08:29 am
  عقل سے پیدل

عقل سے پیدل

08:29 am

 عقل مند انسان بات کرنے سے پہلے موقع محل ضرور دیکھتا ہے۔ سیاسی قائدین کو تو حد درجہ احتیاط برتنی چاہیے ۔ بیان بازی کے معاملے میں ہمارے سیاستدان خاصے بے احتیاط واقع ہوئے ہیں ۔ بے احتیاط ہی نہیں بلکہ بے عقل بھی۔ سیاسی مخالفین کے ساتھ زبان درازیاں تو کوئی نئی بات نہیں ۔ ہر جماعت کے پاس ایسے عادی بیان باز موجود ہیں جو اشارہ پاتے ہی زبان کی قینچی سے مخالفین کا تیا پانچہ کر دیتے ہیں اور جواباً اپنی قیادت کے بخیے بھی ادھڑواتے رہتے ہیں۔ مقام افسوس یہ ہے کہ اپنے تئیں قومی سطح کے لیڈر کہلانے والے بھی اہم قومی معاملات پر بلا سوچے سمجھے جو منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے جو تازہ فرمودات تنقید کی زد میں ہیں ان پر ہر صاحب عقل تشویش میں مبتلا ہے۔ موصوف جیسے تیسے اپنی جماعت کے سربراہ تو بن چکے ہیں اور موروثی سیاست کی برکت سے قومی اسمبلی میں بھی پہنچ گئے ہیں لیکن تا حال اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا متاثر کن اظہار کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں ۔ چند گھسے پٹے بیانات ، چٹ پٹے ٹویٹ ، بھاڑے کے لکھاریوں کی رٹائی تقریروں اور بھٹو خاندان کے مصائب کے تذکرے کے علاوہ موصوف کے پلے کچھ بھی نہیں۔ اکثر بیانات اور تقاریر جس رنگ میں رنگی ہوتی ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جناب کے گرد ان لوگوں کا گھیرا ہے جو مغرب سے درآمدہ افکار پر اندھا اعتقاد رکھتے ہیں ۔ 
 
ماضی میں موصوف نے جوشِ خطابت میں اقلیتی برادری کے فرد کو ملک کا صدر مملکت بنانے کی خواہش ظاہر کر دی ۔ لوگوں نے یاد دلایا کہ ان کے نانا جان ذوالفقار علی بھٹو کے زیر قیادت تشکیل پانے والے جس آئین کا کریڈٹ پی پی پی لیتے نہیں تھکتی اُس آئین کے تحت کوئی غیر مسلم صدر مملکت نہیں بن سکتا ۔ بعض حضرات نے ترنت مشورہ دیا کہ دیر کس بات کی ہے آج ہی اپنی پارٹی کا سربراہ کسی غیر مسلم کو بنا کے اقلیتوں سے یکجہتی کا عملی مظاہرہ کر دکھائیں ۔ تا حال نو آموز چیئر مین اس مشورے پر عمل سے قاصر ہیں ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ اقلیتوں سے ہمدردی کا دکھاوا اس لیے تھا کہ مغربی دنیا اور میڈیا میں لبرل ہونے کا تاثر قائم کر کے نمبر بڑھائے جائیں۔
 آزاد کشمیر میں خطاب فرماتے ہوئے جناب نے بڑھک ماری کہ لواں گے لواں گے پورا کشمیر لواں گے ۔ تاحال جناب نے یہ نہیں بتایا کہ پورا کشمیر لینے کے لیے وہ کیا حکمت عملی اختیار کریں گے ؟ ظاہر ہے بھاڑے کے لکھاریوں نے جو لکھ کے رٹا دیا وہی چیئر مین صاحب نے جلسے میں سنا دیا ۔ غالباً آزاد کشمیر کے جلسوں میں ہی بلاول نے بڑے میاں صاحب پر یہ نعرے لگوا کر رکیک حملہ کیا تھا کہ جو مودی کا یار ہے غدار ہے غدار ہے۔ ایسے بیانات کی طویل فہرست مرتب ہو سکتی ہے کہ جن پر ایک نگاہ ڈال کے موصوف کی سیاسی سوچ میں پایا جانے والا تضاد بے نقاب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ان بیانات کی تفصیل پر وقت ضائع کیے بغیر تازہ بیان پر نگاہ ڈال لیتے ہیں ۔ موصوف کو کالعدم تنظیموں کے خلاف حالیہ حکومتی اقدامات پر اعتراض ہے۔ بطور اپوزیشن رہنما اعتراض کرنا اُن کا حق ہے لیکن اس حق کے استعمال کے لیے جو الفاظ انہوں نے استعمال کیے وہ لغو اور قابل اعتراض ہیں۔ بیان پر تنقید کرنے والے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ حکومت پر کالعدم تنظیموں کے افراد کو حراست کی آڑ میں بھارتی طیاروں سے بچانے کا بھونڈہ الزام عائد کر کے بلاول بھٹو کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟ حالیہ سرحدی کشیدگی اور بھارت کی ننگی جارحیت کے تناظر میں یہ بیان بے حد معنی خیز ہے۔ 
 پی پی پی کی قیادت اس بیان کے سیاق و سباق کو قوم پر واضح کرے۔ فیشن کے طور پر کالعدم تنظیموں کے خلاف آگ اگلنا اور مغربی دنیا کو خوش کرنے کے لیے اپنی مذہبی اقدار کا مذاق اڑانا کسی قومی سطح کے قائد کو زیب نہیں دیتا ۔ ایک سیاسی پارٹی کے قائد کو یہ اندازہ ہونا چاہیے کہ اس کے بیان دشمن ملک کس انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔ بلاول کے متنازعہ بیان کو بھارتی اور پاکستان دشمن میڈیا پر ملنے والی پذیرائی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ موصوف نے یا تو بلا سوچے سمجھے بیان داغ دیا یا پھر حسب معمول بیان رٹانے والوں نے کر تب دکھایا اور وہ کچھ کہلوادیا جو کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بلاول پی پی پی کے پانچ سالہ عہد حکومت میں کالعدم تنظیموں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر کوئی روشنی کیوں نہیں ڈالتے ؟ نوآموز چیئر مین اور ان کے کہنہ مشق عمر رسیدہ سیاسی مشیر کالعدم تنظیموں کا سر سری تذکرہ کرنے کے بجائے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے یہ بتائیں کہ وہ کس تنظیم کے خلاف کیا اقدامات کر نا چاہتے ہیں ؟ کیا پی پی پی کے قیادت کے پاس ان تنظیموں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت ہیں ؟ 
 کیا چیئرمین بلاول یا اُن کے سیاسی چیلے ملکی عدالتوں میں اُن تنظیموں کے خلاف چارہ جوئی کے لیے فریق بننے کو تیار ہیں ؟ سلامتی کونسل میں اگر کسی تنظیم کے خلاف پابندی کا معاملہ بھارت کی وجہ سے زیر غور ہے تو اس پر ریاست پاکستان کا بھی ایک موقف ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ اگر دنیا کے کچھ ملک اپنے مفادات کی وجہ سے بھارتی موقف کی پشت پناہی کر رہے ہیں تو چین جیسا ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے کسی فرد یا تنظیم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی ۔ سفارتی محاذ پر پی پی پی اور نون لیگ کی گذشتہ دس سال کی ناقص کارکردگی نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ غیر ملکی درآمدہ خیالات کی قوالی کرنے اور عقل سے پیدل رٹے رٹائے بیانات بلا سوچے سمجھے پڑھنے سے بہتر ہے چیئرمین بلاول اہم قومی معاملات پر معقول افراد سے مشاورت کر لیا کریں۔ 


 

تازہ ترین خبریں