11:32 am
کشمیر:ایٹمی فلیش پوائنٹ

کشمیر:ایٹمی فلیش پوائنٹ

11:32 am

افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا کی بازگشت کے ساتھ ہی خطہ میں امن واستحکام کی جوامیدپیداہوئی تھی،وہ پلوامہ حملے کے بعدبھارت اورپاکستان کے مابین بھڑک اٹھنے والی کشیدگی کے باعث دم توڑتی دکھائی دیتی ہے‘بدقسمتی سے ایک ایسے وقت میں جب ہمارے ریاستی ادارے مغربی سرحدوں کے اس پارچالیس سال پرمحیط طویل جنگوں کے مضمرات پرقابوپانے اورمشرقِ وسطیٰ کے خونی تنازعات سے دامن بچانے کی تگ ودومیں مصروف تھے،عین اسی وقت کشمیرکی تحریک آزادی کی مہیب لہریں وادی کی حدودسے نکل کردہلی کے ایوانوں سے ٹکرانے لگیں، ایسالگتاہے کہ تقدیرایک بارپھرجنوبی ایشیا کوکسی طویل اورہولناک جنگ کی بھٹی میں جلانے والی ہے، اگر ایساہوا  تویہی جدلیات نہ صرف اس خطے کی تمام مملکتوں کومعاشی ترقی کے نئے امکانات سے محروم کردے گی بلکہ یہ اذیت ناک کشمکش جنوبی ایشیا کوکئی ناقابل یقین جغرافیائی تبدیلیوں سے بھی دوچارکرسکتی ہے۔ اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ اس وقت کشمیرکاتنازعہ آتش فشاں کے ابلتے ہوئے لاوے کی مانندبہہ نکلنے کوتیارہے‘ اگرطاقتورپڑوسی ممالک اورعالمی برادری نے اس قضیہ کے پرامن حل کی راہ نکالنے میں کردارادانہ کیاتودنیابہت جلدغیرمحدودجنگ کے مناظردیکھنے پرمجبورہوجائے گی۔
1947ء  میں مسئلہ کشمیربظاہرہندوستان کے بٹوارے کامعمولی جزتھااوراگراسے تقسیم کے فارمولا اورمقامی آبادی کی خواہش کے مطابق نمٹا دیا جاتا تو دو نوزائیدہ مملکتیں ان تین جنگوں سے بچ سکتی تھیں جوتنازعہ کشمیر کے باعث پاکستان اوربھارت کے درمیان لڑی گئیں لیکن افسوس کہ اس وقت کے برٹش گورنرجنرل لارڈ مائونٹ بیٹن نے اسے محض جغرافیائی تنازعہ سمجھ کردانستہ التوا میں رکھ کرایسی مہیب کشمکش کا محرک بنادیاجس کے مضمرات نے اس خطہ کو پسماندگی‘  غربت وافلاس اورنہ تھمنے والے تشددکے حوالے کردیا تقسیم کے فوری بعد1948 ء میں پاک بھارت کے درمیان لڑی جانے والی پہلی محدوجنگ کے بعدبھی برطانوی حکومت اگریواین او کی استصواب رائے کی قرارداد پر عملدرآمد کرانے میں مددکرتی توبھی یہ خطہ گنجلک تنازعات سے بچ سکتاتھاجنہوں نے جنوبی ایشیا کوایک ایٹمی جنگ کے دہانے پرلاکھڑاکیاہے۔
دوسروں سے کیاگلہ کیاجائے ،خودبرصغیرکی مقامی قیادت کی تنگ نظری اورناتجربہ کاری ہی کشمیریوں کوخودکش حملوں کی منزل تک پہنچانے کاذریعہ بنی۔یہ بھی فطری امرہے‘ اگرکسی قوم یاگروہ انسانی کیلئے اپنے جائزحقوق کے حصول کی تمام آئینی وقانونی راہیں بندکردی جائیں توغاصب قوتوں کے خلاف ان کابندوق اٹھاناجائزہوجاتاہے،مگرافسوس کے اب بھی دنیا تشدد کے محرکات کوختم کرنے کی بجائے شورش کوکنٹرول کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے حالانکہ دنیاکی واحد سپر پاور امریکہ دہشت گردی کے اصل محرکات کوایڈریس کرنے کی بجائے بیس سال سے دہشت گردوں کے تعاقب کی مہم چلانے کاتجربہ کرچکی ہے،لاریب،دہشت گردی پر قابو پانے کی عالمی طاقتوں کی جنگی مہمات جوں جوں زور پکڑتی گئیں توں توں انسانی المیے بڑھے،جس سے نفرت وتشددپرمبنی سوچ زیادہ شدت کے ساتھ ابھر کر یورپ کے دروازے تک جاپہنچی۔
انڈین حکومت نے طاقت کے استعمال کے ذریعےسترسال میں بنیادی آزادیوں اورحق خود ارادیت مانگنے والے کشمیریوں کی تین نسلیں تہہ خاک سلادیں، کشمیریوں کیلئے جنہیں اب فراموش کرناممکن نہیں ہوگا؟ حریت کانفرنس کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق جدوجہدآزادی میں بھارتی درندہ صفت فورسز کے ہاتھوں شہیدہونے والی کشمیریوں کی تعدادایک لاکھ سے زائدہوگئی‘ریاستی جبرکے خلاف مزاحمت کے باعث کشمیریوں کے کاروبار اورتعلیمی ادارے تباہ ہوتے گئے،جس سے بیروزگاری،غربت وافلاس اورمایوسی بڑھتی رہی جس سے پرتشددتحریکوں کوتازہ لہواورافرادی قوت بہم پہنچی ،مستزادیہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ اب اس تنازعہ نے کئی نئی جہتیں بھی اختیار کرلی ہیں،جن میں دو بہت اہم ہیں،ایک توسندھ طاس معاہدے کے بعدبھارتی حکومت کی جانب سے کشمیرسے نکلنے والے دریائوں کے دہانوں پرڈیموں کی تعمیرکے ذریعے اس خطہ کے واٹر ریسورسزپر مستقل اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش نے کشمیرکی تزویراتی اہمیت بڑھادی،ہمارے ہاں بہنے والے تمام دریائوں کاسرچشمہ ہونے کی حیثیت سے کشمیرکی سرزمین اب پاکستان کی بقاء کاسنٹرآف گریوٹی بن گئی ہے ،اس لئے پاکستان مسئلہ کشمیرسے الگ نہیں ہوسکتا‘دوسرے کشمیرتنازعہ میں چین جیسی عالمی طاقت کی تلویث اس ایشوکوایک نیازاویہ دینے کاسبب بن گئی۔مقبوضہ کشمیرکی ساٹھ فیصدآبادی مسلمان،باقی ہندوبرہمنوں اوربدھوں کے علاوہ سکھوں پرمشتمل ہے ‘ اس وقت جموں وکشمیرپرمشتمل 45 فیصدشمال مشرقی علاقوں پربھارتی گورنمنٹ ،آزاد کشمیرسمیت گلگت بلتستان پرمشتمل 35فیصد جنوب مغربی خطہ پرپاکستان کوتصرف حاصل ہے،20 فیصد علاقہ چین کے قبضہ میں ہے چنانچہ مسئلہ کشمیراب فقط کشمیری عوام کے حق خوداردایت کامسئلہ نہیں رہابلکہ یہ پاکستان کی بقا اورعلاقائی طاقتوں کے وسیع تر سٹرٹیجک مفادات کا محور بن چکاہے،تاہم اس مسئلے کا حل آج بھی استصواب رائے میں مضمرہے ۔
 کشمیرمیں استصواب کے معاملہ کو التوا میں رکھنے ہی سے یہاں  احتجاج کی لہریں اٹھتی رہیں،ابتدا میں کشمیری عوام نے جمہوری اندازمیں بنیادی آزادیوں اورآئینی حقوق مانگنے کی کوشش کی جسے بھارتی بنئے نے طاقت کے ذریعے کچل دیا،1989ء  میں پہلی بارکشمیری نوجوان نے بھارتی جارحیت کے خلاف مسلح جدوجہدکی جس میں محتاط اندازے کے مطابق دس ہزارفوجیوں کے علاوہ سترہزارسے زائدکشمیری زندگی گنوابیٹھے تاہم 16جولائی2017ءکو 22سالہ کشمیری فریڈم فائٹربرہان وانی کی شہادت نے کشمیری نوجوانوںکونئی امنگ اوراس تحریک آزادی کوغیرمحدود توانائی بخشی جس کے بعدپوری وادی بھارتی فوج کیلئے جہنم بنتی گئی ،یہی تغیرخطہ کی تقدیراوربھارتی ریاست کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کیاگیا۔اب مقبوضہ کشمیرکے ضلع پلوامہ میں بھارت کے نیم فوجی دستوں پہ خودکش حملہ کے بعدکشمیرکی جدوجہدآزادی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے جس نے بھارتی ریاست کی قوت قاہرہ کوجھنجھوڑکررکھ دیا۔پلوامہ فدائی حملہ میں 44بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعدبھارتی حکومت اورسول سوسائٹی کے غیرمعمولی رد ِ عمل نے بھارت کے طول وعرض میں مسلمانوں اورہندوئوں کے درمیان نفرتوں کی خلیج مزیدبڑھادی‘خدشہ ہے اگربھارتی درندہ صفت فورسز پراس قسم کے مزیدحملے ہوئے تویہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا‘بظاہرایسالگتاہے کہ جوں جوں کشمیر پربھارتی حکومت کی گرفت کمزورہوتی جائے گی توں توں مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کے امکانات دور ہوتے جائیں گے اور بھارتی ریاست کشمیری مسلمانوں کے جذبہ آزادی کاسامناکرنے کی بجائے اس قضیئے کوپاکستان کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کرے گا جو دوایٹمی ملکوں کے درمیان تصادم کاسبب بنے گی۔
اب بھی وقت ہے کہ بھارت کوجیواورجینے دوکے اصول کوتسلیم کرتے ہوئے استصواب رائے کاحق دے دیناچاہئے ۔اگربھارت یہ سمجھتاہے کہ وہ کشمیر سے نکلنے والے دریائوں پرڈیم بناکرپاکستان کوپانی کے حق سے محروم کرنے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کردے گاتویہ اس کی غلط فہمی ہے۔پاکستان جنگ کے خوف یاطریقہ کارکے ہتھکنڈوں سے گھبراکراپنی بقا کے تقاضوں اورکشمیری مسلمانوں کے حق خودارادیت کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوگا۔  

 

تازہ ترین خبریں