08:31 am
یورپ پر انتہا پسندی کے تاریک سائے چھا رہے ہیں

یورپ پر انتہا پسندی کے تاریک سائے چھا رہے ہیں

08:31 am

اب یہ حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میںہولناک حملوں میں پچاس نمازیوں کو شہید کرنے والا آسڑیلوی برینٹن  ٹارنیٹ فرانس میں اسلام دشمن تحریک سے متاثر ہوا تھا ۔ ٹارنیٹ نے مساجد پر حملہ سے پہلے جو طویل منشور انٹرنیٹ پر شائع کیا تھا اس میں اس نے کہا تھا کہ دو سال پہلے جب وہ فرانس گیا تھا تو اسے اس بات پر سخت حیرت ہوئی تھی کہ فرانس نے ساٹھ لاکھ مسلمانوں کو کس طرح اپنے ہاں بسا رکھا ہے جو مغربی یورپ میں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے۔ اس مسئلہ پر ٹارنیٹ کی فرانس کے دائیں بازو کے انتہا پسندوں سے بات چیت ہوئی اور اس پر اتفاق ہوا کہ مسلمان ، فرانس اور یور پ کے دوسرے ملکوں میں چھاتے جارہے ہیں اس کا حل مسلمانوں کی شرح پیدائش  میں اضافے پر قابو پا کر حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ٹارنیٹ کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں لازمی ہے کہ شرح پیدائش بدلی جائے۔ ٹارنیٹ کا کہنا تھا کہ سفید فام یورپی شہریوں کی جگہ باہر سے آکر بسنے والے مسلمان لے رہے ہیں جو بے تحاشا بچے پیدا کررہے ہیں اور یہ مغربی تہذیب کے لئے خطرہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹارنیٹ نے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے مساجدکو حملہ کا نشانہ بنایا تھا  اور در اصل فرانس‘ برطانیہ، جرمنی اور اٹلی میں سر اٹھاتے ہوئے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کا یہی نعرہ ہے کہ باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں کی وجہ سے یورپی معاشرہ کی بقا کو خطرہ ہے۔ 
 
