11:29 am
توجہ طلب معاملات

توجہ طلب معاملات

11:29 am

امریکہ بہادر کبھی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے دھمکیاں دیتا ہے تو کبھی افغان مذاکرات میں مثبت کردار کی تعریف کرتا ہے۔ تعریف کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ ایسا دکھاوا ہے جو با دلِ نخواستہ کیا جا رہا ہے۔ البتہ تحکمانہ انداز میں گاہے بگاہے دی جانے والی دھمکی نما ہدایات کے پیچھے کار فرما مقاصد پیش نظر رہنے چاہئیں ۔ افغانستان میں اپنے پنجے گاڑے رکھنے کے لیے امریکہ بہادر کوئی جائز و ناجائز قدم اٹھانے سے دریغ نہیں کرے گا ۔ جائز قدم کا لفظ یہاں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ سات سمندر پار کسی ملک میں اپنی فوجی قوت کے بل پر ہر سیاہ و سفید پر قابض ہونے کے امریکی اقدام کو ہرگز کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں دیا جا سکتا ۔ اقوام متحدہ کی چھتری تلے نام نہاد مہذب اقوام کمزور ملکوں پر جنگل کا قانون نافذ کر کے عالمی امن کے ترانے گاتے ہوئے ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتیں۔ 
 
موجودہ حالات میں پاکستان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ امریکی ہدایات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دے کہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہا ہے ۔ چین اور روس سے پاکستان کے بتدریج مضبوط ہوتے تعلقات پر امریکہ بہادر کو تحفظات ہیں ۔ بھارت کو گود لینے کے بعد بھی خطے میں چین اور روس کے اثر و رسوخ کو گھٹانے میں تا حال کوئی خاطر خواہ مدد نہیں مل سکی ۔ اصل صورت حال یہ ہے کہ امریکی دوستی کا دم بھرنے والے بھارت نے دھڑلے سے روسی ساختہ ائر ڈیفنس میزائل سسٹم خریدا۔ امریکہ بہادر تمام تر تحفظات کے باوجود منہ دیکھتا رہ گیا ۔ نوبت یہاں تک آئی کہ صدر ٹرمپ نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کر کے بھارت کو روسی میزائل سسٹم کی خریداری کی پاداش میں امریکی قوانین کے تحت ممکنہ طور پر لاگو ہونے والی پابندیوں سے استثناء بھی جاری کیا ۔
 امریکی مفادات کے تحفظ اور ایجنڈے کے فروغ کے لیے علاقائی اکھاڑے میں بھارت جیسے پٹھے کے ناز نخرے اُٹھا کے امریکہ نے اپنے متعلق یہ تاثر مزید پختہ کر دیا کہ اُس کی لغت میں اصول نام کا کوئی لفظ سرے سے ہے ہی نہیں ۔ موجودہ حالات میں پاکستان پر امریکی دبائو میں بتدریج اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ عسکری محاذ پر امریکہ کی شہہ پر بھارت دبائو ڈالنے کی روش جاری رکھتے ہوئے بیک وقت مشرقی سرحدات پر کشیدگی بھی بڑھاتا رہے گا اور افغانستان میں مقیم دہشت گرد گروہوں کے ذریعے پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گردی کا بازار بھی گرم رکھے گا ۔ ان حالات میں پاکستان کو اندرونی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ 
بلاشبہ بنیادی ذمہ داری حکومت کے کاندھوں پر عائد ہوتی ہے لیکن ملک کو درپیش پیچیدہ مسائل کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کے اہم مسائل پر مشترکہ سوچ اپنائی جائے۔ قومی جماعت ہونے کی دعویدار سیاسی جماعتیں پارلیمان کے اندر اور باہر اہم معاملات پر سنجیدگی اختیار کریں ۔ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے بے مقصد بیان بازی اور سطحی تنقید کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ حیرت انگیز طور پر حکومتی صفوں سے بھی لفظی چاند ماری کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ وزراء ، مشیر اور ترجمانوں کا گروہ ابھی تک خود کو حزب اختلاف کی نفسیاتی کیفیت سے باہر نہیں نکال پایا ۔ ملک کو درپیش پیچیدہ مسائل کو پارلیمان میں جانچ کی اجتماعی دانش کی بنیاد پر حکمت عملی وضع کی جانی چاہیے۔ 
بدقسمتی سے حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی محض اپنی قیادت کے خلاف جاری کرپشن کی تحقیقات پر احتجاج کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ۔ قومی منظر نامے پر سیاسی قیادت کی یہ روش بے حد مایوس کن ہے ۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ قومی مسائل پر جماعتی اور ذاتی مفادات کو ترجیح دی جارہی ہے۔ حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حزب اختلاف سے ہر معاملے پر محاذ آرائی کے بجائے قومی مسائل پر مکالمے کے رجحان کو فروغ دے۔ خارجہ محاذ پر گذشتہ دس برس سے طاری سکتے نے پاکستان کے مفادت پر کاری ضرب لگائی ہے۔ 
بھارت کی فریب اور جھوٹ پر مبنی سفارت کاری کا مقابلہ کرنے کے لیے غیر معمولی کاوشیں درکار ہیں ۔ دفتر خارجہ کے زنگ آلودہ بابوئوں کے گھسے پٹے بیانات سے نہ ماضی میں کچھ حاصل ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں خیر کی توقع باندھی جا سکتی ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ اقتصادی محاذ پر بھی درپیش ہے ۔ بہتر ہو گا کہ وزیر ا عظم ان دونوں شعبوں کے معاملات کی براہ راست نگرانی کا معمول بنائیں ۔ خارجہ اور اقتصادی محاذ پر ناقص کارکردگی براہ راست پاکستان کے استحکام کو متاثر کرے گی ۔ موجودہ نازک حالات میں اہم معاملات کو نوکر شاہی کے زنگ آلودہ بابوئوں اور روایتی سیاستدانوں کی ناقص فہم کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ 

 

تازہ ترین خبریں