگانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن دوسری طرف عافیہ کی رہائی کاکریڈٹ اس موجودہ حکومت کودینے کی جھوٹی دہائی دی جارہی ہے جس کاوزیرخارجہ بمشکل فوزیہ صدیقی سے اسلام آبادمیں ملنے کیلئے چندلمحوں میں ان کو مایوس کردیتاہے۔خدارا!اب یہ مذاق بند کریں  اورموجودہ حکومت کوسفارتی ذرائع سے بڑھ کرحکومتی سطح پراس اہم ترین مسئلے کواقوام متحدہ کے توسط سے اٹھانے کابندوبست کرناچاہئے تاکہ جلد ازجلد ڈاکٹر عا فیہ صدیقی کوپنجہ فرعون سے رہا کروایا جائے۔



 

تازہ ترین خبریں