11:34 am
نیب کے لئے وسیع اختیارات، اہم گرفتاریاں!

نیب کے لئے وسیع اختیارات، اہم گرفتاریاں!

11:34 am

٭نوازشریف اپنے خاندانی ہسپتال میں زیر معائنہ، سرکاری پروٹوکولO نیب کو پیشگی اطلاع کے بغیر گرفتاریوں کے وسیع اختیارات O عمران خان کا امریکہ میں اعلیٰ خیر مقدم ہو گا، بھارت کی روکنے کی کوشش O حکومت نہیں گرائیں گے، بلاول زرداری O مقبوضہ کشمیر شوپیاں، ہندواڑہ میں مزید تین افراد شہید O منی لانڈرنگ کا ذمہ دار مراد علی شاہ ہے، قائم علی شاہ O آسٹریلیا پاکستان میں 50 لاکھ بھیڑوں کی افزائش کرے گا O  غیر ملکی پٹرولیم کمپنی کی ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری O سانحہ ساہیوال کے 6 ملزموں پر فرد جرم۔
 
٭نوازشریف کو ان کے اہل خانہ اپنے خاندانی ہسپتال، شریف میڈیکل کمپلیکس میں لے گئے۔ یہ ہسپتال رائے ونڈ روڈ کے قریب نوازشریف کی رہائش گاہ جاتی عمرا کے سامنے سڑک کے پاس واقع ہے۔ اس میں ہر قسم کے جدید آلات موجود ہیں۔ نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور دوسرے ڈاکٹروںنے معائنہ کیا پھر گھر واپس آ گئے۔ رپورٹیں بعد میں ملیں گی۔ دریں اثنا سابق وزیراعظم کی حیثیت سے نوازشریف کو سرکاری پروٹوکول فراہم کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی ایک گاڑی میں پانچ مسلح اہلکار تین شفٹوں میں ساتھ رہیںگے۔ جاتی عمرا کے اردگرد بھی 30 پولیس اہلکار سکیورٹی کے فرائض انجام دیںگے۔جاتی عمرا کے ذرائع کے مطابق لندن سے نوازشریف کے سابق معالج ڈاکٹر لارنس کو بھی بلائے جانے کا امکان ہے۔ نوازشریف کو سپریم کورٹ نے علاج کے لئے چھ ہفتے کی عارضی رہائی دی ہے۔ اسکے لئے ایک کروڑ روپے کا ضمانت نامہ جمع کرایا گیا ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق رہائی میں توسیع کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا سکے گا۔ ہائی کورٹ نے اجازت نہ دی تو چھ ہفتے کے بعد ضمانت خود بخود منسوخ ہو جائے گی اور نوازشریف خود کو پولیس کے حوالے کر دیں گے جو انہیں جیل میں پہنچا دے گی۔ نوازشریف کو پاکستان سے باہرجانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
 قانونی ماہرین کے مطابق نوازشریف کی مشروط رہائی ان کے لئے مسئلہ بن گئی ہے۔ صحت مند یا معمولی بیماری پرانہیں واپس جیل جانا ہو گا، کسی خطرناک بیماری کی تشخیص پر انہیں رہائی میں طویل توسیع مل سکتی ہے تاہم وہ جب بھی صحت یاب ہوں گے، جیل جانا پڑے گا۔ نوازشریف کا پانچ سرکاری میڈیکل بورڈ معائنہ کر چکے ہیں، ان کی رپورٹوں میں کسی خاص خطرناک بیماری کی نشان دہی نہیں کی گئی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ عارضی رہائی کے چھ ہفتے کی مدت یکم رمضان یعنی پہلے روزے پر ختم ہو گی۔
٭بھارت نے پاکستان کو پلوامہ کیس وغیرہ کے بارے میں جو ڈوزئیر (الزامات نامہ) دیا تھا، پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس کا جواب دے دیا ہے۔ اس کے بارے میں وزارت خارجہ نے تفصیلات جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق 91 صفحات کے اس ڈوزئیر کے چھ حصے ہیں۔ دو حصوں کا تعلق پلوامہ کے واقعہ سے ہے چار حصے عام واقعات کے بارے میںہیں۔ وزارت خارجہ نے پلوامہ والے حصے کا خصوصی جائزہ لیا ہے۔ بھارت نے ڈوزئیر میں پاکستان میں دہشت گردی کے 22 اڈوں کی نشاندہی کی ہے، ان میں سے کسی مقام پر کوئی ایسا اڈا موجود نہیں۔ دوسرے واقعات میں 90 افراد کو نامزد کیا گیا تھا ان میں سے 54 افراد کا کسی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، باقی افراد کے بارے میں مزید دستاویزات طلب کی گئی ہیں۔
٭امریکہ کی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ حکومت نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے دورہ کو خاص اہمیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے مطابق بہت اہم مہمان کی حیثیت سے عمران خان کا سرخ قالین والا استقبال اور گارڈ آف آنر ہو گا اور سینٹ اور ایوان نمائندگان کے دونوں ایوانوںپرمشتمل کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔ پاکستانی وزیراعظم کی یہ غیر معمولی پذیرائی بھارت کو ہضم نہیں ہو رہی۔ اس نے سفارتی سطح پر غیرمعمولی استقبال اور کانگریس سے خطاب رکوانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں تاہم امریکہ کے سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان امریکہ اور طالبان میں مذاکرات کے سلسلے میں جو اہم کردار ادا کر رہا ہے اسے مزید موثر بنانے کے لئے پاکستانی مہمان کی اہم پذیرائی ضروری ہے۔
٭بلاول زرداری کا ٹرین مارچ لاڑکانہ پر ختم ہو گیا۔ دو روز تک وفاقی حکومت کے خلاف سخت بیانات کے بعد ایک بیان میں بلاول نے کہا ہے کہ خان صاحب فکر نہ کریں ہم ان کی حکومت نہیں گرائیں گے۔ یہی بات پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہی ہے! اس پر تحریک انصاف کے ایک ترجمان نے ہنستے ہوئے تبصرہ کیا ہے کہ یہی بات ایک لومڑی نے کہی تھی جس نے بار بار اچھل کر انگوروں کی بیل پر لگے گچھے تک پہنچنے میں ناکام ہو کر کہا تھا کہ انگور کھٹے ہیں، میں نہیں کھا سکتی۔
٭سپریم کورٹ نے اہم تشریح کی ہے کہ قانون کے مطابق ٹھوس ثبوت مل جانے پرنیب کسی بھی ملزم کو پیشگی اطلاع کے بغیر گرفتار کر سکتاہے۔ نیب نے کچھ عرصہ سے اہم افراد کے خلاف سنگین الزامات کی بنا پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس عمل کو سپریم کورٹ میںچیلنج کیا گیا تھا اس وقت ملک میں دو قسم کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ عام پولیس کے پاس کسی شخص کے خلاف کوئی مقدمہ درج کرایا جائے تو پولیس ملزم کے بارے میں تحقیقات کرتی ہے اور قابل مواخذہ جرم کی بنا پر اسے گرفتار کر کے عدالت میں چالان پیش کر دیتی ہے۔
  ایف آئی اے اور بعض دوسری ایجنسیاں کسی سنگین جرم خاص طور پر ملکی سلامتی اور عوام کے مفاد کے منافی کسی جرم کی اطلاع پر فوری طور پر ملزم کو گرفتار کر کے بعد میں تحقیقات مکمل کرتی ہیں۔ پولیس کے پاس ڈاکہ، چوری، قتل وغیرہ کے عام کیس آتے ہیں مگر ایف آئی اے اور ملکی سلامتی کے تحفظ کی ذمہ دار ایجنسیوں کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ ملکی یا عوام کی سلامتی کے منافی سنگین جرائم پر فوری اقدام کی بجائے تحقیقات میں وقت صرف کریں۔ ایسی تحقیقات کے دوران ملزم روپوش یا ملک سے فرار ہو سکتا ہے۔ نیب کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وسیع پیمانہ پر منی لانڈرنگ وغیرہ پر فوری کارروائی ناگزیر ہوتی ہے۔ مبصرین کے مطابق نیب اب کسی بھی وقت ملک کے تقریباً 10 اہم ’بڑوں‘ پر فوری ہاتھ ڈالنے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔
٭ایک سید بادشاہ کے دوسرے سیدبادشاہ کے بارے میں خیالات: سندھ کے 85 سالہ سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو نیب نے راولپنڈی بلایا۔ ان سے تقریباً 40 منٹ تک پوچھ گچھ کی گئی۔ اہم سوالات ان کے دور میں جعلی اکائونٹس کے ذریعے اربوں کی منی لانڈرنگ کے بارے میں تھے۔ سید قائم علی شاہ نے خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے صاف صاف کہا کہ ان کے دور میں سید مراد علی شاہ وزیرخزانہ تھے وہی اس کے ذمہ دار تھے! قارئین کرام! یہ دو سید بادشاہوں کا آپس کا مسئلہ ہے، دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے!
٭آسٹریلیا سے عرب ممالک کو بھاری مقدار میں بھیڑوں کا گوشت فراہم کیا جاتا تھا۔ حکومت کو علم ہوا کہ ملک میں بھیڑیں بہت کم ہو گئی ہیں اور خود آسٹریلیا میں گوشت کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ اس پر آسٹریلیا سے گوشت کی برآمد پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس سے عرب ممالک میں اچانک گوشت کی شدید قلت ہو گئی ہے جب کہ آسٹریلیا کے گوشت کے بے شمار برآمد کنندگان بھی سخت پریشانی سے دوچار ہو گئے ہیں۔ اس صورت حال کے حل کے لئے آسٹریلیا کی ایک مشہور لائیو سٹاک کمپنی نے سعودی عرب اور سنگا پور کے اشتراک سے پاکستان میں 50 لاکھ بھیڑوں کی افزائش کے لئے تقریباً 21 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق عرب ممالک کے مقابلہ میں پاکستان کی آب و ہوا اور دوسرے وسائل بہت بہتر اور موزوں ہیں۔ اس کاروبار سے پاکستان میں تقریباً 20 ہزار افراد کو روزگار فراہم ہو سکے گا۔
 

تازہ ترین خبریں