07:35 am
زبردستی تبدیلی مذہب کا جھوٹا پروپیگنڈہ

زبردستی تبدیلی مذہب کا جھوٹا پروپیگنڈہ

07:35 am

ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا ہو‘ سوشل میڈیا ہو یا سیاسی جماعتیں جھوٹ بولنے کا چلن عام ہوچکا ہے‘ گزشتہ روز کراچی سے ایک لبرل دوست کا فون آیا اور اس نے  ہنستے ہوئے شکوہ کیا کہآپ لنڈے کے لبرلز اور سیکولرز پر تو ناحق غصہ کرتے ہیں۔ حالانکہ آج کل سوشل میڈیا پر اقلیتوں کے حقوق کی آڑ میں پاکستانی مسلمانوں کی پشت پر تازیانے وہ برساتے ہیں کہ جن کا خاندانی پس منظر مذہبی رہا ہے... ان میں سے کسی کا باپ شیخ الحدیث اور کسی کا مولوی ہے اور یہ خود بھی دینی مدرسوں کی روٹیاں توڑ چکے ہیں...آج بھی ان کے دوستوں میں اکثریت مولویوں کی ہے اور ایسی چیز کو وہ کیش کروا کر مغربی این جی اوز سے پیسے بٹور رہے ہیں‘ اس خاکسار نے اپنے لبرل دوست سے عرض کیا کہ بھائی اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اگر کسی شیخ الحدیث‘ مولوی یا مفتی کا بیٹا گمراہ ہو کر صیہونی طاقتوں کا ایجنٹ بن جائے تو اس میں اس شیخ الحدیث‘  ‘مولوی یا مفتی کا کیا قصور ہے؟ حقیقت کبھی جھوٹ بولنے یا جھوٹ لکھنے سے چھپ نہیں سکتی۔
 
