07:49 am
مولانا مسعود ازہر سمیت سارے بے گناہ نکلے

مولانا مسعود ازہر سمیت سارے بے گناہ نکلے

07:49 am

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمدفیصل کہتے ہیں کہ ’’پلوامہ پر بھارتی ڈوزیئر  پر پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکمل تعاون کیا  اور تحقیقات کیں‘ بھارتی مراسلے پر54  افراد کو گرفتار کیا ‘تحقیقات کیں تو مولانا محمد مسعود ازہر سمیت کسی کا تعلق بھی پلوامہ حملے سے ثابت نہیں ہوا‘ پاکستان آگے بڑھنے کے لئے بھارت کی طرف سے مزید شواہد اور معلومات کاانتظار کررہا ہے‘‘۔
 
اب میرا سوال ہے ان دانشوروں‘ تجزیہ کاروں‘ ا ینکرز ‘ ا ینکرینوں اور سیاستدانوں سے کہ جو بھارتی مراسلے کی بنیاد پر مولانا مسعود ازہر سمیت دیگر جہادیوں پر گز گز بھر لمبی زبانیں نکال رہے تھے ‘ بھارتی الزامات کو بنیاد بناکر مولانا ازہر اور جہادیوں کو پاکستان پر بوجھ قرار دے رہے تھے۔  دفتر خارجہ کے ترجمان کے مندرجہ بالا بیان کے بعد کیا وہ مولانا محمد مسعود ازہر یا جہادیوں سے معافی مانگیں گے؟
’’معافی‘‘ تو حکومت کو بھی مانگنی چاہیے محض بھارت کی چیخ و پکار پر درجنوں بے گناہ پاکستانیوں کو گرفتار کرکے قیدخانوں کا رزق بنادینا کوئی معمولی بات نہیں ہے؟ جب بے گناہ انسانوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ٹھونسا جائے گا تو اس سے قانون مذا ق بن کر رہ جائے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹی وی چینلز کے بعض تجزیہ کار‘ ا ینکرز ‘ اینکرنیاں اور سیاست دان اپنے تجزیوں اور کالموں کے لئے مواد بھی دہلی سے ہی لیتے ہیں‘ ان کی اپنی نہ کوئی سوچ ہے اور نہ ویژن… ہمارے انگلش میڈیا میں گھسے ہوئے بعض راتب خور پاکستانیت اور اسلام کے حوالے سے تو ذہنی طور پر پہلے دن سے ہی فارغ تھے مگر وہ معلومات اور زمینی حقائق سے بھی تہی دست اور کورے نکلے۔بھارتی مراسلے  نے اور کچھ ثابت کیا یا نہیں؟ لیکن ان کی دانش وری اور تجزیہ کاری کا بھانڈہ بیچ چوراہے میں ضرور پھوڑ دیا۔
پیمرا کو بھی اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ بھارتی مراسلے کی آمد کے بعد ٹی وی چینلز کے  سٹوڈیوز میں بیٹھ کر کس کس دانشور یا اینکر نے بے گناہ اور معزز پاکستانیوں کو انڈیا کو خوش کرنے کے لئے دہشت گرد اور پاکستان پر بوجھ قرار دیا تھا‘ پاکستانیوں کی توہین کے جرم میں ایسے بدبختوں پر جرمانے عائد کرنا چاہئیں۔
دہلی کے عائد کردہ الزامات کی بنیاد پر اپنے کالموں یا ٹی وی چینلز کے ذریعے پاکستانیوں کی توہین کرنے والے یہ دانش چور اس پاکستان پر ’’بوجھ‘‘ بنے ہوئے ہیں‘ یہ رہتے پاکستان میں ہیں‘ کھاتے کمانے پاکستان میں ہیں ۔ عزت اور شہرت پاکستان میں پاتے ہیں لیکن نمک حراموں کی طرح گن بھارت کے گاتے ہیں۔ پاکستانی قوم کو گمراہ کرنے والے ایسے دانش چوروں پر پابندی عائد کرنا ہی آج وقت کی آواز ہے۔
