07:51 am
ہزاروں بے نامی اکائونٹس، اربوں کے گھپلے!

ہزاروں بے نامی اکائونٹس، اربوں کے گھپلے!

07:51 am

٭ہزاروں غیر قانونی بے نامی اکائونٹس کا انکشاف، اربوں کے گھپلے، منی لانڈرنگO ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اغوا کو 16 برس ہو گئے 98Oارب ڈالر کے قرضے گم ہو گئے، چیئرمین نیب O افغانستان میں امریکی سفیر کو وفاقی وزراء کا سخت جواب O سندھ میںبھی پولیس کی وردی تبدیل، تجوریاں بھرنے کاکروڑوں کا ’فائدہ بخش‘ منصوبہO کراچیO فائیو سٹار ہوٹل کے غیر ملکی جنرل منیجر کا کمرہ سربمہر، مشکوک سامان برآمد O لاہور نالج پارک! پانچ برسوں میں ابتدائی کام بھی مکمل نہ ہوا، کروڑوں کے اخراجات، 20 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری واپس O مقبوضہ کشمیر، مزید دو کشمیری شہید 13 O مئی کو آئوں گا، مشرف کا پیغام۔
 
٭قارئین کرام! آج ایک بالکل مختلف بات سے کالم کا آغاز کر رہا ہوں۔ میں روزانہ صبح اٹھ کر سب سے پہلے ڈبل روٹی یا عام روٹی کے ٹکڑے پانی سے نرم کر کے ایک پلیٹ میں رکھ کر گھر کی دیوار پر رکھ دیتا ہوں۔ گھر کے باہربجلی کی تاروں پرایک کوا اور کچھ چڑیاں ناشتہ کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ پہلے ایک کوا آتا ہے، چونچ بھر کر لے جاتا ہے پھر چڑیاں آ کر ناشتہ کرتی ہیں۔ جس روز ذرا دیر ہو جائے تو کوا کائیں کائیں کرنے لگتا ہے اور چڑیاں چوں چڑ چو، کا شورمچا دیتی ہیں۔ یہ عمل ایک عرصہ سے بہت پرامن طریقے سے جاری تھا مگر کچھ عرصے سے اچانک کچھ طبقاتی قسم کے مسائل دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ آج (جمعہ) کسی وجہ سے میری آنکھ دیر سے کھلی، باہر چڑیوں نے شورمچا رکھا تھا۔ میںنے دیوار پر ان کا ناشتہ رکھ دیا۔ سب سے پہلے روزانہ آنے والا ایک کوّا آیا، پہلے وہ چونچ بھر کر لے جاتا تھا مگر آج اچھی طرح کھانے کے بعد چلے جانے کی بجائے وہیں بیٹھ کر ایک عجیب دردناک سی آواز نکالی۔ اک دم ادھر ادھر سے دس بارہ کوے آکر پلیٹ کے گرد بیٹھ گئے اور جی بھر کر کھا کر چلے گئے۔ چڑیاں دور بیٹھی دیکھتی رہیں۔ کوے چلے گئے تو وہ پلیٹ کے پاس آئیں مگر ایک طرف سے ایک موٹا سا چڑا (نر چڑیا)، وہاں آیا اور تمام چڑیوں کو چونچ مارمار کر بھگا دیا۔ جب تک اس نے جی بھر کھانہ لیا، چڑیاں پلیٹ کے پاس نہ آ سکیں۔ میں یہ منظر دیکھ رہاتھا کہ ہاتھ میںپکڑے اخبار کی ایک خبر پر نظر پڑی کہ ایف بی آر نے ہزاروں بے نامی اکائونٹس پکڑے ہیں جن کے مالک اربوں کھا گئے یا باہر سمگل کر دیئے۔ ایک موجودہ وفاقی وزیر کی خبر بھی نمایاں دکھائی دی کہ یہ صاحب نیب کی ایک محفوظ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سیاست میں آنے اور وزیر بننے سے پہلے معمولی زمیندار تھے، 2002ء میں سیاست میں آئے اور پہلی بار وفاقی وزیر بنے، اب ان کے پاس تقریباً ایک کھرب (100، ارب) روپے کے اثاثے ہیں ان میں چار شوگر ملیں، پانچ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں، چار کاروباری ادارے (ایک لندن میں)، تین دوسری کمپنیاں ہیں۔ شائع شدہ خبر کے مطابق نیب نے یہ رپورٹ مکمل کر کے کسی جگہ بند کر رکھی ہے، اسے باہر لانے میں کوئی رکاوٹ درپیش ہے! قارئین کرام! شائد آپ کو میری بات بے تکی لگے مگر ان دو خبروں سے مجھے جاری چڑیوں کا ناشتہ کھانے والے کالے کوے اور پھر چڑیوں میں سے ایک موٹے چڑے کی طبقاتی زیادتی یاد آ گئی ہے۔ پتہ نہیں ان پرندوں نے یہ باتیں کہاں سے سیکھیں؟
٭کل31 مارچ ہو گی۔16 برس پہلے اس ملک کے ایک سیاہ بخت ڈکٹیٹر ’جنرل پرویز مشرف‘ نے پاکستان کی ایک معصوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اغوا کر کے امریکی بھیڑیوں کو فروخت کر دیا تھا! 16 برس! یہ بیٹی اب بھی امریکہ کی ایک جیل میں ہے (اغوا کے وقت شیخ رشید نام کے ایک صاحب اس کٹیٹر کے وزیراطلاعات تھے، آج بھی وزیر ہیں۔ آج تک عافیہ بیٹی کا نام نہیں لیا) ۔پرویز مشرف کے بعد آصف زرداری نام کے ایک صدر اور نوازشریف نام کے ایک وزیراعظم آئے، ان دونوں نے بھی مکمل ڈکٹیٹر کے طور پر حکمرانی کی، اربوں ادھر ادھر کئے، باہر اربوں کھربوں کے اثاثے بنائے۔ نوازشریف نے چند ایک بار عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے بلند اعلانات بھی کئے مگر امریکہ کے سامنے عافیہ کی رہائی کی بات کرنے کی جرأت نہ کر سکی۔ موجودہ وزیراعظم عمران خاں نے بھی ایک آدھ بار عافیہ صدیقی کی امریکی پنجوں سے رہائی کی بات کی پھر یہ بات بھی آئی گئی ہو گئی، صرف اتنی سی بات سامنے آئی کہ افغانستان کے طالبان نے امریکہ سے مذاکرات کے دوران یہ عافیہ کی رہائی کا مسئلہ اٹھایا ہے، اس کا کیا نتیجہ نکلا ہے؟ کچھ پتہ نہیں۔ ہاں قدرت کا نظام دیکھیں کہ جنرل مشرف دبئی میں بستر پر پڑا ہے، چل پھر نہیں سکتا۔ ملک کا مفرور قرار پا چکا ہے۔ جائیداد ضبط ہو چکی ہے اور وارنٹ گرفتاری نکل چکے ہیں۔ نوازشریف جیل میں طویل قید کی سزا کی زد میں !عارضی رہائی، دل کی پیچیدہ بیماری، صحت یاب ہونے پر پھر جیل اور آصف زرداری! بہن کے ساتھ عدالتوں میں پیشیاں، بار بار ضمانتیں! قدرت کسی کو معاف نہیں کرتی!
٭بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں مزید دو افراد شہید کر دیئے۔ چار دنوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد9 ہو چکی ہے۔ پاکستان کا احتجاج اپنی جگہ مگر سعودی عرب، عرب امارات، کویت، قطر، بحرین، اُردن، عراق، شام وغیرہ کو کچھ دکھائی، سنائی نہیں دیتا؟ بلکہ پورا عالم اسلام کہاں ہے؟ نیم مردہ اسلامی سربراہی کانفرنس کی بھی آنکھیں بند ہیں! مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بھیڑیوں کی بربریت بڑھتی جا رہی ہے…اور…اور ہر ملک میں جشن بہاراں منایا جا رہا ہے۔الامان!
٭ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے تجویز دی کہ افغانستان میں مستقل امن کے لئے ایک عارضی عبوری مشترکہ قومی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔ اس پر بھارت کا چوبدار صدر اشرف غنی بپھر گیا! پاکستان سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔ اس کی بلبلاہٹ تو سمجھ میں آ سکتی ہے مگر افغانستان میں امریکی سفیرجون روڈنی باس نے بھی بددماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان کو تنبیہہ کی کہ تم کرکٹر ہو، گیند کی ٹمپرنگ کرتے رہے ہو، بہتر ہے کرکٹر ہی رہو ،مگر افغانستان کے معاملہ میں گیند کی ٹمپرنگ مت کرو!‘‘ ۔اس پر بیک وقت چار وفاقی وزیر ابل پڑے ہیں۔ علی زیدی نے کہا ہے کہ مسٹر روڈنی، تم ملکوں ملکوں پھرے مگر سفارتی عقل نہ آئی، افسوس کہ تمہیں اچھے سفیروں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا، اسد عمر نے کہا کہ روڈنی تمہیں کرکٹ کا کچھ علم نہیں! باتیں کرکٹ کی کر رہے ہو۔ شیریں مزاری نے روڈنی کو ایک بونا قرار دیتے ہوئے مجسم جہالت قرار دیا ہے اور عمر ایوب نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں بات کرنے سے پہلے کہیں سے سفارتی آداب سیکھ کر آئو! یہ مذاکرہ دلچسپ ہوتا جا رہا ہے۔مجھے امریکہ کی ایک سابق سیاہ فام وزیرخارجہ کنڈولیزارائس یاد آ گئی ہے۔اس نے اپنی کتاب 'Twice as Good' میں لکھا ہے کہ میں پاکستان گئی تو وہاں کے وزیراعظم شوکت عزیز نے میرے ساتھ رومانوی انداز میں فلرٹ کرنے کی کوشش کی تھی جسے میں نے سختی کے ساتھ روک دیا۔ شوکت عزیز کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے جواب دیا کہ کیا مجھے فلرٹ کرنے کے لئے یہ کالی عورت ہی ملی تھی!
٭کھلی مارکیٹ میں ڈالر 142 روپے کا ہو گیا۔ 150 تک جائے گا۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ۔
٭کراچی میں ایک فائیو سٹارہوٹل کے جنرل منیجر کے کمرے سے بہت سی مشکوک نمبر پلیٹیں اور دوسرا سامان پکڑا گیا ہے کمرے کو سربمہر کر دیا گیا ہے۔ جنرل منیجر سٹاک ایک سفارتخانے میں رہتا ہے۔
٭ایس ایم ایس: بنوں کی یونین کونسل کوٹ قلندر میں شہید کی قبر کے ساتھ ہماری 22,20 گھروں کی آبادی ہے۔ یہاں بجلی نہیں ہے۔ بار بار درخواستیں دیں، بڑے لوگوں کو بھی ملے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ ہماری اپیل چھاپ دیں کہ ہمیں بجلی فراہم کی جائے۔ شائق الزمان۔ یونین کونسل کوٹ قلندر!

 

تازہ ترین خبریں