سندھ کے شہر ڈہرکی سے دو ہندو لڑکیاں غائب ہوئیں تو ان کے والدین نے اغواء کا پرچہ درج کروا دیا‘  یہاں تک بھی درست تھا کیونکہ اغواء ہندو کا ہو یا مسلمان کا اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی مگر پھر میڈیا میں گھسے ہوئے ’’مودی مائنڈ سیٹ‘‘ نے جبری مسلمان بنانے کی رٹ لگا کر ہندو اقلیت پر مظالم ڈھائے جانے کی دیومالائی کہانیاں تراشنا شروع کر دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سے لے کر فواد چوہدری اور وزیراعظم تک نے اس حوالے سے احکامات جاری کر دئیے‘ بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ٹویٹ کیا‘ اس سارے منظر نامے میں خیر کا پہلو یہ برآمد ہوا کہ سندھ کی جن دو بہنوں کے اغواء کا دعویٰ کرکے جبری مسلمان بنانے کا سیاپا ڈال کر پاکستان کو بدنام کیا جارہا تھا وہ دونوں بہنیں میڈیا کے سامنے آئیں اور پوری جرات کے ساتھ کہا کہ انہیں نہ تو اغوا کیا گیا اور نہ ہی جبری مسلمان بنایا گیا بلکہ وہ اپنی خوشی اور مرضی کے ساتھ مسلمان ہوئیں اور اپنی پسند کے ساتھ نکاح کیے۔
 اس واقعہ کو بنیاد بنا کر اپنا بچپن مدرسے میں گزارنے اور مدرسوں کی روٹیاں توڑنے والے جن بعض لکھاریوں نے جبری تبدیلی مذہب کا ڈھونڈورا پیٹ کر پاکستان کے روشن چہرے کو داغدار کرنے کی کوشش کی انہیں چاہیے تھا کہ حقیقت حال واضح ہونے کے بعد پاکستانی مسلمان اور وطن  عزیز کو بدنام کرنے والی اپنی پوسٹوں پر معافی مانگتے اور دنیا کو بتاتے کہ پاکستان میں جبری مذہب کی تبدیلی کا آج تک کوئی ایک واقعہ بھی پیش نہیں آیا‘ہاں البتہ بھارت میں ہندو توا کی تحریک عروج پر ہے۔ چودہ سو چالیس سال ہونے کو ہیں اسلام کو دنیا میں آئے ہوئے ان چودہ سو سالوں میں کوئی ایک بھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا کہ جب مسلمانوں نے کسی کافر کو تلوار کے زور پر یا گن پوائنٹ پر زبردستی کلمہ پڑھانے کی کوئی کوشش کی ہو؟ کیونکہ  مسلمان جانتے ہیں کہ کسی کو زور زبردستی مسلمان بنانے کی اجازت اسلام نے دی ہی نہیں ہے۔
پاکستان میں جبری تبدیلی مذہب کا آج تک کوئی ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا...کون نہیں جانتا کہ ہندوئوں میں ذات پات کی تفریق بہت زیادہ ہے؟ کسے معلوم نہیں ہے کہ کتھری‘ کولہی اور دلت وغیرہ کی غیرانسانی تقسیم کی وجہ سے ہندو نوجوان نسل کو جو مشکلات درپیش ہیںسندھ میں ہندوئوں کے جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے اور پھر یہ کہناکہ صرف سندھ میں ہندو لڑکیاں ہی اسلام قبول کیوں کرتی ہیں؟ لڑکے کیوں نہیں کرتے؟ موم بتی مافیا کے دانش چوروں کے تعصب کی انتہا ہے حالانکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ سندھ میں ہندو خاندانون کے خاندان بھی مسلمان ہوئے ہیں ذاتی  طور پر ان خاندانوں سے واقف ہوں کہ جن ہندو خاندانوں میں باپ‘ ماں بیٹوں اور بیٹیوں نے مل کر اسلام قبول کیا‘ یہ خاکسار‘ میرپور خاص سندھڑی پیر جو گوٹھ‘ کھپرو‘ تھرپارکر‘ ٹندو محمد خان‘ گولارچی‘ بدین‘ ٹھٹھہ‘ سجاول حیدر آباد‘ ماتلی‘ ٹنڈو یاگو سے لے  ساکرو ‘ نواب شاہ‘ محراب پور‘ سکھر‘ لاڑکانہ اور کشمور تک کے متعدد بار سفر کر چکا ہے اور ان میں سے بعض شہر ایسے ہیں کہ جہاں ہندو بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے ہندو مظالم کے خلاف سندھ میں مذہبی جماعتوں نے جب بھی احتجاج کیا‘ جذباتی نوجوانوں کے ردعمل سے ہندو آبادی‘ ہندو مقامات اور ہندو عبادت گاہوں کو بچانے کے لئے حفاظت کے فرائض مسلمان نوجوان رضاکارانہ طور پر سرانجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ 
میری سندھ میں رہائش پذیر ہندو برادری کے کئی افراد سے شنائی ہے انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ سندھ میں مسلمانوں نے انہیںجبری تبدیلی مذہب پر مجبور کیا ہو؟ بلکہ ہندو دوست تو یہ بتاتے ہیں کہ متعدد مسلمان  دریا دلی اور سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے معاشی مسائل کو حل کرنے میں ان کی  مدد کرتے ہیں۔
سندھ میں زبردستی مذہب تبدیل کروانے کے دعوے کا زمینی حقائق سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ واسطہ؟ ہاں البتہ بدنام زمانہ موم بتی مافیا کے ڈالر خور خرکار! اس نعرے کو جان بوجھ کر پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے ہتھیار کے طور پر ضرور استعمال کرتے ہیں۔
رینکل کماری نام کی ہندو لڑکی کہ جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام فریال بی بی رکھا تھا۔امریکی کانگرس کے اراکین سے لے کر وائس آف امریکہ اور بی بی سی تک نے طوفان کھڑا کر دیا تھا کہ سندھ میں ہندو لڑکیوں کو جبراً مسلمان بنایا جارہا تھا۔دجالی میڈیا  نے بھی اس جھوٹ کو خوب پروان چڑھایا۔ بالآخر فریال بی بی سپریم کورٹ میں  پیش ہوئی اور اس نے معزز عدالت کو بتایا کہ اس نے  زور زبردستی نہیں بلکہ اپنی مرضی سے  بہ رضا و رغبت  اسلام قبول کیا ہے اور اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے۔ اگر دجالی میڈیا کے اینکرز اور اینکرنیوں میں حیا کا مادہ ہوتا تو وہ آئندہ پاکستان کی بدنامی کا باعث بننے والے اس مودی پروپیگنڈے سے توبہ تائب ہو جاتے‘ مگر افسوس کہ جب ڈالر خوری ہی ’’ایمان‘‘ بن جائے تو حیا و غیرت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔


 

تازہ ترین خبریں