افسوس کہ ہمارے سروں پر الیکٹرانک چینلز نے ایسے دانشور اور تجزیہ کار مسلط کر دیئے ہیں کہ جن کی سوچ اور فکر کی جڑیں مغربی استعمار اور دہلی سرکار کے بیانیئے سے جاملتی ہیں۔ امریکہ‘ مغربی طاقتیں یا بھارتی سرکار جس مسلمان یا پاکستانی کی طرف انگلی اٹھائے یہ بھی بغیر سوچے سمجھے لٹھ اٹھا کر اس کے پیچھے  پڑ جاتے ہیں‘ انہیں پاکستان سے زیادہ امریکہ اور اس کے حواریوں پر اعتماد ہے۔ پاکستانی قوم پر  طنز کرنے سے تو یہ اپنے تجزیوں اور کالموں میں بھی نہیں  چوکتے … یہ تو اس قوم کی بد قسمتی ہے کہ یہ لوگ پاکستان میں پیدا ہوگئے اور پھر ’’دانشور‘‘ بھی بن بیٹھے۔
ٹی وی سٹوڈیوز میں بیٹھ کر پاکستانی قوم کو کبھی بدھو‘ کبھی بیوقوف اور کبھی جاہل قرار دینے والے یہ ’’دانشور‘‘ نما نمونے نہ اس قوم کی جان چھوڑتے ہیں اور نہ ملک کی۔ ان کے نزدیک پاکستان میں صرف اقلیتوں کے ہی حقوق ہیں‘ اکثریتی آبادی جائے بھاڑ میں‘ یہ دہلی میں جائیں تو مودی کے بن جاتے ہیں‘ لندن جائیں تو لندن والوں کے گن گاتے ہیں‘ امریکہ کے سفارت خانے میں جاکر پانی اور شراب کے فرق کو بھول جاتے ہیں‘ جن کی اپنی سوچ غلامانہ ہوگی‘ جن کی اپنی فکر مغرب کی گندگی سے لتھڑی ہوگی‘ جن کے دل و دماغ اسلام اور اسلام پسندوں کے خلاف بغض سے بھرے ہوں گے‘ ان کی دانشوری‘ تجزیہ کاری یا کالم نگاری سے اس قوم کو کیا فائدہ ہوگا؟
  ایک دوسری خبر کے مطابق ’’امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مولانا مسعود ازہر پر ’’بلیک لسٹ‘‘ کرنے کی تحریک دوبارہ پیش کر دی ۔ امریکی قرارداد کا مسودہ تیار کرنے میں برطانیہ اور فرانس نے مدد فراہم کی جبکہ چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ مولانا مسعود ازہر پر پاپندی کے مسئلے پر احتیاط برتی جائے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ کمیٹی کو نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ اس سے معاملہ پیچیدہ ہوگا۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مولانا محمد مسعود ازہر پر پابندی کا معاملہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور چین مذاکرات اور اتفاق رائے سے اس کے مناسب حل کے لئے کوششیں کررہا ہے۔
مجھے حیرت ہوتی ہے امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس کے شہ دماغوں پر کہ مولانا مسعود ازہر کا نہ کبھی امریکہ سے کوئی تعلق رہا اور نہ فرانس سے ‘ نہ ہی ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ امریکہ‘ برطانیہ یا فرانس میں واقع ہے۔ مولانا ازہر کشمیر میں بے گناہ انسانوں پر بھارتی فوج کے مظالم کے  خلاف ہیں‘ یہ وہی مقبوضہ کشمیر ہے کہ جس کے حق میں اقوام متحدہ میں حق خودارادیت کی قرارداد منظور ہوچکی ہے لیکن عالمی طاقتوں کے دوغلے پن اور منافقانہ کردار کا اندازہ لگائیں کہ ’’مودی‘‘ جیسے بدنام زمانہ قاتل اور انسانوں کے بدترین دشمن کے ایماء پر بار بار مولانا مسعود ازہر کو بلیک لسٹ کروانے کے لئے سلامتی کونسل میں تحریک پر تحریک پیش کی جارہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتوں کو مقبوضہ کشمیر میں بہنے والے بے انسانوں کے خون سے ذرا برابر بھی دلچسپی نہیں ہے۔


 

تازہ ترین خبریں