07:36 am
ہاتھی کے د انت کھانے کے اور دکھانے کے اور…!

ہاتھی کے د انت کھانے کے اور دکھانے کے اور…!

07:36 am

گزشتہ دنوں بھارتی عدالت عظمیٰ نے سمجھوتا ایکسپریس کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ سمجھوتا ایکسپریس کو 18 فروری2007ء کو آگ لگائی گئی تھی جس میں نہ صرف پاکستانی مسلمان کی اکثریت تھی بلکہ اس ٹرین میں متعدد دیگر مذاہب کے افراد بھی سوار تھے۔ اس سانحہ کو گزرے تقریباً بارہ برس بیت گئے۔ اس المیہ کو جنم دینے والے چار مجرموں کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔ اس حادثے کے سب سے بڑے مجرم سوامی آسیم آنند نے اقبال جرم بھی کرلیا تھا۔یہ سارے دہشت گرد موجودہ حکومتی جماعت بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جماعت یہی بی جے پی تھی اب ان کی حکومت مرکز میں ہے۔ حکمران جماعت اور ہندو تفتیش کاروں نے اس کے بعد خود عدالت نے اس معاملے کو طول دیا۔ اب جب بارہ برس بعد فیصلہ سنایا گیا تو تمام بیانات اور تفتیشی ثبوتوں کے باوجود سوامی آسیم آنند اور اس کے شریک جرم تین دیگر مجرموں کو عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کردیا ہے۔
 
