08:30 am
اللہ کے بندوں کے پسندیدہ اوصاف

اللہ کے بندوں کے پسندیدہ اوصاف

08:30 am

قرآن نے جن صفات کے حامل مومنین کو عبادالرحمٰن کا نام دیا ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں ان کی صفات کیا ہیں ۔ ’’اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی اور نرمی کے ساتھ چلتے ہیں‘‘    
 
رحمن کے بندے ،یعنی اللہ کے پسندیدہ بندے، جو کچھ اضافی صفات کے حامل ہوتے ہیں اور ان صفات میں سے پہلی صفت یہ ہے کہ وہ تکبر وغرور نہیں کرتے بلکہ عجز، انکساری اور تواضع کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ کچھ کر لیا تو اب گردن اکڑی ہوئی ہے اور سینہ تان لیا ہے ۔ نہیں بلکہ اگر خیر کی توفیق ہوتی بھی ہے تو وہ اس کو اللہ کا احسان سمجھ کر اللہ کے آگے مزید جھک جاتے ہیں ۔ ’’اور جب ان سے مخاطب ہوتے ہیں جاہل لوگ تو وہ ان کو سلام کہہ دیتے ہیں۔‘‘
جاہل عربی زبان میں ایسے لوگوںکو کہا جاتا جو مشتعل مزاج ہوں،فوراً جذباتی ہوجائیں یا تھوڑی سی بات پر جھگڑا شروع کردیں ۔اللہ کے پسندیدہ بندے ایسے لوگوں کو سلام کہہ کر الگ ہو جاتے ہیں ۔ ایک طرز عمل یہ بھی ہوتا ہے کہ کہیںجھگڑا ہورہاہے تو فوراً ہی اس کے اندر گھس کر حصہ لیناشروع کر دیا یاکوئی تماشا لگا ہوا ہے تو وہاں پہنچ جانا لیکن اللہ کے پسندیدہ بندے ایسا نہیں کرتے بلکہ بڑے باعزت طریقوں سے الگ ہوجاتے ہیں۔’’اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور سجدے  اور قیام کرتے ہوئے۔‘‘
نماز فرض ہے اور فرض کو چھوڑنے سے بندہ صرف ثواب سے ہی محروم نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے ہاں گناہ کبیرہ کا مرتکب بھی ٹھہرتا ہے ۔ لہٰذاجیسے سورۃ المومنون میں بیان ہوا کہ بندۂ مومن کے بنیادی اوصاف میں یہ شامل ہے کہ وہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کی بروقت اور جماعت کے ساتھ ادائیگی کا اہتمام کرتا ہے ۔لیکن عبادالرحمٰن یعنی اللہ کے پسندیدہ بندوں کا یہ وصف ہے کہ وہ فرض نماز کی ادائیگی کے بعد اپنی راتیں بھی سجدہ و قیام میں گزارتے ہیں۔ جیسے آنحضور ﷺاور صحابہ کرامؓ کا معمول تھا کہ وہ قیام اللیل کا اہتمام کرتے تھے جسے ہم نماز تہجد کہتے ہیں۔ تہجدمیںاگر آپ نے اُٹھ کر چھ یا آٹھ رکعت پڑھ لیں تو اس کا بھی اپنا فائدہ ہے لیکن اصل مطلوب یہ ہے کہ قیام میں زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھا جائے ۔ جیسے آنحضور ﷺ کا ایک واقعہ ملتا ہے کہ ایک رکعت میں آپؐ نے سورۃ البقرۃ ، آل عمران،النساء پڑھی  ہیں۔چنانچہ یہ عبادالرحمن کا اضافی وصف ہے کہ وہ فرض نماز کی ادائیگی کے بعد قیام اللیل کا اہتمام بھی کرتے ہیں ۔ ’’اور (اس کے باوجود) وہ لوگ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! عذابِ جہنم کو ہم سے پھیر دے‘ یقینا اس کا عذاب چمٹ جانے والی شے ہے۔‘‘
’’ یقینا وہ بہت ُبری جگہ ہے مستقل ٹھکانے کے لیے بھی اور عارضی قیام کے لیے بھی۔‘‘
یعنی اپنی راتیں اللہ کے حضور جاگتے ہوئے گزارنے کے بعد بھی انہیں یہ احساس ہر گز نہیں ہوتا کہ ہمارا مقام اللہ کے ہاں بڑا اونچا ہے یا ہم جنت کے وارث ہیں بلکہ وہ پھربھی خشیت الٰہی سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور اس احساس سے ڈرتے اور کانپتے رہتے ہیںکہ کہیں ہم سے کوئی خطا نہ ہوجائے۔رب کا کوئی حکم ہم سے رہ نہ جائے۔ چنانچہ وہ ہر وقت تشویش میں ہوتے ہیںاور دعا کرتے رہتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ ’’اور وہ لوگ کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ (ان کا معاملہ) اس کے بین بین معتدل ہوتا ہے۔‘‘
یہ وہی اوصاف ہیں جو ایک بہت ہی سمجھدار اور سنجیدہ انسان میں ہونے چاہییں ۔ یعنی لغویات سے پرہیز کرنا ، جاہلوں سے الجھ کر اپنا وقت اور طبیعت خراب کرنے کی بجائے خوش اسلوبی سے علیحدہ ہو جانا ۔چنانچہ اسی سمجھداری اور میچورٹی کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ بندہ جب خرچ کرے تو نہ زیادہ اسراف کرے اور نہ ہی بخل سے کام لے بلکہ اعتدال سے خرچ کرے اور یہی اللہ کے پسندیدہ بندوں کا شیوا ہے ۔
اس کے بعد اس رکوع میں کبیرہ گناہوںکا ذکر آرہا ہے اور اسی کے ذیل میں ایک بہت اہم مضمون آیاہے اور وہ ہے توبہ کا مضمون جو آگے آرہا ہے۔  ’’اور وہ لوگ جو نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو ‘‘ ’’اور نہ ہی قتل کرتے ہیں کسی جان کو جس کو اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے مگر حق کے ساتھ ‘اور نہ ہی کبھی وہ زنا کرتے ہیں‘‘ ’’اور جو کوئی بھی یہ کام کرے گا وہ اس کی سزا کو حاصل کر کے رہے گا۔‘‘ ’’قیامت کے دن اُس کا عذاب دو گنا کر دیا جائے گا اور وہ اس میں رہے گا ہمیشہ ہمیش ذلیل ہو کر۔‘‘ یہاں ایک تو بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کر دیا گیا اور وہ ہیں شرک کرنا ،ناحق کسی کو قتل کردینااور زنا۔        ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں