07:48 am
بت پرست یابت شکن

بت پرست یابت شکن

07:48 am

کیامعرکہ پاک وہندمحض دوقوموں کاتصادم ہے؟ ہرگزنہیں بلکہ یہ توبت فروشوں اوربت شکنوں کے درمیان ایک جاری کشمکش ہے جوہمارے آقانبی کریم ﷺ نے شروع کی تھی ۔ یہ نظریاتی لڑائی ہے ،کفرکی یلغارہے جس کاہمیں ہردم مقابلہ کرنے کاحکم ہے اور ہماری بقابھی اسی میں ہے بلکہ یہ امتحان توہماری عقبیٰ وآخرت کی نجات کاوسیلہ بنے گاتاہم اس مرحلہ میں دوستوں اوردشمنوں کی پہچان ہوتی ہے،دلوں میں سجائے بت اورایمانی جذبے ابھرکرسامنے آتے ہیں اورنقابوں کوتارتارکردیتے ہیں۔کلمہ گو کو ایک  صف میں کھڑادیکھ کر کفرتلملاجاتاہے اور منافق مسکراتاہے۔ اب پھرایمانی للکارہے اور کفر کی جھنکارہے۔پاکستان نظریہ اسلام کی بنیاد پر معرضِ  وجودمیں آیا ،یہ کسی فتح کے نتیجے میں مسلمان ریاست نہیں بنا۔اب اس نظریاتی ریاست پربت فروشوں بلکہ بت پرستوں کی یلغارہے اور مکار مودی کاموذی سانپ پھنکاررہاہے اور گجرات کے مسلمانوں کے بے رحمانہ خون بہانے والے اس سانپ کاپھن کچلنے کاوقت آن پہنچاہے۔
 
