08:31 am
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلے

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلے

08:31 am

اللہ تبارک وتعالیٰ مسلمانوں کاحامی وناصر ہو آج مسلمان عالمی طور پر اپنی نااتفاقی اور کلیسا کی سازش کاشکار ہو کررہ گئے ہیں۔ آج پھر کسی صلاح الدین  ایوبی کی اسلام اور مسلم امہ کوشدیدضرورت ہے 
 
کلیسا آج تک صلیبی جنگوں کے زخم چاٹ رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یورپ نے ہمیشہ جارح کا کردار ادا کیا ہے، جبکہ مسلمان سلاطین اور قائدین کا رویہ ہمیشہ مدافعانہ رہا۔ وہ ہمیشہ کلیسائی متحدہ قوت جو جارحیت میں پہل کرتی تھی‘ کے سامنے ڈٹ جانے پر مجبور ہوجاتے تھے۔ ان صلیبی جنگوں کا علمبردار فرانس رہا ہے۔ دراصل شام اور فلسطین کے علاقے عیسائی دنیا کے لیے بڑی اہمیت و وقعت رکھتے ہیں، تمام کلیسائی اپنے گناہ بخشوانے اور تزکیہ نفس کے لیے بیت المقدس کی زیارت کو اپنی عبادت کا اہم ترین جزو مانتے ہیں، گو کہ سلجوقی ترک بادشاہ نے اہل کلیسا کو ملکی قوانین کا احترم و پاسداری کرتے ہوئے انہیں زیارت و عبادت کی اجازت دے دی تھی لیکن وہ اپنی باطنی شرارتوں سے باز نہیں آتے تھے۔ راستے کی بستیوں میں اپنا رنگ دکھانے چلے جاتے تھے۔ اس کے باوجود اہل کلیسا نے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و عناد کی آگ لگائی جو آج تک بھڑک رہی ہے کیونکہ اہل کلیسا نے اپنے مقدس مذہبی مقامات کو مسلمانوں سے آزاد کرانے کو اپنا مذہبی فریضہ بنا لیا۔ پوپ اربن ثانی نے کہا تھا کہ جس طرح بھی ہو مسلمانوں سے بیت المقدس کو آزاد کرائو۔ یہ ہماری مقدس ترین سر زمین ہے۔ اس سر زمین کے بارے میں تورات میں آیا ہے کہ اس مقدس سر زمین میں دودھ اور شہد کی نہریں جاری ہیں۔ بیت المقدس حاصل کرنے کے لیے  ہجری عیسوی کو اہل کلیسا نے مشترکہ طور پر پہلا صلیبی حملہ کیا جس کے نتیجہ میں شام اور فلسطین میں چار آزاد عیسائی ریاستیں قائم ہوئیں۔ بیت المقدس، انطاکیہ، طرابلس، الرہا۔ اس پہلی صلیبی جنگ میں یورپ کے مختلف ممالک کی مسلح زائرین کی جماعتوں نے بھی شرکت کی تھی۔ مقصد مسلمانوں کو شکست دے کر ان کے علاقوں پر قبضہ حاصل کرنا مطلوب تھا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صلیبی جنگوں سے عیسائی و یورپ نے ہمیشہ جارحیت کی ہے۔
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں دہشت گردی کی جو واردات ہوئی اس نے سفید فام کلیسائی نظریات کو طشت ازبام کردیا ہے۔ انتہا پسندی اور سفاکی کا جو مظاہرہ اس ہیبت ناک واردات کے ذریعے کیا گیا اس سے کلیسا کی سفاکی اور دہشت ناکی اور مسلمانوں پر ہمیشہ دہشت گرد ہونے کا الزام عائد کرنے والے روز بروز برہنہ ہو رہے ہیں۔ حیرت انگیز سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان چاہے وہ بظاہر ہی مسلمان ہو یعنی چہرے پر داڑھی سجی ہو تو وہ اگر اپنے حلیے سے انہیں مشکوک نظر آتا ہے تو دہشت گرد کا الزام لگا کر اسے گرفتار کر لیتے ہیں یا پھر سر عام گولی کا نشانہ بنا کر قصہ ہی تمام کردیتے ہیں ڈاکٹر عافیہ کاجرم اتناتھا کہ وہ ناصرف مسلمان ہے بلکہ وہ  جوہری توانائی سے بھی واقف ہے انھیں  مجرم قرار دے کرقید کردیاگیاہے۔ یورپ میں نسل پرستی اور تشدد اور انتقام کی ایک نئی لہر جنم لے رہی ہے۔ اس میں چن چن کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس تحریک کو اسلام فوبیا کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہ انتہائی خوف ناک صورت حال ہے کہ مسلمانوں پر جگہ جگہ اور مسلم ممالک میں پے در پے مسلسل بحران پیدا کر کے مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ عراق، یمن، شام، افغانستان تو مسلسل ان کے نشانے پر ہیں جہاں  کلیسائی ایمان کے مطابق مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ مسلمان ممالک کو جنگ لڑواکر ان کی بقا کے نام پر اپنا اسلحہ فروخت کر رہے ہیں۔ دراصل یہ سارا کھیل مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتقام کا جذبہ رکھنے والے کلیسا کے تابعدار افراد کے ذریعے کرایا جا رہا ہے۔ کوئی یورپی یا کلیسائی حکومت اس کو روکنے کا کوئی انتظام نہیں کر رہی اگر یہی دہشت گردی جو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ہوئی اگر اس میں اللہ نہ کرے کوئی مسلمان شامل ہوتا یا یہ سارا خون خرابہ کسی مسلمان نے کیا ہوتا تو ساری کلیسائی دنیا مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی۔ مسلمانوں کو تو انہوں نے پہلے ہی دہشت گرد مان رکھا ہے۔
 اتنی شدید خون ریزی کے باوجود کلیسائی دہشت گرد کو صرف قاتل کا عنوان دیا گیا ہے کیونکہ کوئی کلیسائی دہشت گرد کیسے ہوسکتا ہے؟ دہشت گرد تو مسلمان ہی ہیں جو اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے، اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے کلیسائی عالمی دہشت گردوں کو روکنے کے لیے ہتھیار اٹھاتا ہے لیکن وہ پھر بھی دہشت گرد کہلاتا ہے۔ پچاس مسلمانوں کو قتل اور تقریباً اتنے ہی افراد کو شدید زخمی کرنے والا دہشت گرد نہیں قاتل ہے۔ یورپ اور تمام کلیسائی ممالک میں فاشسٹ نظریات بہت تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں بے گناہ مسلمان شہریوں کو شہید کردیا گیا ہے۔ سفاک دہشت گرد برنیکلن ٹیرنٹ کو اندیشہ ہے کہ ذہنی مریض ثابت کر کے چھوڑ دیا جائے گا۔ یا ذہنی امراض کے کسی اسپتال میں آرام کرانے کے لیے داخل کرا دیا جائے گا۔ یورپ اور امریکہ کی مسلمانوں کے بارے میں دوغلی پالیسی رہی ہے۔ مسلمان اگر ان کی مکھی بھی مارے تو دہشت گرد اور وہ خود مسلمانوں کا قتل عام کردیں تو اپنے عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے دلائل و جواز سامنے لے آئیں گے۔ برنیکلن ٹیرنٹ سفید فام نسل پرستوں کا نمائندہ ہے جن کا مقصد مسلمانوں کو خوف زدہ کر کے وہاں سے نکالنا مطلوب ہے۔ یہ نسل پرست دراصل تمام رنگ دار نسلوں اور خصوصا ًمسلمانوں سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ ان کے نظریات کے مطابق کے مطابق یورپ اور وہ تمام ممالک جہاں جہاں سفید فام اکثریت میں ہیں وہاں صرف اور صرف سفید فام لوگوں کو رہنے کا حق ہے۔ یہ نسل پرست مافیا ہے جو اپنے خیالات کو تمام رنگ دار اقوام پر لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ دراصل یہ سارا فساد مذہبی انتہا پسندی سے جڑا ہوا ہے کیونکہ کلیسا آج تک اپنی صلیبی شکستوں کو نہیں بھول پا رہا۔ تمام کلیسائوں  کا یہ مشترکہ فیصلہ ہے کہ دنیا پر صرف نبی اسرائیل ہی اعلی ترین قوم ہے صرف اسے ہی حکمرانی کا حق ہے باقی تمام اقوام ان کی غلام اور ما تحت ہے۔ اسی نظریے کے تحت یہ نسل پرست یا قوم پرست مسلمانوں کے خون سے جگہ جگہ اپنے ہاتھ رنگنے سے باز نہیں آرہے ان کا بس نہیں چل رہا کہ وہ مسلمانوں کو کچا ہی چبا جائیں۔ یہی وجہ ہے تمام دنیا میں مسلمان اپنی نا اتفاقی اور اختلافات کے باعث جگہ جگہ ہزیمت اٹھانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اگر آج بھی تمام عالم کے مسلمان ایک پرچم تلے جمع ہوجائیں تو تمام غیر مسلم دنیا کی ہوا اکھڑ جائے۔ اللہ تعالیٰ تمام شہدا کے درجات بلند کرے اور تمام عالم اسلام کی حفاظت کرے اور مسلمانوں کو متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ 
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لیکرتابہ خاک کاشغر

 

تازہ ترین خبریں