 بھارتی عدلیہ جس کے بڑے چرچے سنا کرتے تھے۔ وہ اس فیصلے سے برہنہ ہوکر سامنے آگئی۔ اس فیصلے میں جل کر خاکستر ہونے والوں کے لواحقین کو انصاف کی جگہ سوختہ لاشیں ہی ملیں۔ اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ بھارتی عدلیہ قطعی غیر جانبدار نہیں ہے۔ اس نے بھی ہندو توا کو اہمیت دی اور انصاف سے روگردانی کی۔ جب مجرم اقبال جرم کرچکے تھے اس کے باوجود کیوں عدم ثبوت کی بنا پر مجرموں کو بری کیا گیا؟ بھارت خود کو سیکولر ملک کہتا ہے اس کے باوجود ہندو مجرموں کو سزا نہیں دے سکا۔ جب کہ نیوزی لینڈ جس میں گزشتہ جمعہ کو ہی ایک دہشت گرد نے مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے پچاس افراد کو شہید اور متعدد افراد کو زخمی کردیا۔ وہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ایک فیصد بھی نہیں، لیکن اس کے باوجود نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا اور مسلمانوں کی دلجوئی کا ہر طرح سے اہتمام بھی کیا۔ دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایک خاتون وزیر اعظم نے اس حادثے سے دنیا کوباخبر کیا اور فوری طور پر اپنے قانون میں بھی رد و بدل کردیا تاکہ آئندہ ایسا واقعہ نہ ہوسکے۔
 اس کے مقابلے میں بھارت میں مسلم آبادی کا تناسب تقریباً بارہ فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ وہاں مسلمانوں کے ساتھ جو رویہ اپنایا جا رہا ہے اسے دیکھ کر حیرت اور دکھ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس سمجھوتہ ایکسپریس کے فیصلہ نے تو بھارتی عدالتی نظام کی قلعی کھول دی ہے۔ نریندر مودی کے سیکولر بھارت میں عدلیہ کا یہ فیصلہ انصاف کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے۔ 
پاکستانی وزارت خارجہ پریشان ہے کہ وہ بھارتی عدالت کے یک طرفہ فیصلہ کے بعد ان بیالیس پاکستانیوں کے جو اس ریل گاڑی میں شہید کردیے گئے کے خاندانوں کو کیا جواب دے۔ انہیں کیسے مطمئن کیاجائے اس سانحہ کے الزام میں بی جے پی کے کارکنان سوامی آسیم آنند، سنیل جوشی، لوکیش شرما، سندیپ ڈانگے، رام چندر اکالا، جنید چودھری، کمال چوہان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سمجھوتہ ایکسپریس کا حادثہ بھارتی انتظامیہ کی جانبدار اور پولیس کی شرمناک کوتاہی اور استغاثہ کی چالبازیوں، گواہوں پر دبائو ڈال کر انہیں منحرف کرایا گیا اور عدالت کو گمراہ کیا گیا۔ بھارت نے تب ہی حسب عادت سارا ملبہ سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا تھا۔ نریندر مودی کے راج نے بھارتی انتظامی اداروں کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ فی الحال بھارت میں مودی راج ہے جسے اگر سول مارشل لاء کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ ملزمان کی بریت پر حکومت پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاجی مراسلہ دے دیا ہے۔
بھارتی حکمرانوں اور خصوصاً عدلیہ پر حیرانی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب بھارت کے طول و عرض میں انتخابات ہونے والے ہیں ہر طرف الیکشن کی گہما گہمی ہے، جب نریندر مودی جی کی جماعت بی جے پی کو ہر طرف سے ہر قسم کے ووٹوں کی بے انتہا ضرورت ہے، ایسے موقع پر اس فیصلے سے مسلم ووٹ متاثر ہوسکتے ہیں، کیونکہ مسلمانوں کا ایک اور مقدمہ جو مودی سے جڑا ہوا ہے، وہ ہے بابری مسجد کا جو ایک طویل عرصے سے عدالتوں میں پڑا سڑ رہا ہے۔ اس کا بھی کچھ ایسا ہی حشر ہونے والا ہوگا۔ اگر مودی سرکار دوبارہ حکومت میں آتی ہے تو بابری مسجد کا فیصلہ بھی اس طرح یکطرفہ آجائے گا اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنائے جانے کا فیصلہ صادر کردیا جائے گا۔ 
بھارتی عاقبت نااندیش حکمران مسمانوں کو تر نوالہ سمجھ رہے ہیں۔ بھارت کے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے آئے دن ہندو مسلم فسادات برپا کیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی گائے کی آڑ لے کر مسلمانوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔ یہ ظلم کی انتہا ہے، حالانکہ خود ہندو سیٹھ گائے کے گوشت کا بڑا بیوپار کر رہے ہیں، تمام دنیا میں خصوصاً عرب امارات میں سینکڑوں ٹن گائے کا گوشت مسلم ناموں سے بیچ رہے ہیں۔ ان کو کوئی کچھ نہیں کہتا حالانکہ ان گوشت کی فیکٹریوں میں ہزاروں ہندو کام کر رہے ہیں۔ لیکن کہیں سے گوروماتا کے حمایتی آواز نہیں اٹھاتے۔ کیونکہ یہ ہندو سیٹھ آواز اٹھانے والوں کا منہ نوٹوں سے بند کردیتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر ہندو گرو اور ان کے چیلے چانٹے ہیں۔ عام ہندو کو تو تب ہی پتہ چلتا ہے جب یہ انتہا پسند کسی مسلمان کو قتل کرانا چاہتے ہیں تاکہ علاقے میں فساد پھیلے جو اگر بڑھ کر ملک گیر حیثیت اختیار کرلے تو پھر ان کے تو وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔ پانچوں انگلیاں ہی گھی میں نہیں جاتیں بلکہ سر بھی گھی کی کڑاہی میں چلا جاتا ہے۔
 یہ ہندو پنڈت، مہاتما اور اسی قسم کے مذہبی کاریگر اپنا رنگ جمانے کے لیے ہندوں کو اکسا اکسا کر مسلمانوں کو گائے کی بے حرمتی اور گوشت خوری کا الزام لگا کر جان سے مار ڈالتے ہیں۔ ان آنکھوں اور عقل کے اندھوں کو یہ نظر نہیں آتا کہ ہر روز کئی سو گائیوں کو جو ان کی مذہبی ماتا ہے یہ قصائی ہلاک کرکے ان کا گوشت اور چمڑا بیچ کر دام کھرے کر رہے ہیں۔ بھارتی عدلیہ کے حالیہ فیصلے نے ثابت کردیا کہ بھارت میں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔ مسلمان ہر طرح سے زیر عتاب ہیں۔ کشمیرکے مسلمان جو آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں انہیں دبانے کچلنے کے لیے لاکھوں ہندو فوج کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ کشمیر میں توڑے جانے والے مظالم سے کشمیر میں فائدہ ہونہ ہو اس کا اثر دیگر بھارتی علاقوں پر ضرور پڑ رہا ہے۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دیکھانے کے اور‘ اللہ مسلمانوں کی ہر طرف ہر طرح سے حفاظت فرمائے۔


 

تازہ ترین خبریں