07:37 am
نریندرمودی کے لہجے میں تبدیلی!

نریندرمودی کے لہجے میں تبدیلی!

07:37 am

٭مودی کے لہجے میں تبدیلی،بلاول کا لہجہ بدل گیاO وزیراعلیٰ سندھ نیب اسلام آباد کے روبرو پیشO علیمہ خان کی دولت واپس لائی جائے، بختاورزرداری۔ 13کروڑ کی ہیروئن سمگل کرنے والی عورت گرفتارOہندو لڑکیوں کا مبینہ اغوا مسئلہ بن گیاO سعودی شہزادہ ولید کا نیوزی لینڈ کے شہداء کے ورثاء کے لئے 10 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان ۔
 
٭میڈیا اورسماجی حلقوں میں اس وقت گھوٹکی کی دو ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا کا معاملہ نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔ اس معاملہ کو بھارت میں بھی اچھالاجارہا ہے۔ بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج نے باقاعدہ جواب طلبی کی ہے۔ لڑکیو ںکا بیان ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے مگر ان کے والدین یہ بات تسلیم نہیں کر رہے۔ ایک اہم بات سامنے آئی ہے کہ یہ کم عمر بچیاں ہیں۔ یہ بات ہندو، مسلم، مسیحی اور دوسری قوم کے لئے یکساں اہمیت کی حامل ہے۔ اس عمر میں کسی بچے خاص طور پر بچیوں میں کسی مذہب، آئین یا قانون کا کوئی شعور نہیں ہوتا۔ کچی عمر میں طوفانی جذبات کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع نہیں دیتے۔ ایسے واقعات میں بیشتر وجہ غربت ہوتی ہے۔ بچیاں جوان ہونے کی عمر میں آتی ہیں تو والدین کی شدید غربت کے باعث انہیں اچھے انداز میں رخصتی دکھائی نہیں دیتی، انہیں لوگ شادی کا جھانسہ دے کر آسانی سے ورغلا لیتے ہیں اور وہ گھر سے فرار ہو جاتی ہیں۔ مسئلہ محض ہندو بچیوں کا نہیں۔ میں حال ہی میں ایک نہایت غریب مسلمان خاندان کی دوبچیوں کے یکے بعد دیگرے گھر سے فرار ہونے کے واقعہ سے واقف ہوں۔ ان لڑکیوں کی عمر میں 14,13 سال سے زیادہ نہیں تھی۔ وہ محلے میں گھروں میں صفائی وغیرہ کا کام کرتی تھیں، وقفہ وقفہ سے ورغلائے جانے پرمحلے کے نوجوانوں کے ساتھ گھر سے فرار ہو گئیں۔ ماں باپ روتے رہ گئے، مگر پھر خاموش ہو گئے۔ دوسرا مسئلہ غیر مسلم بچیوں کے اسلام قبول کرنے کا ہے۔ اس پر میڈیا میں باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے اور مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اسلام بہت عظیم مذہب ہے، اس کے دائرہ میں داخل ہونا بہت بڑی سعادت ہے مگر اسلام کی تفصیل اور شعائر سے قطعی ناآشنا کم عمر لڑکیوں کا صرف گھر سے بھاگنے اور محض شادی کے لئے اسلام قبول کرنے کا اعلان اس عظیم مذہب کی حرمت کے منافی ہے۔ بالغ شخص پورے شعور اور سوچ سمجھ کر اسلام قبول کر لے تو یہ مسرت بخش بات ہے مگر ہر قسم کی دینی، سماجی علوم سے بے خبر لڑکیوں کو اسلام کے نام پر ورغلانا کسی طرح بھی قابل قبول نہیں! ملک کے قانون کے تحت کم عمری میں شادی ویسے ہی غیر قانونی قرار پاتی ہے۔ بھارتی وزیرخارجہ نے محض پاکستان دشمنی میں جواب دہی کا بیان دیا ہے ورنہ بھارت میں تو پیدا ہوتے ہی غریب بچیوں کی قیمت لگ جاتی ہے، وہاں کم عمر بچیوں کے گھروں سے بھاگنے اور پھر فروخت ہونے کے روزانہ ان گنت واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا حکومت اور مذہبی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
٭پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بات کو تبدیلی قرار دیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے یوم پاکستان پر محبت اور مل جل کر عوام کے مسائل حل کرنے کا جو پیغام بھیجا ہے وہ بھارتی حکومت کے رویہ میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ وزیرخارجہ کا یہ بیان محض ایک رسمی سفارتی بات ہے ورنہ جس روز مودی کا یہ پیغام آیا تھا، وزیرخارجہ اسی روز بھارتی وزیرخارجہ سشما کا پاکستان کے بارے میں زہریلا بیان بھی پڑھ لیتے تو حقیقت واضح ہو جاتی! سانپ کو جتنا مرضی دودھ پلائو، وہ ڈنک مارنے سے کبھی باز نہیں آئے گا۔
٭ایک لہجہ پاکستان میں بھی بدلا ہے۔ برخوردار بلاول زرداری نے تین روز قبل پاکستان میں دہشتگردوں کے تحفظ کے بارے میں سنسنی خیز بیان دے کر طوفان کھڑا کر دیا۔ اس پر خود پیپلزپارٹی کے بزرگوں نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ مجھے بلاول کا ایک تازہ بیان پڑھ کر حیرت آمیز مسرت ہو رہی ہے۔ بلاول نے سیاست میں آتے وقت نعرہ لگایا تھا کہ ’’مرسوں، مرسوں، سندھ نہ ڈیسو ں‘‘ گزشتہ اس کا نیا خوش گوار نعرے سامنے آیا ہے کہ ’’مَرسوں، مَرسوں، پاکستان نہ ڈے سوں۔‘‘ میں اس نعرے کی کھلے دل سے تحسین کرتا ہوں۔
  بالآخر برخوردار کو سمجھ میں یہ بات آ گئی ہے کہ ہماری ساری سیاست، ثقافت، ہر قسم کی مدہبی اور سماجی زندگی کا تحفظ صرف اور صرف پاکستان کی بقا اور سالمیت کے تحفظ سے وابستہ ہے۔ آپس میں جیسے بھی اختلافات ہوں مگر ملک کی سلامتی اور سالمیت کو ہر حالت میں مقدم رکھنا ضروری ہے۔ میں پاکستان کی سلامتی کے تحفظ کے لئے بلاول کے حالیہ بیان کا خوش دلانہ خیر مقدم کرتا ہوں۔ اسے آگے بڑھنے کے لئے یہی سوچ اور رویہ اپنانا ہو گا۔ نوجوانی کا ایک مثبت پہلو یہ ہوتا ہے کہ اس عمر میں سمجھانے جانے پر رویہ اور لہجہ بدل جاتا ہے۔ مگر پھرراولپنڈی کی ہر وقت آگ اگلنے والی لال حویلی کا کیا کروں! ہر وقت آتش فشانی!۔ اس عمر میں پرانی عادتیں راسخ ہو چکی ہوتی ہیں، سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
٭بی بی بختاور زرداری (عمر29 سال) نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ہمشیرہ علیمہ خان (عمر 52 سال) کی دبئی اور امریکہ میں موجود دولت واپس لائیں! علیمہ خان کی امریکہ میںبھی کروڑوں (45 کروڑ) کی جائیداد سامنے آئی ہے۔ نیویارک سے ملحق نیو جرسی کے علاقہ ہوبوکن "HOBOKEN" میں ایک چار منزلہ عمارت ہے۔ اس کے نیچے ایک مارکیٹ اور اوپر اعلیٰ درجے کے تین فلیٹس ہیں۔ علیمہ خان کا اس عمارت میں 75 فیصد حصہ ہے۔ انہوں نے دبئی میں 2008ء میں خریدا جانے والا برج خلیفہ کے ساتھ ملحقہ، انتہائی مہنگے علاقے والا شاہانہ فلیٹ 2012 میں فروخت کر دیا تھا۔ اس فلیٹ کی ملکیت پوشیدہ رکھی گئی بعد میں تسلیم کرنا پڑا۔ اس پر سپریم کورٹ نے دو کروڑ 95 لاکھ روپے ٹیکس کا جرمانہ کر دیا جو قسطوں میں ادا ہو رہا ہے، مگر بہت پہلے خریدی جانے والی امریکہ والی جائیداد کا طویل عرصہ تک کوئی ذکر نہ کیا۔ بالآخر 2018ء میں اسے بھی ظاہر کرنا پڑا۔ علیمہ خان کا دنیا بھر میں ٹیکسٹائل کی مصنوعات اور سلائی مشینوں کا وسیع کاروبار ہے اسے ان کی کمپنی ’’کاٹ کام سورسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘ چلا رہی ہے اس کاروبار کی نگرانی علیمہ خان کے شوہر سہیل امیر خان اور بیٹا شاہ ریز خان کر رہے ہیں۔
٭سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس عظمت سعید نے اس بات کا سخت نوٹس لیا ہے کہ ’’تھرکول پراجیکٹ‘‘ پر اب تک 106 ارب (ایک کھرب چھ ارب) روپے خرچ کئے جا چکے ہیں مگر تھر علاقے کے لاکھوں عوام اب بھی پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ فاضل جج اس بات پر برہم ہو گئے کہ بار بار طلب کرنے کے باوجود حکومت سندھ نے ابھی تک اس پراجیکٹ کا ریکارڈ پیش نہیں کیا۔ عدالت نے سندھ کے وزیراعلیٰ سے براہ راست ریکارڈ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
٭قارئین کرام! ایک دلچسپ مسئلہ پیش آ گیا ہے۔ ایک قاری نے پوچھا ہے کہ کوا، اُلو، ہُدہُد، خرگوش، لنگور، گِدھ، مچھر، بھیڑیا، جھینگر وغیرہ کی مونث کیا بنتی ہے؟ جب کہ دوسری طرف چیل، بُلبل، فاختہ، مینا، مرغابی، ابابیل، مکھی، چھپکلی وغیرہ کا مذکر کیا ہے؟ یہ دلچسپ سوال ہے۔ عام طور پر گدھی کا مذکر گدھا بنتا ہے مگر بلبل کا مذکربُلبلا نہیں بن سکتا اس طرح چیل کا مذکر چیلا نہیں بنتا۔! محترم قاری نے پوچھا ہے کہ جانوروں کی تذکیر وتانیث طے کرنے کا فارمولا کیا ہے؟ مجھے یہ فارمولا معلوم نہیں، شائد قارئین بتا سکیں۔
٭کریلے280 روپے کلو۔۔۔پھر بھی خاموشی؟
 

تازہ ترین خبریں