یورپی ممالک میں انٹیلی جنس ادارے کرائسٹ چرچ کے سانحہ سے بہت پہلے سے دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کے بارے میں خبردار کر رہے تھے کہ یہ مسلم شدت پسندوں اور مسلمانوں کی امیگریشن کی آڑ میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں اور ان کی کارروائیاں ، اتنی ہی خطرناک ہیں جتنی کہ مسلم شدت پسندوں کی کارروائیاں ۔ انٹیلی جنس اداروں کا کہنا تھا کہ انہیں در اصل دو معنی شدت پسندی کا سامنا ہے ۔ انٹیلی جنس اداروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران دائیں بازو کے اسلام دشمن جرائم اور دہشت گردتشدد میںزبردست اضافہ ہوا ہے خاص طور پر داعش کے حملوں کے بعد ۔ ان کے اعدادوشمار کے مطابق پچھلے پانچ سال میں دائیں بازو کے جرائم میں  فیصد اضافہ ہوا ہے ، برطانیہ اور جرمنی کے انٹیلی جنس اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہاں نیوزی لینڈ کی طرح حملوں کا شدید خطرہ ہے۔ اس صورت حال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اسلام دشمن برطانوی تنظیم برٹش نیشنل ایکشن نے یورپ میں دوسری اسلام دشمن تنظیموں سے گہرے روابط قائم کئے ہیں ۔ اب تک یورپ میں دائیں بازو کے گروپ بکھرے ہوئے تھے لیکن پچھلے پانچ سال کے دوران اب یہ گروپ پورے یورپ میں مربوط اور منظم ہو گئے ہیں۔ یہی نہیں برطانیہ میں دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں اور عناصر کو یورپ سے آنے والے نازیوںاور اسلام دشمنوں سے بڑی تقویت پہنچی ہے ۔ اس بات کا پہلی بار انکشاف  میں اس وقت ہوا تھا جب یوکرین سے اسکالر شپ پر آنے والے طالب علم پاولو شین برمنگھم میں مسلم برادری پر حملوں میں ملوث پایا گیا۔ سب سے پہلے اس نے ایک پاکستانی محمد سلیم کو قتل کیا اور اس کے بعد اس نے ویسٹ مڈلینڈس میں مساجد میں آتشزدگی کے لئے کئی بم نصب کئے۔ اس کو جب پولس نے گرفتار کیا تو پتہ چلا کہ یہ بم تیار کرنے میں ماہر ہے اور یوکرین میں اس کے انتہا پسندوں سے گہرے تعلقات تھے ۔ یورپ کے انتہا پسندوں کے ساتھ برطانیہ کی نسل پرست نیشنل ایکشن کے قریبی روابط کے نتیجہ میں برطانیہ میں مسلمانوں پر حملوں کا سلسلہ تیز ہوا ہے اور ان تنظیموں کا سب سے بڑا نشانہ مساجد بنی ہیں۔ 
برطانیہ میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں پر اب تک پولس نگاہ رکھتی تھی لیکن اب یہ خطرہ اتنا شدید ہوگیا ہے کہ برطانیہ کی خفیہ انٹیلی جنس ایجنسی MI5کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ مارچ  سے اب تک برطانیہ میں اٹھارہ دہشت گرد حملوں کے منصوبے پکڑے گئے ہیں اور انہیں ناکام بنایا گیا ہے ان میں  منصوبوں میں دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیمیںملوث تھیں۔ 
دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اثر اور مقبولیت کی وجہ سے یورپ کا سیاسی نقشہ بدل رہا ہے۔ اٹلی میں گذشتہ سال کے عام انتخابات میں دائیں بازو کی دو جماعتیں پانچ ستاروں کی تحریک اور ناتھ لیگ نے اعتدادل پسند جماعتوں کو ہرا کر مخلوط حکومت قائم کی ہے ۔ ان جماعتوں کا تما م تر زور شمالی افریقہ سے آنے والے پناہ گزینوں کے خلاف رہا ہے ۔ جرمنی میںنسل پرست تنظیم  اے ایف ڈی نے جو صرف پانچ سال قبل قائم ہوئی تھی جرمن عوام پر ایسا اثر کیا ہے کہ وہ نہایت سرعت سے پارلیمنٹ میں کئی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔ جرمن چانسلر مرکل نے جس فراخ دلی سے شام ، عراق اور افغانستان کے پناہ گزینوں کو جرمنی میں آباد کیا ہے اس پر اے ایف ڈی نے نہ صرف مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکائی ہے بلکہ  مرکل کی حکومت کو اتنا زچ کیا ہے کہ آخر کار چانسلر مرکل کو اگلے انتخابات سے پہلے سبکدوش ہونے اور سیاست سے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ 
جرمنی کی طرح آسٹریا میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت فریڈم پارٹی نے اتنی مقبولیت حاصل کر لی کہ یہ مخلوط حکومت میں شامل ہوگئی ۔سویڈن میں امیگریشن کی مخالف جماعت سویڈن ڈیموکریٹس نے پچھلے عام انتخابات میں اہم کامیابی حاصل کی ہے ، ہنگری میں وزیر اعظم وکٹور اوریان کی قیادت میں دائیں بازو کی جماعت نے تیسری بار انتخابات جیتے ہیں۔ سلووینیا میں مسلمانوں کی مخالف ڈیموکریٹک پارٹی گزشتہ سال کے انتخابات میں اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے ۔ پولینڈ ، ڈنمارک ، چیک جمہوریہ اور فن لینڈ میں بھی دائیں بازو ج کی جماعتوں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے ۔ غرض یورپ میں سیاسی نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے اور اسلام دشمن اور انتہا پسند حاوی ہوتے جارہے ہیں۔ برطانیہ میں بریگزٹ کے بحران کی وجہ سے سیاسی نقشہ میں تبدیلی کے امکانات نمایاں ہورہے ہیں اور کوئی پتہ نہیں کہ برطانوی سیاست کیسی کروٹ لے۔ موجودہ حالات میں کوئی تعجب نہیں کہ یورپ میں بھی نیوزی لینڈ کی طرح ہولناک حملوں کا سلسلہ شروع ہو۔ کیونکہ یورپ پر انتہا پسندی اور مسلم دشمنی کے سائے بری طرح سے منڈلا رہے ہیں اور یورپ تاریک دور میں داخل ہوتا نظر آتا ہے۔


 

تازہ ترین خبریں