11:30 am
اللہ کے بندوں کے پسندیدہ اوصاف

اللہ کے بندوں کے پسندیدہ اوصاف

11:30 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 ان گناہوں کو اکبر الکبائر کہا گیا ہے۔یعنی جو کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ان کے مرتکب کے لیے اتنی ہی بڑی اور دردناک سزا بھی بتا دی گئی لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا کہ: ’’سوائے اُس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اوراس نے نیک عمل کیے ‘‘ ’’تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے۔‘‘ ’’اور اللہ غفور ہے‘ رحیم ہے۔‘‘
اللہ کے پسندیدہ بندے اول تو کوئی گناہ کرتے ہی نہیں یعنی جس قدر گہرا تعلق ان کا اللہ کے ساتھ رہتا ہے اس کے ہوتے ہوئے ان کی زندگیوں میں گناہ کبیرہ کا امکان ہی نہیں ہوتا لیکن پھر بھی انسان سے غلطی،کوتاہی ہوسکتی ہے،صاحب ایمان شخص سے بھی کسی وقت غلطی سے کسی گناہ کا ارتکاب ہوسکتا ہے کیونکہ انسان کے اندر ایک حیوانی وجود بھی ہے ، جسے نفس کہا جاتا ہے اور وہ بھی ہر وقت انسان کو اُکساتا رہتا ہے ۔
’’یقینا (انسان کا) نفس تو برائی ہی کا حکم دیتا ہے۔‘‘(یوسف۔۵۳)
اسی طریقے سے شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے اور وہ بھی انسان کو مختلف پٹیاں پڑھاتا رہتاہے ۔آج تو ساری دنیا ہی شیطا ن کی ایجنٹ بنی ہوئی ہے۔مغرب سے درآمد شدہ ماڈرن تہذیب شیطان کی فوج کا ہراول دستہ ہے جو انسانوں کو مسلسل ورغلا رہی ہے ۔لہٰذا غلطی کا امکان ہر وقت موجود رہتا ہے ۔اگر کسی وقت انسان سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اب وہ ہمیشہ کے لیے داغدار ہو گیا۔ نہیں بلکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ لیکن توبہ کی شرائط بھی ہیں۔ گناہ کرنا ایک اعتبار سے اللہ سے بغاوت ہے کیونکہ گناہ میں بندہ وہ کام کرتا ہے جس سے اللہ نے منع کیا ہے ۔اگراللہ کا حکم توڑنے کے بعد ہمیں یہ احساس ہو جائے کہ ہم نے غلطی کی ہے اور اس پر ہمیں ندامت اور پشیمانی کا سامنا ہو تو یہ توبہ کی اصل روح ہے۔لہٰذا سچی توبہ کے بعد بندہ دوبارہ مومن ہو جائے گا کیونکہ اب پھر اس نے اللہ سے وفادار بندہ بننے کا عہد کر لیا۔ ’’اور جس نے توبہ کی اور نیک اعمال کیے تو ایسا شخص توبہ کرتا ہے اللہ کی جناب میں جیسا کہ توبہ کرنے کا حق ہے۔‘‘
 توبہ اصل میں ایک طرح کی تجدید ایمان ہے جس کے بعد بندہ اگر پرہیز گاری اختیار کرے اور نیک عمل کرے تو یہ توبہ کا حق ہے ۔ یعنی یہ نہیں کہ توبہ بھی کرتار ہے اور اسی توقع میں گناہ بھی کرتا رہے بلکہ پختہ عہد ہو کہ دوبارہ اس گناہ کے قریب بھی نہیں جائے گا ۔یہ عزم پختہ ہو توبڑے سے بڑا گناہ اللہ معاف کردے گا۔یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر یہ ہے اور احادیث سے بھی معلوم ہوتاہے اور قرآن مجید کے اور مقامات سے بھی پتا چلتا ہے کہ اگر اس کے باوجود پھر کسی وقت غلطی کر بیٹھے تو مایوس نہ ہو بلکہ دوبارہ اللہ سے معافی مانگے اور سچی توبہ کرے تو اللہ دوبارہ اسے معاف کر دے گا بشرطیکہ اس گناہ سے بچنے کا پختہ عزم ہو ۔ چنانچہ توبہ کا دروازہ اللہ نے کھول رکھا ہے لیکن اس کے لیے ایک میکنزم ہے ۔ اگر دل میں ندامت ہی نہ ہو اور نہ آئندہ کے لیے یہ عزم ہو کہ اس گناہ کو چھوڑنا ہے تو یہ حقیقت ِتوبہ نہیں ہے بلکہ صرف شکل ِتوبہ ہے ۔ ہم اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ ہمارے دل میں کیا ہے۔ چنانچہ توبہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے ۔ اگر توبہ کا در کھلا نہ ہوتا تو انسانیت بہت بڑی تباہی سے دوچار ہوتی۔بنی اسرائیل کے ایک شخص کا واقعہ ہے کہ اس نے 99قتل کیے تھے ۔پھر اسے احساس ہوا کہ میںنے غلط کیا ہے ۔ وہ کسی مذہبی پیشوا کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ بتائو ! میرے لیے کوئی امکان ہے کہ اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کرلے؟اس نے کہا تونے ننانوے قتل کیے لہٰذا توبہ کا امکان کیسا؟اس نے اس کو بھی قتل کردیا۔پھرکچھ عرصہ کے بعد اسے احساس ہوا اور وہ پھر کسی دوسرے راہب کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ ہاں تیری توبہ قبول ہوسکتی ہے۔البتہ تم جائو ، فلاں بستی میں نیک لوگ رہتے ہیں، وہاں جاکر بقیہ زندگی گزارو۔ وہ روانہ ہوا اور راستے میں ہی تھا کہ اس کو موت آگئی ۔عزم اس کا پختہ تھا کہ میں نے توبہ کرنی ہے اوروہاں جا کر اپنی اصلاح کرنی ہے۔حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی بخشش فرمادی۔ یہ توبہ کی فضیلت اور اہمیت ہے لیکن اس کے ساتھ کھیلنا ، اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
اب آگے پھر عبادالرحمن کے کچھ اوصاف کا ذکر آرہا ہے۔’’اور وہ لوگ جو جھوٹ پر موجود نہیں رہتے‘‘
 ’’اور جب وہ کسی لغو کام پر سے گزرتے ہیں تو با وقار انداز سے گزر جاتے ہیں۔‘‘
یعنی وہ کسی ایسے معاملے میں نہیں پڑتے جس کی بنیاد جھوٹ پر ہو یا کسی خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا مہم ہو بلکہ وہ ہر قسم کے غلط اور لغو کام سے دور رہتے ہیں ۔کھیل کود ، تماشا ہو رہا ہو تو بڑے وقار سے وہاں سے گزر جاتے ہیں ۔        ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں