11:33 am
’’جمہوری ہو جا اور جو دل چاہے کرتا چلا جا‘‘

’’جمہوری ہو جا اور جو دل چاہے کرتا چلا جا‘‘

11:33 am

وہ دن ہوا ہوئے کہ جب آئین توڑنے پر لاش کو پھانسی دی جاتی تھی یقینا برطانیہ میں اور لیورکرامویل کی مثال موجود ہے‘ لیکن معذرت کے ساتھ یہ برطانیہ نہیں پاکستان ہے اور پاکستان میں آئین توڑنے والوں کو پروٹوکول دیا جاتا ہے‘ یہاں آئین کے غداروں کو سلامیاں پیش کی جاتی ہیں‘ اس موضوع پر زیادہ لکھنا اس لئے بے فائدہ ہے کہ یہاں ڈکٹیٹروں کی تاریخ ہو‘ عدلیہ کی تاریخ ہو یا سیاست دانوں کی تاریخ‘ اس میں ’’مثال‘‘ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی‘ اس لئے آئیے  تازہ ترین مثالی فیصلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے  جیلوں میں قید ان ہزاروں قیدیوں کی آواز کو بھی ایوان عدل تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔عدالت عظمیٰ نے نااہل سابق وزیراعظم نواز شریف کو خالص طبی بنیادوں پر 6ہفتوں کے لئے سزا معطل کرکے رہائی کا حکم جاری کیا‘ سنا ہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل سے رہائی پا کر اپنے جانثاروں کے ہمراہ جاتی امرا محل میں پہنچ چکے ہیں اور اب نواز شریف کا علاج ان کے اپنے ہسپتال میں ہی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایسی بہت سی پوسٹیں گردش کر رہی ہیں جس میں مختلف جیلوں میں قید‘ قیدیوں کی طرف سے عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ بھی کسی دوسرے کیس میں مطلوب نہیں ہیں اور عرصہ دراز سے بیمار بھی ہیں لہٰذا ان کی سزائوں کو بھی 6,6ہفتے کے لئے معطل کرکے  انہیں بھی علاج کروانے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے...ایسی پوسٹیں لکھنے والوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ ان میں سے کس‘ کس کا نام نواز شریف ہے تو کیا اس کا بھائی شہباز شریف بھی ہے؟ کیا اس کی کوئی  بیٹی’’مریم‘‘ بھی ہے کہ جو جیل کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کر سکے؟ اگر اس کی کوئی بیٹی ’’مریم‘‘ بھی ہے تو کیا اس کے پاس ایسے متوالے کارکن بھی ہیں کہ جو ریلوے ٹریک پر قبضہ کرکے چلتی مسافر ٹرین کو روک سکیں؟ اور پھر ٹرین کے انجن پر چڑھ کر دیوانہ وار نعرہ بازی بھی کر سکیں؟
اگر نہیں ہیں تو وہ پھر منہ دھو رکھیں... اور ہنسی خوشی جیلوں میں ہی قیام پذیر ہیں کیونکہ نواز شریف اور عام قیدیوں میں اتنا ہی فرق ہے کہ جتنا آسمان اور زمین یا پھر جتنا سیور بلب اور آسمان پہ کرنیں بکھیرتے ہوئے سورج میں‘ عام قیدیوں اور قیدی نواز شریف کے حقوق کیسے برابر ہوسکتے ہیں؟ عدلیہ ہو‘ حکومت ہو یا لبرل انتہا پسند ویسے تو یہ عورتوں کے حقوق کی برابری کے خوب دعویدار ہیں‘ جانوروں کے حقوق کے بھی‘ باتوں کی حد تک دعویدار ہیں‘ لیکن جب بات آتی ہے نواز شریف اور عام قیدیوں کے حقوق کی تو پھر یہ حقوق تقسیم ہو جاتے ہیں‘ نواز شریف کی 6ہفتوں کے لئے چاہے طبی بنیادوں پر ہی سہی مگر فیصلہ تو سامنے آیا‘ جو اس فیصلے کو دیکھ کر سر پکڑے بیٹھے ہیں ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ سر کو چھوڑ کر ’’ہنسنے‘‘ کی کوشش کریں‘ کیونکہ ہنسنے اور مسکرانے سے خون کا دبائو کم ہو جاتا ہے‘ ایسے مثالی فیصلوں پر ’’ہنسنا‘‘ بھی شاید صدقے کے برابر ثواب کا درجہ رکھتا ہو‘ لیکن اس کا فتویٰ ہر شخص اپنے قریبی مفتی سے طلب کرے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
ہم تو جمہوری پارٹیوں کی اعتدال پسندی کے روز اول سے ہی قائل رہے ہیں‘ نواز شریف کو رہا کروانے کے لئے دبائو ڈالنا ہو تو ریلوے پٹڑیوں پر قبضہ کرکے چلتی ٹرینیں روک لی جاتی ہیں... آصف و بلاول کو نیب طلب کرلے تو کارکن نیب کے دفتر کی دیواریں پھلانگنے پر آجاتے ہیں‘ پولیس رکاوٹ بنے تو جیالے پولیس والوں کو زخمی کر ڈالتے ہیں‘ ایم کیو ایم جمہوریت کی چھتری تلے آئے تو کراچی پچاس برس پیچھے چلا جائے‘ بوری بند لاشیں‘ انسانوں کے کٹے پھٹے جسم گرائونڈوں سے ملنا معمول بن جائے‘ بلدیہ فیکٹری میں ڈھائی سو سے زائد مزدوروں کو زندہ جلانے کے باوجود 12مئی کے دن کراچی کی سڑکوں پر انسانوں کو چن چن کر مارنے کے باوجود ایم کیو ایم آج بھی وفاقی حکومت کا حصہ ہے‘ مطلب یہ کہ ’’جمہوری ہو جا اور جو دل چاہے کرتا چلا جا‘‘۔
 ہمارے ہاں شاید جمہوریت کا اصل حسن یہی سمجھا جارہا ہے لیکن جنہوں نے قومی خزانے کو‘ شیر مادر کی طرح لوٹ کر بے گناہ پاکستانیوں پر بھوک اور ننگ کو مسلط کیا جنہوں نے  امریکہ اور دیگر عالمی صہیونی طاقتوں کی اطاعت میں ملک کو کھنڈر بنانے کی کوشش کی۔ یعنی کہ ’’جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو ان کا  حساب ہوگا‘ ان شاء اللہ ضرور ہوگا‘ اللہ کی پکڑ سے نہ پہلے کوئی ظالم بچا ہے اور نہ آئندہ بچ سکے گا اور اگر سب کچھ اقتدار‘ طاقت اور دولت  ہی ہوتی تو پھر فرعون اور نمرود کبھی نمونہ عبرت نہ بن سکتے۔ 
ہم بھی عجیب قوم ہیں بچوں اور بچیوں کو سنگر‘ اداکار‘ کھلاڑی اور ماڈریٹ بنانے کے لئے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں‘ لیکن جب کسی قریبی عزیز کا انتقال ہو جائے تو پھر پانی بھری آنکھوں کے ساتھ منہ بسورتے ہوئے ہر ایک سے کہتے پھرتے ہیں کہ وہ ایک دفعہ سورہ فاتحہ او تین دفعہ سورہ اخلاص پڑھ کر ہمارے مردے کو بخش دے‘ میں ایسے پاپ سنگر کو جانتا ہوں کہ جس کے والد کا انتقال ہوا تو وہ ہر ایک سے لجاجت بھرے انداز میں اپنے مردہ والد کے ایصال ثواب کے لئے  سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھنے کی بھیک مانگ رہا تھا لیکن خود اسے کلمہ طیبہ بھی درست انداز میں پڑھنا نہیں آتا تھا‘ یہ جو جمہوریت کے نام پر پارٹیاں بنا کر صاحب اقتدار بنے یا جو بننا چاہتے ہیں کوئی ان سے پوچھے کہ آخر یہ قوم کو بتائیں تو سہی کہ جمہوریت کس ’’چڑیا‘‘ کا نام ہے‘ یہ جب اقتدار میں رہے یا جو‘ اب بھی اقتدار میں ہیں انہوں نے قوم کے جوانوں اور بچوں کے لئے کون سے اخلاقی معیار چھوڑتے ہیں؟
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) باریاں بدل بدل کر اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہے لیکن ستر سالوں میں یہ طے نہ کر سکے کہ پاکستان اسلامی ہے یا سیکولر؟ عمران خان نام ریاست مدینہ کا لیتے ہیں لیکن خان کے کام سارے سیکولر ہیں۔


 

تازہ ترین خبریں