08:32 am
ناموس رسالتؐ  ملین مارچ اور ابّا بچائو ٹرین مارچ

ناموس رسالتؐ ملین مارچ اور ابّا بچائو ٹرین مارچ

08:32 am

اگر ’’میڈیا‘‘ خود انصاف اور برابری کا باغی ہوگا تو کیا انصاف‘ انصاف کی رٹ لگانے سے معاشرے میں انصاف قائم ہو جائے گا؟ یقینا حکمرانوں اور عدالتوں کا کام ملک میں انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن ’’انصاف‘‘ کو صرف حکومت یا عدالت پر ہی موقوف کر دیا جائے گا تو بھی معاشرے میں انصاف قائم کرنے کا حق ادا نہ ہوسکے گا۔
 
معاشرے میں انصاف اور برابری کا پرچم سربلند رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ماں‘ باپ اپنے بچوں کو برابری کی نظر سے دیکھیں‘ استاد اپنے شاگردوں کو تعلیم دینے  میں انصاف سے کام لے۔ غرضیکہ سرکاری ادارے ہوں یا  پرائیویٹ  ہر چھوٹے سے لے کر بڑے  اور بڑے سے لے کر چھوٹے تک ایک دوسرے کے ساتھ معاملات میں انصاف سے کام لیں گے تو ہمارے معاشرے کو مثالی معاشرہ بننے سے کوئی بھی روک نہ سکے گا۔
منگل کے دن پیپلزپارٹی نے بلاول زرداری کی قیادت میں کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین مارچ کا آغاز کیا تو نجی ٹی وی چینلز پر اس مارچ کو ملنے والی کوریج دیکھ کر ایسے لگا کہ یہ سارے ٹی وی چینلز بھی ’’کاروان بھٹو‘‘ میں شامل ہیں اور ٹرین مارچ کے حقوق پیپلزپارٹی یا بلاول زرداری نہیں بلکہ ٹی وی چینلز کے مالکان کے پاس ہیں۔
بدھ کے دن ساہیوال میں تھا‘ یہاں  جس سے بھی ملاقات ہوئی اس دوست نے طنز بھرے جملے کستے ہوئے پہلا سوال ہی کیا کہ ’’سر‘‘ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ کیوں؟ میری حیرت دیکھ کر وہ اگلا جملہ کستے ہیں کہ وہ آپ میڈیا والوں نے کراچی سے جوٹرین مارچ  شروع کیا ہے آپ کو تو وہاں ہونا چاہیے تھا۔
ارے بھائی بلاول کے ٹرین مارچ کا بھلا میڈیا والوں سے کیا تعلق؟ اچھا جی ٹی وی چینلز پر چند سو سے شروع ہو کر چند ہزار تک پہنچنے والے اس ٹرین مارچ کی ٹی وی چینلز پر خصوصی کوریج دیکھ کر تو ایسا ہی محسوس ہوا کہ جیسے یہ ٹرین مارچ میڈیا والوں کا اپنا تھا؟ سچی بات ہے کہ دوستوں کے یہ طنزیہ جملے سن کر میں بھی دل ہی دل میں شرمندہ ہوا لیکن اس کے باوجود اس خاکسار نے ہمت نہ ہارتے ہوئے سخت لہجے میں کہا کہ کراچی سے لے کر اسلام آباد تک ورکر جرنلسٹ گزشتہ کئی مہینوں سے احتجاج کر رہے ہیں‘ ان ٹی وی چینلز نے کبھی صحافیوں کے اس احتجاج کو کوریج دینا گوارا نہیں کیا‘ ٹی وی چینلز کی کوریج کا زمینی حقائق سے پہلے کب کوئی تعلق رہا ہے کہ  جو‘ اب وہ ٹرین مارچ کو کور کرنے کے حوالے سے کسی میرٹ یا انصاف کو فالو کرتے۔
پاکستان کا ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ  جمعیت علماء اسلام نے یکے بعد دیگرے ملک کے مختلف شہروں میں 9ملین مارچ کئے۔مولانا فضل الرحمن نے پہلا ملین مارچ کراچی‘ دوسرا لاہور‘ تیسرا سکھر‘ چوتھا مظفر گڑھ‘ پانچواں ڈیرہ اسماعیل خان‘ چھٹا مردان‘ ساتواں بدین‘ آٹھواں نصیر آباد بلوچستان‘ نواں میر علی وزیرستان میں کیا اور اب دسواں ملین مارچ پنجاب کے شہر سرگودھا میں 31مارچ کو کرنے جارہے ہیں۔
دوست‘ دشمن سب تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں سے ہر ملین مارچ میں لاکھوں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ سکھر میں ہونے والے ملین مارچ کو دیکھ کر مولویوں سے تعصب رکھنے والے مبصرین بھی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ یہ سندھ کی تاریخ کا بہت بڑا ملین مارچ تھالیکن میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلز نے کسی ملین مارچ کو مناسب کوریج دینا بھی گوارا نہ کیا‘ اس کی اصل وجہ شاید یہی ہے کہ ٹی وی چینلز کی خصوصی کوریج کا تعلق زمینی حقائق سے زیادہ مخصوص ایجنڈے سے ہوتا ہے‘ مولانا فضل الرحمن کے ملین مارچ کا عنوان ہوتا ہے ناموس رسالت ملین مارچ‘ جبکہ بلاول کے ٹرین مارچ کو فواد چوہدری نے عنوان دیا ہے ابا بچائو ٹرین مارچ‘ مولانا فضل الرحمن ملین مارچ کے دوران اپنی تقریروں میں پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدات کی حفاظت پر زور دیتے ہیں‘ قانون ناموس رسالتؐ آئین میں موجود اسلامی شقوں‘ دینی مدارس اور شعائر اسلامی کے دفاع کی بات کرتے ہیں‘ عالمی قوتوں بالخصوص امریکہ کی اسلام کش پالیسیوں کو جی بھر کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں‘ بے حیائی‘ فحاشی اور عریانی کے کلچر کو مسترد کرکے حکمرانوں پر بھی تنقید کے نشتر چلاتے ہیں...ملین مارچ کے لاکھوں شرکاء‘ تکبیر‘ رسالتؐ اور پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ کے دیوانہ وار نعرے بلند کرتے ہیں۔ملین مارچ میں لاکھوں بوڑھے‘ جوان تو شریک ہوتے ہیں مگر عورتوں کو نہ دعوت دی جاتی ہے اور نہ ہی عورتیں شریک ہوتی ہیں جس کی وجہ سے دھکم پیل کی وجہ سے عورتوں کی توہین کا کوئی ایک بھی واقعہ آج تک سامنے نہیں آیا جبکہ ابا بچائو ٹرین مارچ میں شرکاء کی تعداد چاہے چند ہزار ہی ہو‘ سیدھی سی بات ہے کہ کراچی سے لے کر لاڑکانہ کے اسٹیشنوں پر لاکھوں عوام تو آنے سے رہے یقینا ہر اسٹیشن پر زیادہ سے زیادہ شرکاء بھی ہوں تو چار پانچ ہزار سے نہیں بڑھ سکتے‘ ٹرین مارچ میں ہونے والی بلاول کی تقریریں نعرہ بھٹو سے شروع ہو کر جیئے بھٹو پر ختم ہو جاتی ہیں‘ وہاں ڈھول ڈھمکے بھی ہوتے ہیں اور جئے بلاول کے نعرے بلند کرتے مرد و خواتین بھی‘ بلاول نے اپنی تقریر میں نہ کبھی ناموس رسالت  ؐ کا ذکر کرنا گوارا کیا‘ نہ نظریہ پاکستان کے تحفظ کی بات کی‘ نہ امریکہ کو  للکارا اور نہ امریکہ کی مسلم کش پالیسیوں کو مسترد کرنے کی بات کی‘ یوں اگر دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمن لاکھوں عوام کے تعاون سے ملین مارچ کرنے کے باوجود ٹی وی چینلز کے مخصوص ایجنڈے پر پورا نہیں اترتے...اس لئے مخصوص کوریج سے محروم رہتے ہیں جبکہ بلاول کا ابا بچائو ٹرین مارچ چاہے اپنے دامن میں چند ہزار لوگ بھی لے کر چلے مگر وہ عالمی اور چینلز کے مخصوص ایجنڈے پر پورا اترتا ہے اس لئے منگل کے روز کراچی کینٹ اسٹیشن سے  لے کر لانڈھی اسٹیشن تک بلکہ ہر اسٹیشن پر اسے ٹی وی چینلز نے ایسے مخصوص کوریج  عطا کی کہ جیسے اس میں لاکھوں لوگ شریک ہوں؟
ٹی وی چینلز کی کوریج لاکھوں لوگوں کے اجتماع سے منسلک نہیں ہوتی بلکہ کوریج کے یہ کرشمے عالمی ایجنڈے کے دفاع کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں‘ کالعدم جہادی تنظیموں کو ملنے والے کسی خود ساختہ این آر او کی درجنوں بار کی جانے والی بات‘ بلاول کی وقعت کو عالمی صہیونی طاقتوں کی نظروں میں بڑھا رہی ہیں...اس سے پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے تو پہنچے یہ  بلاول کا مسئلہ نہیں ہے۔
 

تازہ ترین خبریں