مودی مکاری کاوہ استعارہ ہے جو مسلمانوں کے کشت وخون کونہ صرف اپنے اقتدار کے دوام کیلئے جائزسمجھتاہے بلکہ اب وہ اپنا اگلا انتخاب ارض وطن پربزدلانہ حملے کی سازشوں کی بناپرجیتناچاہتاہے لیکن اسے بری طرح منہ کی کھانی پڑی اوراپنے حالیہ اقدامات کے مقابلے میں بری طرح ہزیمت اٹھاناپڑی۔اقتدارکی بھوک اس کو خاکروبوں کے پاؤں دھلارہی ہے اوروہ پاکستان  کے محاذکوگرم رکھ کرکندن بننے کا خواب دیکھ رہاہے ۔ناحق کی پیداوارمودی اپنے اقتدار کیلئے اس کوعین حق سمجھتاہے اورمسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہاتھوں کو لہرا لہرا کر اپنے منہ سے جھاگ نکال رہاہے اوراس سلسلے میں وہ اپنے اس مکروہ  چہرے کواجاگرکرکے متعصب ہندوؤں کو اپنی  مددکیلئے پکاررہاہے مگرافسوس تو اس  بات پر ہے کہ 14 فروری کوپلوامہ میں ہونے والے خودکش حملہ پربھارت نے جنگ کاراگ چھیڑ کر اچانک رات کی تاریکی میں اپنے مربی اسرائیل  اورامریکہ کی مددسے بالاکوٹ پاکستان کے ایک نواحی گاؤں کے جنگل میں بمباری کرکے تین عدددرختوں اورایک کوے کونقصان پہنچا کرپے لوڈ کرکے راہِ فراراختیارکرکے فتح کے شادیانے بجانے میں مصروف ہوگئے لیکن اگلی صبح کوہی پاکستان نے بھارت کایہ ادھارچکاکربھارت اور اس کے مربیوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کو حیران کردیااورمودی کی مکاری خودان کے گلے میں پڑ گئی اورخود ملک کی اپوزیشن مودی کی خوب خبر لے  رہی ہے اورعالمی میڈیامیں بھی مودی کی خوب جگ ہنسائی ہورہی ہے۔
بھارت کے اس مکارانہ کارروائی کے دوران ہمارے پڑوسی ایران کاایک روّیہ یہ بھی سامنے آیاکہ وہ اس نازک مرحلے میں بت پرست ریاست بھارت کی زبان ہی نہیں بول رہاہے بلکہ دامے درمے سخنے اس کی مددبھی کر رہا ہے۔ بھارت کی تیوری چڑھتی ہے توایران بھی اسی لہجہ میں بات کرنے لگتاہے،یہ کوئی محض اتفاق نہیں کہ  بھارت نے پاکستان کی سرحدوں پرفوج لگائی اور فضائیہ کوہائی الرٹ کیا توایران نے بھی پاکستان سے ملحق سرحدی علاقہ میں ایرانی فضائیہ کومتحرک کر دیا۔ بھارت نے دست اندازی  کے الزامات لگائے توایران نے بھی تکلیف دہ بیان داغ دیاکہ وہ بھی ایسی دست اندازیوں کاشکارہواہے اوراس کامحوردونوں پاکستان کو قرار دیتے ہیں ۔
ایسا محسوس ہوتاہے بلکہ یہ حقیقت بھی ہے کہ بھارت کی ایماءپرایران،پاک فوج کودوسری سرحدوںپرمصروف رکھناچاہتاہے تاکہ بھارت کو پاکستان کی سرحدوں پرزیادہ مزاحمت کا سامنا نہ کرناپڑے۔اگریہی صورتحال رہی توبھارت کے حملہ کے دورانیہ میں ایرانی چھیڑچھاڑکے امکانات بڑھ چڑھ کررہیں گے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایران کو برادر مسلم ملک کادرجہ دیا۔جب بھی ایران پرکڑاوقت آیا، پاکستان نے ایران کے ساتھ اسلامی بھائی چارے کاروّیہ رکھا۔سابق وفاقی وزیرداخلہ نصیراللہ بابرنے توایک انٹرویومیں انکشاف بھی کیاتھاکہ جنرل ضیاء الحق کی شہادت کی ایک بڑی وجہ ایران کوامریکی اسٹنگر میزائل کی فراہمی بھی تھی جوعارف حسینی کے ذریعے خفیہ طورپربھجوائے گئے تھے اورجس سے ایران نے امریکاکاطیارہ مارگرایاتھااورجب امریکا کوعارف حسینی اورضیاء الحق کی اس حرکت کاپتہ چلاتوپہلے مرحلے میں عارف حسینی اوربعدازاں جنرل ضیاء الحق کوان کے ساتھیوں سمیت شہید کرا دیا گیا۔ پاکستان کے سربراہ کی شہادت کی ایک اہم وجہ ایران سے اسلامی بھائی چارہ ہی بنی ۔
پاکستان پرتویہ بھی الزام لگاکہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں مددکررہاہے اوران ہی الزامات کی بدولت پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے مایہ نازخالق ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو نیو کلیئر پروگرام سے ہٹایاگیا اورانہوں نے قیدوبندجیسی انتہائی تکلیف دہ صورتحال کاسامناکرناپڑا۔یہ بھی کہاجارہاہے کہ ایران کے پاس جوسینٹری فیوج موجودہیں ،وہ پاکستان کے فراہم کردہ ہیں ۔ایک مرتبہ ایران کی انقلابی حکومت کاتختہ الٹنے کے امریکی منصوبے کی بروقت اطلاع بھی پاکستان کے جنرل حمیدگل نے فراہم کی جب وہ آئی ایس آئی کے سربراہ تھے ،جس کی انہوں نے مجھ سے ایک ملاقات میں خودتصدیق بھی فرمائی اوریہی وجہ تھی کہ ایران کے تمام حلقوں میں مرحوم جنرل حمیدگل کاحددرجہ احترام تھالیکن مرحوم حمید گل زندگی کے آخری دنوں میں ایک انتہائی اہم مشن پرکام کررہے تھے لیکن ایرانی روّیے نے ان کوبہت بددل کردیاتھا جس کاتذکرہ انہوں نے مجھ سے ایک ملاقات میں بھی کیاتھا لیکن امت مسلمہ کے وسیع ترمفادکیلئے اس کایہاں تذکرہ مفیدنہیں تاہم افسوس اس بات کاہے کہ ایران کی طرف سے اسلامی اخوت کاجواب موصول نہیں ہوا۔یہ پاکستان کاتلخ تجربہ ہے کہ ایران نے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کاہمیشہ ساتھ دیا، وہ چاہ بہارکی صورت میں ہویا پھر کوئی اورمعاملہ ،اس نے مسلکی بغض میں بت پرستوں سے ہاتھ ملانے میں کوئی عارمحسوس نہیں کی اورامت مسلمہ کو شرمندہ کیا۔ذراسی دیر کیلئے وہ سوچ لے کہ وہ کیا کررہاہے اور کیا کرنے چلاہے۔ ایک اسلامی ریاست کہلانے والے کی یہ شان ہے جوایران اس وقت دکھارہاہے؟اگربھارت سے جنگ ہوئی تو پاکستان فاتح جنگ ہوگا ،اس فتح کی سند حضور اکرم ﷺ نے دی ہے۔بھارت کاساتھ دیکر ایران روزِ محشرحضورﷺ کوکیامنہ دکھائے گا؟ہم نیک وبدایران کوبتائے جاتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں