08:33 am
نوازشریف کی مشروط رہائی

نوازشریف کی مشروط رہائی

08:33 am

٭نوازشریف کی ضمانت پر مشروط رہائی، شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازتO بھارت نے مہاتیرمحمد کے طیارے کو اپنی فضا سے گزرنے کی اجازت نہیں دیO افغانستان نے سفیرکو واپس بلا لیاO عمران خان کا ساتھ دینا ضروری ہے:چودھری شجاعت حسینO نیب کے نئے مہمان، سید قائم علی شاہ، حنا ربانی کھرO جنرل (ر) پرویز مشرف بستر پر، حالت خرابO بلاول کا ٹرین مارچ O نوازشریف والی شرائط پر باقی قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے:چودھری اعتزاز احسن۔
 
٭سپریم کورٹ نے نوازشریف کو چھ ہفتے کے لئے ضمانت پر رہا کر دیا تا کہ اپنی مرضی کا علاج کرا سکیں۔ لاہورہائی کورٹ نے شہباز شریف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی۔ نوازشریف کی عارضی رہائی پر ن لیگ نے جشن منایا۔ ن لیگ کے ذرائع کے مطابق یہ عارضی رہائی مستقل رہائی بننے کا امکان ہے۔ لاہور ہائی کورٹ  بھی سپریم کورٹ جیسی شرائط پر نواز شریف کی رہائی میں مسلسل توسیع کر سکتی ہے۔ ن لیگ کا جشن اپنی جگہ مگرایک اہم بات یہ ہوئی ہے کہ شریف خاندان کی طرف سے نوازشریف کا مناسب علاج ہونے کا واویلا ختم ہو گیا ہے بلکہ یہ لوگ خود الجھن میں پڑ گئے ہیں کہ6 ہفتے تک کیسے اور کیا علاج کرائیں گے جو جیل میں نہیں ہو سکتا تھا؟ چھ ہفتے میں نوازشریف کی حالت نارمل نہیں ہوتی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ نارمل ہو جاتے ہیں تو پھر جیل جانا ہو گا۔ اس لئے بیمار دکھائی دینا ہی بہتر ہو گا۔ ویسے شریف خاندان نے نوازشریف کی ’نہایت خطرناک‘ بیماری کا اتنا شور مچایا ہے کہ انہیں آئندہ کسی قسم کی سیاسی سرگرمیو ںکا اہل نہیں رہنے دیا۔ ویسے بھی جب تک وہ سزا یافتہ ہیں، کسی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔حکومتی ذرائع نے بھی ایک طرح سے سکھ کا سانس لیا کہ تین ماہ کی قید کے دوران نوازشریف کی جیل کے اندر اور باہر سکیورٹی کے وسیع انتظامات اور ن لیگ کے ارکان کے مظاہروں نے انتظامیہ کا ناک میں دم کر رکھا تھا اسے کم از کم چھ ہفتے تک آرام ملے گا۔ جہاں تک شہباز شریف کی باہر جانے کی آزادی کا معاملہ ہے تو یہ اتنا اہم نہیں۔ انہیں کسی علاج کے لئے باہر جانے کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں، ویسے بھی انہیں اپنے خلاف ریفرنسوں میں حاضری سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ اب ایک نیا ریفرنس کھل گیا ہے۔ باہر جانے کا وقت ہی نہیں ملے گا!
٭دوسری طرف ٹرین مارچ کی شکل میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا واویلا شروع ہو گیا۔ نوازشریف کے پاس نعرہ تھا کہ ’مجھے وزیراعظم ہائوس سے کیوں نکالا؟‘ اور بلاول کا جگہ جگہ بلند آواز سے سوال کہ ’’مجھے جے آئی ٹی میں کیوں ڈالا؟‘‘ یہ ٹرین مارچ 300 افراد کے ساتھ کراچی سے شروع ہوا اور اب تک لاڑکانہ میں ختم ہو چکا ہو گا۔ چار بوگیوں کی اس ٹرین میں ایک نہایت پرتعیش بوگی صرف بلاول کے لئے ہے، 300 کارکن عام تھرڈ کلاس بوگیوں میں تھے۔ یہ وہی منظر تھا کہ اسلام آباد میں شدید سردی بلکہ بارش کے دوران عوامی تحریک کے دھرنے کے شرکاء بھیگتے رہے اور تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری انتہائی آرام دہ گرم کنٹینر میں آرام کرتے رہے۔ بلاول زرداری نے ان تین سو ساتھی کارکنوں کے لئے اپنی جیب سے 11 لاکھ روپے کی ٹکٹیں خریدیں۔ ان کے کھانے پینے کا کوئی انتظام بھی ہو گا؟ نواب شاہ پہنچ کر بلاول تو اپنے زرداری ہائوس میں جا کر سو گیا، 300 کارکن گاڑی میں ہی رہ گئے ہوں گے! معاملہ یہ ہے کہ اس ٹرین مارچ کا مقصد کیا تھا اوار کیا حاصل ہوا؟ پیپلزپارٹی کے ترجمانوں کے مطابق اس کے دبائو سے حکومت کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ مگر عمران خان کا لہجہ مزید سخت ہو گیا کہ جو مرضی کر لو کوئی این آر او نہیں ہو گا۔ اس سے پہلے مولانا فضل الرحمٰن دو تین ’ملین مارچ‘ کر چکے ہیں، وہی بتا سکتے ہیں کہ ان سے کیا مقصد حاصل ہو چکا ہے؟ ویسے یہ ملین مارچ بھی عجیب چیز ہے۔ ملین کے معنی ’دس لاکھ‘ کے ہیں۔ ایک رواج ہو گیا ہے کہ لاہور سے اکثر اسلام آباد تک جانے والے چند سو افراد کے جلوس کو ملین مارچ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ملک کی تاریخ میں سب سے بڑا جلوس 10 اپریل 1986ء کو بے نظیر کی لاہور آمد پر نکلا تھا۔ یہ جلوس ہوائی اڈے سے تقریباً دو اڑھائی کلو میٹر دور تک پھیل گیا تھا، اس کی تعداد ڈیڑھ دو لاکھ سے زیادہ شمار نہیں ہو سکی تھی۔ لاہور میں پاکستان کا سب سے بڑا کرکٹ سٹیڈیم مکمل طور پر بھر جائے تو صرف 35 ہزار کی تعداد بنتی ہے۔ مگر اب ہر جگہ ’ملین مارچ‘ ہو رہا ہے!! بات دوسری طرف چلی گئی۔ پنجاب میں نوازشریف کے علاج کا واویلا تو ختم ہو گیا، سندھ میں تقریباً دس بڑی گرفتاریوں کے امکانات کا واویلا شروع ہو گیا ہے۔ اسلام آباد میں نیب اور احتساب عدالتوں میں حاضریاں شروع ہو گئی ہیں۔ سید قائم علی شاہ جیسے 85 سالہ بزرگ کو جانا پڑا۔ انہیںشکائت ہے کہ نیب والے بہت سخت سوالات پوچھ رہے ہیں۔ نیب نے پیپلزپارٹی کی سابق وزیرخارجہ حنا ربانی اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔ ذرا ایک نظر نیب میں پیش ہونے کے نام دہرا لیں۔ نوازشریف، شہباز شریف، حسین نواز، حسن نواز، آصف زرداری، بلاول زرداری، شاہد خاقان عباسی، عبدالعلیم خان، خواجہ برادران، سپیکر سندھ اسمبلی، سید قائم علی شاہ، اب حنا ربانی! چھوٹے بہت سے لوگ! نیب نے عجیب میلہ لگا رکھا ہے!
٭پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما چودھری اعتزاز احسن نے ایک تلخ حقیقت والا سوال اٹھایا ہے کہ نوازشریف کو بیماری کی وجہ سے رہائی کی جو سہولت دی گئی ہے کیا وہ ملک بھر کی جیلوں میں بند بے شمار بیمار قیدیوں کو بھی دی جائے گی؟ سوال بالکل معقول ہے، ان غریب قیدیوںکی رہائی کی کوشش کون کرے گا؟
٭ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ موجودہ نازک اور خراب حالات میں عمران خان کا ساتھ دینا بہت ضروری ہے۔ عجیب بات ہے کہ اپنی پوری سیاسی زندگی میں چودھری خاندان کو ہر دور نازک اور خراب دکھائی دیا اور اس دور کی حکومت کا ساتھ دینا بہت ضروری قرار پایا۔ یہ سلسلہ ایوب خان سے شروع ہوا اور جنرل ضیاء الحق، ن لیگ کے نوازشریف، غلام اسحاق خان، جنرل پرویز مشرف سے ہوتا ہوا پیپلزپارٹی اور اب تحریک انصاف تک پہنچا ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح آئندہ بھی کسی اور حکومت کے آنے تک چلتا رہے گا۔ ایوب خان نے چودھری ظہور الٰہی کے خلاف سخت کارروائی کی۔ معافی تلافی کے بعد چودھری صاحب ایوب خان کی سرکاری مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی میں شامل ہو گئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں چودھری خاندان نے وزارتوں کا حلف اٹھایا، جنرل پرویز مشرف کے دور میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ ہاتھ آ گئی، پیپلزپارٹی کے خلاف سخت مہم چلائی، اسے ’بھٹو، لٹو، پھٹو‘ پارٹی قرار دیا۔ پیپلزپارٹی نے ق لیگ کو قاتل لیگ کا نام دیا۔ پیپلزپارٹی برسراقتدار آئی تو صورت حال کو نازک اور خراب قرار دے کر اس کا ساتھ دینا بہت ضروری قرار پایا۔ ڈپٹی وزیراعظم اور ایک دوسری وزارت کے عہدے حاصل کر لئے۔ اب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو اس کے گلے لگ کر پھر سے سپیکرکا عہدہ، وزارتیں اس بنا پر سمیٹ لیں کہ حالات بہت خراب ہیں، عمران خان کا ساتھ دینا بہت ضروری ہے۔
٭عبرت! میں نے ایک تصویر میں جنرل پرویز مشرف کو دبئی میں ایک بستر پر نہائت بے بسی کے عالم میں دیکھا ہے۔ آکسیجن، ڈرپ وغیرہ لگی ہوئی۔ پاس صرف اہلیہ اور بیٹی!! الامان! اس بے بسی سے بڑھ کر اور سزا کیا ہو گی۔٭ بھارت نے  ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیرمحمد کو اپنی فضا میں سے گزرکر پاکستان جانے سے روک دیا، انہیں بہت طویل سفر کے بعد اسلام آباد آنا اور واپس جانا پڑا۔
 

تازہ ترین خبریں